رَوَی اَبُو هُرَيْرَةَ اَنَّ اَبَا بَكْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِی اللّٰهُ عَنْهُ وَ عَلِیَّ بْنَ اَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَدَمَا یَوْمًا اِلَی حُجْرَۃِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیهِ وَآلِهِ وَسَلِّم فَقَالَ عَلِیٌّ لِاَبِی بَکْرٍ: تَقَدَّمْ فَکُنْ اَوَّلُ قَارِعٌ یَقْرَعُ الْبَابَ وَاَلَحَّ عَلَیْهِ فَقَالَ اَ بُو بَکْرٍ تَقَدَّمْ اَنْتَ یَاعَلِیُّ
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ یہ دونوں ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ اقدس کے پاس حاضر ہوئے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا اے ابوبکر آپ آگے بڑھ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دی اور اسے کھولنے کی التجا کریں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ نہیں علی آپ آگے بڑھیے
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: مَا کُنْتُ بِالَّذِی یَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیهِ وَآلِهِ وَسَلِّم فِی حَقِّهِ: « مَا۔طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ مِنْ بَعْدِی عَلَی رَجُلٍ اَفْضَلُ مِن اَبِی بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ»
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھے گا جس کے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد کسی ایسے شخص پر سورج طلوع اور غروب نہ ہوگا کہ وہ بکر صدیق سے افضل ہوگا
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: مَا اَنَا بِالَّذِی یَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ :
« اَعْطَیْتُ خَیْرَ النِّسَاءِ لِخَیْرِ الرّّجَالِ »
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھے گا جس کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں سب سے بہترین خاتون ( فاطمہ رضی اللہ عنھا) سب سے بہترین مرد (علی رضی اللہ عنہ) کو عطا کی
فَقَالَ عَلِیٌّ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلَی صَدْرِ اِبْرَاھِیْمَ الْخَلِیْلِ فَلْیَنْظُرْ اِلَی صَدْرِ اَبِی بَكْرٍ الصِّدِّيقِ »
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں بھی ایسے شخص سے آگے نہ بڑھوں گا جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا سینہ دیکھنا چاہے وہ ابوبکر کا سینہ دیکھ لے
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلَی آدَمَ وَ اِلَی یُوسُفَ وَحُسْنِهِ وَاِلَی مُوْسَی وَ صَلَاتِهِ وَاِلَی عِیْسَی وَزُھْدِہِ وَاِلَی مُحَمَّدٍ وَخُلُقِهِ فَلْیَنْظُرْ اِلَی عَلِیٍّ »
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں بھی ایسے شخص سے آگے نہ بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدم علیہ السلام کو، یوسف علیہ السلام اور ان کے حسن کو، موسی علیہ السلام اور ان کی نماز کو، حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے زہد کو، مجھ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اور میرے خلق کو دیکھنا چاہے تو وہ علی کو دیکھ لے
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « اِذَا اجْتَمَعَ الْعَالَمُ فِی عَرَصَاتِ القِیَامَةِ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ وَالنَّدَامَةِیُنَادِی مُنَادٍ مِنْ قِبَلِ الْحَقِّ عَزَّوَجَلَّ : یَا اَبا بَکْرٍ اَنْتَ وَ مَحْبُوبُکَ الْجَنَّة»
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا کہ میدان محشر میں حسرت و ندامت کے دن جب مخلوق جمع ہوگی تو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک ندا دینے والا ندا دے گا کہ ابوبکر تم اور تم سے محبت کرنے والے جنت میں داخل ہو جائیں
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ وَ خَیْبَرَ وَقَدْ اُھْدِیَ اِلَیْهِ تَمَرٌ وَ لَبَنٌ « ھَذِہِ ھَدْیَةٌمنَ الطَّالِبِ الْغَالِبِ اِلَی عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ»
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں بھی اس شخص سے کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن دودھ اور کھجور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ہدیہ طالب و غالب کی طرف سے علی بن ابی طالب کے لئے ہے
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : « اَنْتَ یَا اَبَا بَكْرٍ عَیْنی»
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص سے آگے نہ بڑھو گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر تم میری آنکھ ہو
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « یَجِیِْئُ عَلِیٌّ عَلَی مَرَکَبٍ مِنْ مَرَاکِبِ الْجَنَّةِ فَیُنَادِی مُنَادٍ یَامُحِمَّدُ کَانَ لَکَ فِی الدُّنْیَا وَالِدٌ حَسَنٌ وَ اَخٌ صَالِحٌ اَمَّا الْوَالِدُ الْحَسَنُ فَاَبُوکَ اِبْرَاھِیْمُ الْخَلِیْلُ وَ اَمَّا الْاخُ فَعَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ »
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص سے آگے نہ بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی جنت کی سواریوں میں سے سواری پر آئے گا اور ایک ندا دینے والا ندا دے گا کہ محمد صلی اللہ علیک وسلم دنیا میں آپ کا ایک حسین والد اور ایک خوبصورت بھائی تھا حسین والد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خوبصورت بھائی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں
فَقَالَ عَلِیٌّ اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ « اِذَا کَانَ یَومُ الْقِیَامَةِیَجِیْئُ رِضْوَانُ خَازِنُ الْجِنَانِ بِمَفَاتِیْحِ الْجَنَّۃِ وَ مَفَاتِیْحِ النَّارِ : وَ یَقُولُ یَا اَبَا بَكْرٍ اَلرَّبُّ جَلَّ جَلَالُهُ یُقْرِئِکَ السَّلَامَ وَ یَقُولُ لَکَ ھَذہِ مَفَاتِیْحُ الْجَنَّةِ وَ مَفَاتِیْحُ النَّارِ اِبْعَثْ مَنْ شِئْتَ اِلَی الْجَنَّةِ وَابْعَثْ اِلَی النَّارِ»
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھے گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو رضوان جنت اور جہنم کی چابیاں لائے گا اور کہے گا کہ اے ابو بکر آپ کو اللہ عزوجل سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ جنت اور دوزخ کی چابیاں ہیں جسے چاہوں جنت میں بھیج دو اور جسے چاہے وہ دوزخ میں بھیج دو
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « اِنَّ جِِبْرِیْلَ عَلَیْهِ السَّلَام اَتَانِی فَقَالَ لِی: یَا مُحَمَّدُ اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَ یَقُولُ لَکَ اَنَا اُحِبُّکَ وَ اُحِبُّ عَلِیًّا فَسَجَدْتُ شُکْرًا وَ اُحِبُّ فَاطِمَةَ فَسَجَدْتُ شُکْرًا وَ اُحِبُّ حَسَنًا وَ حُسَیْنًا فَسَجَدْتُ شُکْرًا »
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہ بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے کہا کہ محمد صلی اللہ علیک وسلم اللہ عزوجل آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں نے سجدہ شکر ادا کیا اور پھر جبرئیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میں علی سے محبت کرتا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے سجدہ شکر ادا کیا اور پھر جبرئیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میں فاطمہ سے محبت کرتا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے سجدہ شکر ادا کیا اور پھر جبرئیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میں حسن اور حسین سے محبت کرتا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے سجدہ شکر ادا کیا
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ « لَو وُزِنَ اِیْمَانُ اَبِی بَكْرٍ بِاِیْمَانِ اَھْلِ الْاَرْضِ لَرَجَحَ عَلَیْھِم»
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر ابوبکر کا ایمان اہل زمین کے ایمان کے ساتھ تولہ جائے تو ابوبکر کا ایمان ان سب سے بھاری ہو جائے گا
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « اِنَّ عَلِیًّا یَجِیْئُ یَومَ الْقِیَامَةِ وَمَعَهُ اَولَادِہِ وَ زَوجَتِهِ عَلَی مَرَکَبٍ مِنْ الْبَدْنِ فَیَقُولُ اَھْلُ القِیَامَةِ أَیُّ نَبِیٍّ ھَذَا؟ فُیُنَادِی مُنَادٍ ھَذَا حَبِیْبُ اللّٰهِ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ»
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی قیامت کے دن اپنی اولاد اور اپنی زوجہ کے ساتھ اونٹوں کی سواری پر سوار ہو کر آئیں گے اور اھل محشر کہیں گے کہ یہ کونسا نبی ہے؟ تو دینے والا دے گا کہ یہ نبی نہیں بلکہ یہ حبیب اللہ ہیں جن کا نام علی بن ابی طالب ہیں
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: « غَدًا یَسْمَعُ اَھْلُ الْمَحْشَرِ مِنْ ثَمَانِیَةِ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ اُدْخُلْ مِن حَیْثُ شِئْتَ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ الْاَکْبَر »
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہ بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کل قیامت کے دن اہل محشر یہ آواز سنیں گے کہ اے ابوبکر جنت کے جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ « بَیْنَ قَصْرِیْ وَ قَصْرِ اِبْرَاھِیْمَ الْخَلِیْلَ قَصْرُ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ»
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں میرے محل اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے محل کے درمیان علی بن ابی طالب کا محل ہے
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ فِی حَقِّهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَھْلَ السَّمَوَاتِ مِنَ الْکَرُوْبِیِّیْنَ الرَّوْحَانِیِّیْنَ وَالْمَلَأِ الْاَعْلَی لَیَنْظُرُوْنَ فِی کُلِّ یَوْمٍ اِلَی اَبِی بَكْرٍ الصِّدِّيقِ »
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آسمان والے مقربینِ بارگاہ الٰہی نوری فرشتے اور ملأ اعلی روزانہ ابوبکر صدیق کا دیدار کرتے ہیں
فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ اللّٰهُ فِی حَقِّهِ وَ حَقِّ اَھْلِ بَیْتِهِ:
« وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّهِ مِسْکِیْنًا وَ یَتِیْمًا وَ اَسِیْرًا »
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہ بڑھوں گا کہ جس کے حق میں اور اس کے اہل بیت کے حق میں اللہ نے ارشاد فرمایا!
«اور جو اللہ اور اس کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں یتیم کو مسکین کو اور قیدی کو»
فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَا لَا اَتَقَدَّمُ عَلَی رَجُلٍ قَالَ اللّٰهُ فِی حَقِّهِ: « وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهِ اُولَئِکَ ھُمْ المُتَّقُونَ »
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے شخص سے آگے نہ بڑھو گا کہ جس کے حق میں اللہ نے یہ ارشاد فرمایا!
«وہ ذات جو سچ لے کر آئی اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں»
فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْهِ السَّلَام عَلَی الصَّادِقِ الْاَمِیْنِ مِن عِنْدِ رَبِّ الْعَلَمِیْنَ وَ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ اَلْعَلِیُّ الاَعْلَی یُقْرُئِکَ السَّلَامُ وَ یَقُولُ لَکَ: اِنَّ مَلَائِکَةَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ لَیَنْظُرُونَ فِی ھَذِہِ السَّاعَةِ اِلَی اَبِی بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَ اِلَی عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ وَ یَسْمَعُونَ مَا جَرَی بَیْنَھُمَا مِن حُسْنِ الْاَدَبِ وَ حُسْنِ الْجَوَابِ مِن بَعْضِھَا لِبَعْضٍ فَقُمْ اِلَیْھِمَا وَ کُنْ ثَالِثُھُمَا فَاِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَفَھُمَا بِالرَّحْمَةِ وَ الرِّضْوَانِ وَ خَصَّھُمَا بِحُسْنِ الْاَدَبِ والْاِسْلَامِ وَالْاِیْمَانِ
ترجمہ: پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ صادق اور امین ہیں ان کی بارگاہ میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے جبریل امین حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ اللہ عزوجل آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ساتوں آسمانوں کے ملائکہ اس وقت ابوبکر صدیق اور علی المرتضی کی طرف دیکھ رہے ہیں ان کے درمیان ہونے والے حسن جواب اور اس نے ادب کو سن رہے ہیں آپ ان کے پاس ثالث کی حیثیت سے جائیے پس اللہ کی رضا اور رحمت نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ان کے ساتھ حسن ادب، حسن اسلام اور ایمان کو خاص کر دیا ہے
فَخَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اِلَیْھِمَا فَوَجَدَھُمَا کَمَا ذَکَرَ لَهُ جِِبْرِیْلُ فَقَبَّلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجْهَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا وَ قَالَ: « وَ حَقٌّ مِن نَفْسِ مُحَمَّدٖ بِیَدِہِ لَوْ اَنَّ الْبِحَارَ اَصْبَحَتْ مِدَادًا وَاْاَشْجَارَ اَقْلَامًا وَ اَھْلَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ کِتَابًا لَعَجَزُوا عَنْ فَضْلِکُمَا وَ عَنْ وَصْفِ اَجْرِکُمَا
ترجمہ: پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو ویسے ہی پایا جیسا کہ جبریل علیہ السلام نے حضور کے سامنے ان کا ذکر کیا تھا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کے چہروں کو بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ!
اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے
اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں تمام درخت قلم بن جائیں اور آسمان اور زمین والے کتاب بن جائیں تو بھی تمہارے فضائل اور تمہارے اجر و ثواب کو لکھنے سے عاجز آ جائیں گے
الروض الفائق فی المواعظ والرقائق صفحہ نمبر: 400--402
( دار المعرفة بیروت لبنان )
نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار صفحہ نمبر:22--24
( المکتبة التوفیقیة )
حضرت بہترین کاوش ہے اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے
جواب دیںحذف کریں