حضرت علیؓ کی شان احادیث مبارکہ کی روشنی میں
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : اَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيْقِ، فَاَمَرَ الصَّلاَةَ جَامِعَةً، فَاَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رضي الله عنه ، فَقَالَ : اَلَسْتُ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوْا : بَلَی، قَالَ : اَلَسْتُ اَوْلٰی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟ قَالَوْا : بَلَی، قَالَ : فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ اَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ! وَالِ مَنْ وَالَاهُ، اللَّهُمَّ! عَادِ مَنْ عَادَاهُ.
ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں ایک جگہ قیام فرمایا اور نماز باجماعت (قائم کرنے) کا حکم دیا، اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : کیا میں مومنوں کی جانوں سے قریب تر نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں ہر مومن کی جان سے قریب تر نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس یہ (علی) ہر اس شخص کا ولی ہے جس کا میں مولا ہوں۔ اے اللہ! جو اسے دوست رکھے اسے تو بھی دوست رکھ (اور) جو اس سے عداوت رکھے اُس سے تو بھی عداوت رکھ
ابن ماجه في السنن، المقدمه، باب فضائل أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صفحہ نمبر:25 حدیث نمبر:116 ( دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )
▶2◀
عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ فِي رِوَايَةٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعِليٌّ مَوْلَاهُ، وَ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزَلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی، اِلاَّ اَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِيْ، وَ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : لَاُعْطِيَنَّ الرَّأيَةَ الْيَوْمَ رَجُلاً يُحِبُّﷲَ وَرَسُوْلَهُ
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جس کا میں ولی ہوں اُس کا علی ولی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (حضرت علی رضی اللہ عنہ سے) یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میرے لیے اسی طرح ہو جیسے ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (غزوۂ خبیر کے موقع پر) یہ بھی فرماتے ہوئے سنا : میں آج اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے
ابن ماجة فی السنن، المقدمه، باب فی فضائل أصحاب رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، صفحہ نمبر:26 حدیث نمبر:121 ( دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )
امام نسائی فی خصائص امیر المومنین علی رضی الله عنه صفحہ نمبر:35 حدیث نمبر:12 ( الناشر مکتبہ دار الثقلین )
▶3◀
عَنْ مَيْمُوْنٍ اَبِيْ عَبْدِﷲِ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ اَرْقَمَ رضی الله عنه وَ اَناَ اَسْمَعُ : نَزَلْنَا مَعَ رَسُوْلِﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِوَادٍ يُقَالَ لَهُ وَادِی خُمٍ، فَاَمَرَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلاَّهَا بِهَجِيْرٍ، قَالَ : فَخَطَبَنَا وَ ظُلِّلَ لِرَسُوْلِﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِثَوْبٍ عَلَی شَجَرَةِ سَمْرَةَ مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ : اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَوْ لَسْتُمْ تَشْهَدُوْنَ اَنِّيْ اَوْلٰی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ نَفْسِهِ؟ قَالُوَا : بَلَی، قَالَ : فَمَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَاِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ، اللّٰهُمَّ! عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ وَالِ مَنْ وَالَاهُ.
ترجمہ: حضرت میمون ابو عبدﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک وادی۔ . . جسے وادئ خم کہا جاتا تھا۔ . . میں اُترے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا حکم دیا اور سخت گرمی میں جماعت کروائی۔ پھر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا درآنحالیکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورج کی گرمی سے بچانے کے لئے درخت پر کپڑا لٹکا کر سایہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم نہیں جانتے یا (اس بات کی) گواہی نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کی جان سے قریب تر ہوں؟‘‘ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’پس جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے، اے اللہ ! تو اُس سے عداوت رکھ جو اِس سے عداوت رکھے اور اُسے دوست رکھ جواِسے دوست رکھے
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1374 حدیث نمبر:19325 ( مکتبہ دار السلام )
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:195 ( مکتبہ ابن تیمیہ )
▶4◀
عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ فَرَاَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَي رَسُوْلِﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم ذَکَرْتُ عَلِيًّا، فَتَنَقَّصْتُهُ، فَرَاَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَتَغَيَرُ، فَقَالَ : يَا بُرَيْدَةُ! اَلَسْتُ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِْن اَنْفُسِهِمْ؟ قُلْتُ : بَلَی، يَارَسُوْلَﷲِ! قَالَ : مَنْ کُنْتُ مُوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
ترجمہ: حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شرکت کی جس میں مجھے آپ سے کچھ شکوہ ہوا۔ جب میںحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں تنقیص کی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے بریدہ! کیا میں مومنین کی جانوں سے قریب تر نہیں ہوں؟‘‘ تو میں نے عرض کیا : کیوں نہیں، یا رسول اﷲ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر: 1662 حدیث نمبر:22945 (مکتبہ دار السلام )
السنن الکبری للنسائی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:309 حدیث نمبر:8089 ( الناشر مؤسسۃ الرسالۃ )
المستدرک للحاکم جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:119 حدیث نمبر:4578 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ )
المصنف لابن ابی شیبہ جلد نمبر 12 صفحہ نمبر:83--84 حدیث نمبر:12181 ( الناشر الدار السلفية )
▶5◀
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی الله عنه، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُوْلِﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا بِغَدِيْرِ خُمٍّ فَنُوْدِيَ فِيْنَا الصَّلَاةَ جَامِعَةً وَ کُسِحَ لِرَسُوْلِﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ فَصَليَ الظُّهْرَ وَ اَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ : اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنِّيْ اَوْلَی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوْا : بَلَی، قَالَ : اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنِّيْ اَوْليَ بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِّنْ نَفْسِهِ؟ قَالُوْا : بَلَی، قَالَ : فَاَخَذَ بَيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ، اللّٰهُمَّ! وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ. قَالَ : فَلَقِيَهُ عمر رضی اللّٰه عنه بَعْدَ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَهُ : هَنِيْئاً يَا ابْنَ اَبِيْ طَالِبٍ! اَصْبَحْتَ وَ اَمْسَيْتَ مَوْليَ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ
ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے، (راستے میں) ہم نے وادی غدیر خم میں قیام کیا۔ وہاں نماز کے لیے اذان دی گئی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے دو درختوں کے نیچے صفائی کی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر ادا کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں کل مومنوں کی جانوں سے بھی قریب تر ہوں؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن کی جان سے بھی قریب تر ہوں؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں! راوی کہتا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! اُسے تو دوست رکھ جو اِسے (علی کو) دوست رکھے اور اُس سے عداوت رکھ جو اِس سے عداوت رکھے۔‘‘ راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور اُن سے کہا : ’’اے ابن ابی طالب! مبارک ہو، آپ صبح و شام (یعنی ہمیشہ کے لئے) ہر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے ہیں
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1307 حدیث نمبر:18479 ( مکتبہ دار السلام )
مصنف ابنِ ابی شیبہ جلد نمبر:11 صفحہ نمبر:150 حدیث نمبر:32654 (الناشر: مکتبۃالرشد)

▶6◀
عَنْ جَرِيْرٍ قَالَ : شَهِدْنَا الْمَوْسِمَ فِي حَجَّةٍ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَ هِيَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَبَلَغْنَا مَکَانًا يُقَالُ لَهُ غَدِيْرُ خُمٍّ، فَنَادَی : الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعْنَا الْمُهَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ، فَقَامَ رَسُوْلُﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَسْطَنَا، فَقَالَ : اَيُهَا النَّاسُ! بِمَ تَشْهَدُوْنَ؟ قَالُوْا : نَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّاﷲُ؟ قَالَ : ثُمَّ مَهْ؟ قَالُوْا : وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، قَالَ : فَمَنْ وَلِيُکُمْ؟ قَالُوْا :ﷲُ وَ رَسُوْلُهُ مَوْلَانَا، قَالَ : مَنْ وَلِيُکُمْ؟ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ اِلَی عَضْدِ عَلِيٍّ رضی الله عنه، فَأَقَامَهُ فَنَزَعَ عَضْدَهُ فَاَخَذَ بِذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ : مَنْ يَکُنِﷲُ وَ رَسُوْلُهُ مَوْلَيَاهُ فَاِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ! وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ، اللَّهُمَّ! مَنْ اَحَبَّهُ مِنَ النَّاسِ فَکُنْ لَهُ حَبِيْبًا، وَمَنْ اَبْغَضَهُ فَکُنْ لَهُ مُبْغِضًا
ترجمہ: حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حجۃ الوداع کے موقع پرحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جسے غدیر خم کہتے ہیں۔ نماز باجماعت ہونے کی ندا آئی تو سارے مہاجرین و انصار جمع ہو گئے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور خطاب فرمایا : اے لوگو! تم کس چیز کی گواہی دیتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر کس کی؟ انہوں نے کہا : بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ولی کون ہے؟ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ پھر فرمایا : تمہارا ولی اور کون ہے؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے) دونوں بازو تھام کر فرمایا : ’’اللہ اور اُس کا رسول جس کے مولا ہیں اُس کا یہ (علی) مولا ہے، اے اللہ! جو علی کو دوست رکھے تو اُسے دوست رکھ (اور) جو اِس (علی) سے عداوت رکھے تو اُس سے عداوت رکھ، اے اللہ! جو اِسے محبوب رکھے تو اُسے محبوب رکھ اور جو اِس سے بغض رکھے تو اُس سے بغض رکھ
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:2 صفحہ نمبر: 357 حدیث نمبر:2505 ( مکتبہ ابن تیمیہ )
مجمع الزوائد للھیثمی جلد نمبر:18 صفحہ نمبر:218--219 حدیث نمبر:14625 (مکتبہ دار المنھاج )
کنزالعمال للھندی جلد نمبر:13 صفحہ نمبر:138--139 حدیث نمبر:36437 ( مؤسسۃ الرسالۃ )
تاریخ ابن عساکر جلد نمبر:42 صفحہ نمبر:236 ( مکتبہ دار الفکر )
▶7◀
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللّٰه عنه، قَالَ : مَنْ صَامَ يَوْمَ ثَمَانِ عَشَرَةَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ کُتِبَ لَهُ صِيَامُ سِتِّيْنَ شَهْرًا، وَ هُوَ يَوْمَ غَدِيْرِ خُمٍّ لَمَّا اَخَذَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ اَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه، فَقَالَ : اَلَسْتُ وَلِيَّ الْمُؤْمِنِيْنَ؟ قَالُوْا : بَلَی، يَا رَسُوْلَﷲِ! قَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : بَخْ بَخْ لَکَ يَا ابْنَ اَبِي طَالِبٍ! اَصْبَحْتَ مَوْلَايَ وَ مَوْلَی کُلِّ مُسْلِمٍ، فَاَنْزَلَ اﷲُ (اَلْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اٹھارہ ذی الحج کو روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ (60) مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا، اور یہ غدیر خم کا دن تھا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : کیا میں مؤمنین کا ولی نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں، یا رسول اﷲ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مبارک ہو! اے ابنِ ابی طالب! آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا ٹھہرے۔ (اس موقع پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا
تاریخ بغداد للخطیب البغدادی جلد نمبر:9 صفحہ نمبر:222( دار الغرب الاسلامی )
البدایہ والنہایہ جلد نمبر:7 صفحہ نمبر: 680 ( مکتبہ دار ھجر )
تاریخ ابن عساکر جلد نمبر:42 صفحہ نمبر:233 ( مکتبہ دار الفکر )
▶8◀
عَنْ عُمَرَ رضی الله عنه وَ قَدْ جَاءَهُ اَعْرَابِيَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رضی الله عنه : اِقْضِ بَيْنَهُمَا يَا اَبَا الْحَسَنِ! فَقَضَی عَلِيٌّ رضی الله عنه بَيْنَهُمَا، فَقَالَ اَحَدُهُمَا : هَذَا يَقْضِي بَيْنَنَا! فَوَثَبَ اِلَيْهَ عمر رضی الله عنه وَ اَخَذَ بِتَلْبِيْبِهِ، وَ قَالَ : وَيْحَکَ! مَا تَدْرِيْ مَنْ هَذَا؟ هَذَا مَوْلَايَ وَ مَوْلَی کُلِّ مُؤْمِنٍ، وَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَوْلَاهُ فَلَيْسَ بِمُؤْمِنٍ
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو بدّو جھگڑا کرتے ہوئے آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوالحسن! ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کے درمیان فیصلہ کر دیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ (کیا) یہی ہمارے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے رہ گیا ہے؟ (اس پر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور اس کا گریبان پکڑ کر فرمایا : تو ہلاک ہو! کیا تو جانتا ہے کہ یہ کون ہیں؟ یہ میرے اور ہر مؤمن کے مولا ہیں (اور) جو اِن کواپنا مولا نہ مانے وہ مؤمن نہیں
محب الدين احمد الطبری فی رياض النضره فی مناقب العشره للطبری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:128
( مکتبہ دار الکتب العلمیہ )
و محب الدين احمد الطبری في ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی صفحہ نمبر:126
( مکتبہ دار الکتب المصریہ )
▶9◀
عَنْ سَعْدٍ قَالَ : لَمَّا سَمِعَ اَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ ذَلِکَ (حَدِيْثَ الْوِلايَةِ) قَالَا : اَمْسَيْتَ يَا بْنَ اَبِي طَالِبٍ؟ مَوْليَ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ
ترجمہ: حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں جب حضرت ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہما نے حدیث ولایت سنی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے : اے ابن ابی طالب! آپ ہر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے ہیں
مناوی فی فیض القدیر جلد نمبر:6 صفحہ نمبر: 282 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶10◀
عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : جَاءَ رِهْطٌ اِلَی عَلِيٍّ رضی الله عنه بِالرَّحْبَةِ فَقَالُوْا : السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مَوْلَانَا! قَالَ : کَيْفَ اَکُوْنُ مَوْلَاکُمْ وَاَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ؟ قَالُوْا : سَمِعْنَا رَسُوْلَﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ غَدِيْرِ خُمٍّ يَقُوْلُ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَاِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ، قَالَ رِيَاحُ : فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ فَسَاَلْتُ مَنْ هَؤُلًاءِ؟ قَالُوْا : نَفَرٌ مِنَ الْأنْصَارِ فِيْهِمْ اَبُوْ اَيُوْبَ الْاَنْصَارِيُّ
ترجمہ: حضرت ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ ایک وفد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : اے ہمارے مولا! آپ پر سلامتی ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا : میں کیسے آپ کا مولا ہوں حالانکہ آپ تو قومِ عرب ہیں (کسی کو جلدی قائد نہیں مانتے)۔ اُنہوں نے کہا : ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے : ’’ جس کا میں مولا ہوں بے شک اس کا یہ (علی) مولا ہے۔‘‘ حضرت ریاح نے کہا : جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے ان سے جا کر پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ انصار کا ایک وفد ہے‘ ان میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی ہیں
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1709 حدیث نمبر:23563 ( مکتبہ دار السلام )
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:173--174 حدیث نمبر:4052--4053( مکتبہ ابن تیمیہ)
المصنف لابن ابی شیبہ جلد نمبر:12 صفحہ نمبر:60 حدیث نمبر:12122 ( الناشر الدار السلفية)
مجمع الزوائد للھیثمی جلد نمبر:18 صفحہ نمبر:209 حدیث نمبر14612 (مکتبہ دار المنھاج)
البدایہ والنہایہ جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:676--677 ( مکتبہ دار ھجر )
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ غلام مصطفی قادری
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں