تازہ ترین

منگل، 8 فروری، 2022

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں سب سے بہادر ابو بکر صدیق ہیں


عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ اَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ: اَيُّهَا النَّاسُ اَخْبِرُونِي بِاَشْجَعِ النَّاسِ؟ قَالُوا: اَوْ قَالَ قُلْنَا: اَنْتَ يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: اَمَا اِنِّي مَا بَارَزْتُ اَحَدًا اِلَّا انْتَصَفْتُ مِنْهُ وَلَكِنْ اَخْبِرُونِي بِاَشْجَعِ النَّاسِ قَالُوا: لَا نَعْلَمُ، فَمَنْ؟ قَالَ: اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جَعَلْنَا لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرِيشًا فَقُلْنَا: مَنْ يَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا؟ يَهْوِي اِلَيْهِ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَوَاللّٰهِ مَا دَنَا مِنْهُ اِلَّا اَبُو بَكْرٍ شَاهِرًا بِالسَّيْفِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَهْوِي اِلَيْهِ اَحَدٌ اِلَّا اَهْوَى عَلَيْهِ فَهَذَا اَشْجَعُ النَّاسِ

ترجمہ: حضرت محمد بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور لوگوں سے پوچھا کہ بہادر کون ہے تو لوگوں نے جواب دیا کہ آپ سب سے زیادہ بہادر ہیں آپ نے فرمایا کہ میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں پھر میں سب سے بہادر کیسے ہوا تم یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے لوگوں نے کہا کہ جناب ہم کو معلوم نہیں آپ ہی فرما دیں کہ کون سب سے زیادہ بہادر ہے حضرت علی نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں سنو جنگ بدر میں ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سائبان بنایا تھا ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سائبان کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کردے بخدا ہم میں سے کوئی بھی آگے نہ بڑھا تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ برہنہ شمشیر ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوگئے اور پھر کسی مشرک کو آپ کے پاس آنے کی جرات نہ ہو سکی اگر کسی نے ایسی جرات کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ فورا اس پر ٹوٹ پڑے اس لیے آپ ہی سب سے زیادہ بہادر ہیں 

فَقَالَ عَلِيٌّ: وَلَقَدْ رَاَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَخَذَتْهُ قُرَيْشٌ فَهَذَا يَجَاءُ وَهَذَا يُتَلْتِلُهُ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَنْتَ الَّذِي جَعَلْتَ الْآلِهَةَ اِلٰهًا واحدًا قَالَ: فَوَاللّٰهِ مَا دَنَا مِنْهُ اَحَدٌ اِلَّا اَبُو بَكْرٍ يَضْرِبُ هَذَا وَيُجَاءُ هَذَا وَيُتَلْتِلُ هَذَا وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمْ اَتَقْتُلُونَ رَجُلًا اَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللّٰهُ ثُمَّ رَفَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ فَبَكَى حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ ثُمَّ قَالَ: اُنْشِدُكُمْ بِاللّٰهِ اَمُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ خَيْرٌ اَمْ اَبُو بَكْرٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ: اَلَا تُجِيبُونِي فَوَاللّٰهِ لَسَاعَةٌ مِنْ اَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْاَرْضِ مِنْ مُؤْمِنِ آلِ فِرْعَوْنَ ذَاكَ رَجُلٌ كَتَمَ اِيمَانَهُ وَهَذَا رَجُلٌ اَعْلَنَ اِيمَانَهُ

اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نرغے میں لے لیا اور وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم ہی وہ ہو جو کہتے ہو کہ خدا ایک ہے خدا کی قسم کسی کو یقین سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہ ہو سکی لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر ادھ کے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو تکلیف پہنچا رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار صرف ایک اللہ ہے یہ فرما کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی چادر اٹھائی اور چادر منہ پر رکھ کر اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی تر ہو گئی پھر فرمایا اللہ تعالی تم کو ہدایت دے فرعون اچھے تھے کہ ابوبکر اچھے ہیں ( آل فرعون سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے پیغمبر پر اس قدر جانثاری نہیں کی تھی جتنی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کی ) لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ لوگوں کو جواب کیوں نہیں دیتے خدا کی قسم ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک ساعت آل فرعون کے مومن کی ہزار ساعات سو سے بہتر اور برتر ہے اس لئے کہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا

مسند بزار جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:15

مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:18 صفحہ نمبر:31

تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ نمبر:111 


 حافظ غلام مصطفی قادری 


 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو