تازہ ترین

بدھ، 19 جنوری، 2022

والدین کی خدمت کرنا جہاد کرنے سے افضل ہے احادیث کی روشنی میں

▶1◀ 


عَنْ اَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ:  قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: سَاَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ اَيُّ العَمَلِ  اَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلاَةُ عَلَى مِيقَاتِهَا قُلْتُ: ثُمَّ اَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الوَالِدَيْنِ قُلْتُ: ثُمَّ اَيٌّ؟ قَالَ: الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَسَكَتُّ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي


ترجمہ: ابو عمروشیبانی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا میں نے پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا میں نے پوچھا اور اس کے بعد م؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہا د کرنا پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے 


صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر حدیث نمبر:2782 وفی کتاب الادب حدیث نمبر:5970 ( دار ابن کثیر )


▶2◀


عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا سَألَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک معاملہ کرنا، پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا


صحیح البخاری کتاب التوحید حدیث نمبر:7534 ( دار ابن کثیر )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:215 

( دار الکتب العلمیہ )


▶3◀


عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأذَنَهُ فِي الجِهَادِ فَقَالَ: اَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟  قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی  آپ نے ان سے در یا فت فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو  ( یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو )


صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر حدیث نمبر:3004

 ( دار ابن کثیر )

صحیح مسلم کتاب البر والصلة حدیث نمبر:2449

 ( دار طیبة )


▶4◀


عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُجَاهِدُ قَالَ: لَكَ أَبَوَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں بھی جہاد میں شریک ہوجاؤں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے ماں باپ موجود ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں موجود ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو 


 صحیح البخاری کتاب الادب حدیث نمبر:5972 

( دار ابن کثیر )

جامع الترمذی ابواب الجہاد حدیث نمبر:1671 ( دارالسلام )

سنن ابو داؤد کتاب الجہاد حدیث نمبر:2529 ( دار الحضارۃ )

سنن نسائی کتاب الجہاد حدیث نمبر:3103 ( دار الحضارۃ )


▶5◀


عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: اَقْبَلَ رَجُلٌ اِلَى نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ اَبْتَغِي الْأجْرَ مِنَ اللّٰهِ قَالَ: فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ اَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا قَالَ: فَتَبْتَغِي الْاَجْرَ مِنَ اللّٰهِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَارْجِعْ اِلَى وَالِدَيْكَ فَاَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کرتا ہوں آپ نے فرمایا: کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں آپ نے فرمایا: تم اللہ سے اجر کے طالب ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں آپ نے فرمایا: اپنے والدین کے پاس جاؤ اور اچھے برتاؤ سے ان کے ساتھ رہو 


صحیح مسلم کتاب البر والصلة حدیث نمبر:2449

 ( دار طیبة )

والدین کی خدمت جہاد سے افضل


▶6◀


عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: جِئتُ اُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ اَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ فَقَال: ارْجِعْ عَلَيْهِمَا فَاَضْحِكْهُمَا كَمَا اَبْكَيْتَهُمَا


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں آپ کے پاس ہجرت پر بیعت کے لیے حاضر ہوا ہوں اور اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے فرمایا ان کے پاس جا اور انہیں ہنسا ( اور خوش کر ) جیسے کہ تو نے انہیں رلایا ہے


سنن ابو داؤد کتاب الجہاد حدیث نمبر:2528 ( دار الحضارۃ )


▶7◀


عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ اَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ اِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ: هَلْ لَكَ اَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟ قَالَ: اَبَوَايَ قَالَ: اَذِنَا لَكَ؟ قَالَ: لَا قَالَ: ارْجِعْ اِلَيْهِمَا فَاسْتَأذِنْهُمَا فَاِنْ اَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَاِلَّا فَبِرَّهُمَا


ترجمہ: حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا  کیا یمن میں تیرا کوئی عزیز بھی ہے؟  اس نے کہا : میرے ماں باپ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا انہوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کے پاس واپس جا اور ان سے اجازت طلب کر اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ورنہ ان کی خدمت کر


سنن ابو داؤد کتاب الجہاد حدیث نمبر:2530 ( دار الحضارۃ )


▶8◀


عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ اَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنِّی اَشْتَهِي الْجِهَادَ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَقَالَ: هَلْ بَقِيَ اَحَدٌ مِنْ وَالِدَيْكَ؟ قَالَ: أُمِّي قَالَ: فَاَبْلِ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرًا فِي بِرِّهَا فَاِنَّكَ اِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَاَنْتَ حَاجٌّ وَمُعْتَمِرٌ وَمُجَاهدٌ اِذَا رَضِيَتْ عَنْكَ اُمُّكَ فَاتَّقِ اللّٰهَ وَبِرَّهَا 


ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں لیکن میں اس کی طاقت نہیں رکھتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ زندہ ہے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے تیرہ عذر قبول کر لیا ہے ماں کی خدمت کی وجہ سے سے بس تو اگر ماں کی خدمت کرے گا تو تو حج عمرہ اور جہاد کا ثواب پالے گا بشرطیکہ تیری ماں بھی تجھ سے راضی ہو پس اللہ سے ڈر اور ماں سے نیکی کر


المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:199 حدیث نمبر:2915

 ( الناشر دار الحرمین )

مسند ابویعلی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:150 

( دارالثقافۃ العربیۃ )

مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:16 صفحہ نمبر:470 حدیث نمبر: 13420

 ( دارالمنھاج )


▶9◀


عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُعَاوِیَةَ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفُلْتُ یَارَسُولَ اللّٰهِ اِنِّی اُرِیْدُ الْجِھَادَ فِی سَبِیْلِ اللّٰهِ قَالَ اُمُّکَ حَیَّةٌ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْزَمْ رِجْلَھَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ



ترجمہ: حضرت طلحہ بن معاویہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں؟ میں عرض کی کہ جی ہاں تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان کے قدموں میں رہو وہیں جنت ہے


المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:8 صفحہ نمبر:372 حدیث نمبر:8162 

( مکتبہ ابن تیمیہ )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:216 

( دار الکتب العلمیہ )


▶10◀


عَنْ اَبِی اُمَامَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یاَرَسُولَ اللّٰهِ مَا حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلَی وَلَدِھِمَا؟ قَالَ: ھُمَا جَنَّتُکَ وَ نَارُکَ 


حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ماں باپ کا ان کی اولاد پر کیا حق ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ دونوں تمہاری جنت ہیں یا جہنم ہیں 


سنن ابن ماجہ کتاب الادب حدیث نمبر:3662

 ( دار الکتب العلمیہ )

کنزالعمال جلد نمبر:16 صفحہ نمبر:463 حدیث نمبر:45453 ( مؤسسة الرسالة )


▶11◀


عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ اَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِنِّي كُنْتُ اَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ اَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللّٰهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ وَيْحَكَ اَحَيَّةٌ اُمُّكَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ارْجِعْ فَبَرَّهَا ثُمَّ اَتَيْتُهُ مِنْ الْجَانِبِ الْآخَرِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِنِّي كُنْتُ اَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ اَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ وَيْحَكَ اَحَيَّةٌ اُمُّكَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ فَارْجِعْ اِلَيْهَا فَبَرَّهَا ثُمَّ اَتَيْتُهُ مِنْ اَمَامِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِنِّي كُنْتُ اَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ اَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللّٰهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ وَيْحَكَ اَحَيَّةٌ اُمُّكَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ وَيْحَكَ الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ


ترجمہ: حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنا چاہتا ہوں اس سے میرا مقصد اللہ کی رضا اور آخرت کے گھر (جنت) کاحصول ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا بھلا ہو کیا تیری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس جا کر اس کی خدمت کر پھر میں نے دوسری طرف سے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنا چاہتا ہوں اس سے میرا مقصد اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر( جنت) کا حصول ہے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تیرا بھلا ہو کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ میں نے کہا: جی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس جاکر اس کی خدمت کر پھر میں اللہ کےرسول کے سامنے سے آیا اور عرض کیا: کہ یا رسول اللہ میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنا چاہتا ہوں اس سے میرا مقصد اللہ کی رضا اور آخرت کے گھر (جنت ) کا حصول ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا بھلا ہو کیا تیری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا بھلا ہو اس کے قدموں میں پڑا رہ جنت وہیں ہے


سنن ابن ماجہ کتاب الجہاد حدیث نمبر:2781

 ( دار الکتب العلمیہ )


▶12◀


عَنْ مُعَاوِیَةَ بْنِ جَاھِمَةَ اَنَّ جَاھِمَةَ جَاءَ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَارَسُولَ اللّٰهِ اَرَدْتُ اَنْ اَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ اَسْتَشّیْرُکَ؟ فَقَالَ ھَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَالْزَمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجـلِھَا


ترجمہ: حضرت معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ حضرت جاہمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہوں اور میں اس سلسلے میں آپ سے مشورہ لینے کیلئے حاضر ہوا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں؟ تو انہوں نے عرض کیا جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے ساتھ رہو کیونکہ جنت ان کے پاؤں کے پاس ہے


سنن نسائی کتاب الجہاد حدیث نمبر:3104 ( دار الحضارۃ )

شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:178 حدیث نمبر:7833 

( دار الکتب العلمیہ )

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو