
◀1▶
عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ اَقْبَلَ اَبُو بَكْرٍ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى اَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ اَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ فَسَلَّمَ وَقَالَ اِنِّي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ فَاَسْرَعْتُ اِلَيْهِ ثُمَّ نَدِمْتُ فَسَاَلْتُهُ اَنْ يَغْفِرَ لِي فَاَبَى عَلَيَّ فَاَقْبَلْتُ اِلَيْكَ فَقَالَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكَ يَا اَبَا بَكْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ اِنَّ عُمَرَ نَدِمَ فَاَتَى مَنْزِلَ اَبِي بَكْرٍ فَسَاَلَ اَثَّمَ اَبُو بَكْرٍ فَقَالُوا لَا فَاَتَى اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى اَشْفَقَ اَبُو بَكْرٍ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَاللّٰهِ اَنَا كُنْتُ اَظْلَمَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰهَ بَعَثَنِي اِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ وَقَالَ اَبُو بَكْرٍ صَدَقَ وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ اَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي مَرَّتَيْنِ فَمَا اُوذِيَ بَعْدَهَا
ترجمہ: ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے گھٹنا ظاہر کئے ہوئے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا یارسول اللہ! میرے اور عمر بن خطاب کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی اور اس سلسلے میں میں نے جلدی میں ان کو سخت لفظ کہہ دیئے لیکن بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی تو میں نے ان سے معافی چاہی اب وہ مجھے معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اسی لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تمہیں اللہ معاف کرے تین مرتبہ آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ندامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور پوچھا کیا ابوبکر گھر پر موجود ہیں معلوم ہوا کہ نہیں تو آپ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصہ سے بدل گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم زیادتی میری ہی طرف سے تھی دو مرتبہ یہ جملہ کہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔ اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی تو کیا تم لوگ میرے دوست کو ستانا چھوڑتے ہو یا نہیں؟ آپ نے دو دفعہ یہی فرمایا آپ کے یہ فرمانے کے بعد پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا
صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ حدیث نمبر:3661
احمد بن حنبل فی فضائل الصحابہ حدیث نمبر:297
السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:10 صفحہ نمبر:400
فتح الباری لابن حجر جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:18
◀2▶
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى اَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ فَارْتَدَّ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ وَسَعَوْا بِذَلِكَ اِلَى اَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالُوا هَلْ لَكَ اِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ اَنَّهُ اُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ اِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ اَوَقَالَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ قَالُوا اَوَتُصَدِّقُهُ اَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ اِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَجَاءَ قَبْلَ اَنْ يُصْبِحَ قَالَ نَعَمْ اِنِّي لَاُصَدِّقُهُ فِيمَا هُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ اُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ اَوْ رَوْحَةٍ فَلِذَلِكَ سُمَيَّ اَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقَ
ترجمہ:امّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے آپ رضی اﷲ عنہانے فرمایا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح لوگوں کو اس کے بارے بیان فرمایا توکچھ ایسے لوگ بھی اس کے منکر ہو گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر چکے تھے وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کیا آپ اپنے صاحب کی تصدیق کرتے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے انہوں نے کہا ہاں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے انہوں نے کہا کیا آپ اُنکی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس تک گئے بھی ہیں اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق اُس خبر کے بارے میں بھی کرتا ہوں جو اس سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے میں تو صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی تصدیق کرتا ہوں پس اس تصدیق کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الصدیق کے نام سے موسوم ہوئے
المستدرک للحاکم جلد نمبر:3صفحہ نمبر:65 حدیث نمبر:4407 ( دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
دلائل النبوۃ للبیہقی جلد نمبر:2صفحہ نمبر 360-361 (دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
تفسیر ابن کثیر جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:40 ( دارالطیبہ للنشر والتوزیع)
◀3▶
عَنْ اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيْلَ لَيْلَةَ اُسْرِيَ بِهِ اِنَّ قَوْمِئ لَا يُصَدِّقُوْنِيْ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيْلُ يُصَدِّقُکَ اَبُوْبَکْرٍ وَهُوَ الصِّدِّيْقُ
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا اے جبرئیل میری قوم واقعہ معراج میں میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں
المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:7صفحہ نمبر:166 حدیث نمبر:7173 (مکتبۃ المعارف)
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:18صفحہ نمبر:11 حدیث نمبر:14310 ( دارالمنھاج)
امام احمد بن حنبل فی فضائل الصحابہ حدیث نمبر:116( بیروت - لبنان مؤسسۃ الرسالہ)
احمد بن حنبل فی فضائل الصحابہ حدیث نمبر:540 ( بیروت - لبنان مؤسسۃ الرسالہ)
طبقات ابن سعد جلد نمبر:3صفحہ نمبر:156 ( الناشر مکتبۃ الخانجی بالقاھرۃ )
◀4▶
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ الْوَزِيرِ فَكَانَ يُشَاوِرُهُ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ وَكَانَ ثَانِيَهُ فِي الْإِسْلَامِ وَكَانَ ثَانِيَهُ فِي الْغَارِ وَكَانَ ثَانِيَهُ فِي الْعَرِيشِ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ ثَانِيَهُ فِي الْقَبْرِ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِدِّمُ عَلَيْهِ أَحَدًا
ترجمہ:حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں وزیر کی حیثیت رکھتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام اُمور میں اُن سے مشورہ فرمایا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام لانے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثانی تھے غارِ ثور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثانی تھے غزوہء بدر میں عریش میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثانی تھے قبر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثانی ہیں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کسی کو بھی مقدّم نہیں سمجھتے تھے
المستدرک للحاکم جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:66 حدیث نمبر:4408 (دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ نمبر:142 ( دارالمنھاج للنشر والتوزیع )
◀5▶
عَنْ عَائِشَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ اَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَاَحَبُّنَا اِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:اُمُّ المؤمنین سيّدہ عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنھا امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہم سب سے بہتر اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے
جامع الترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3656 (مکتبہ دار السلام لاہور)
المستدرک للحاکم جلد نمبر:3صفحہ نمبر:69 حدیث نمبر:4421 ( دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
◀6▶
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم حُبُّ اَبِيْ بَکْرٍ وَ شُکْرُهُ وَاجِبٌ عَلَي اُمَّتِيْ
ترجمہ:حضرت سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے محبت اور اُن کا شکر ادا کرنا میری امت پر واجب ہے
المسند الفردوس للدیلمی جلد نمبر:2صفحہ نمبر:142 حدیث نمبر:2724 (مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
تاریخ بغداد للخطیب البغدادی جلد نمبر:3صفحہ نمبر:475 ( مکتبہ دار العرب الاسلامی)
کنزالعمال جلد نمبر:11 صفحہ نمبر:552 حدیث نمبر:32593 (بیروت - لبنان مؤسسۃ الرسالۃ)
◀7▶
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنْ اَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیْق ِرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا کَانَ لَيْلَةُ الْغَارِ قَالَ اَبُوبَکْرٍ یَا رسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْنِی اَدْخُلُ قَبْلَکَ فَاِنْ کَانَ حَيَّةٌ اَوْ شَیْئٌ کَانَتْ لِی قَبْلَکَ قَالَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اُدْخُلْ فَدَخَلَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَجَعَلَ یَلْتَمِسُ بِیَدِهِ کُلَّمَا رَاٰی جُحْرًا جَاوَ بِثَوْبِهِ فَشَقَّهُ ثُمَّ اَلْقَمَهُ الْجُحْرَ حَتَّی فَعَلَ ذَالِکَ بِثَوْبِهِ اَجْمَعَ قَالَ فَبَقِیَ جُحْرٌ فَوَضَعَ عَقِبَهُ عَلَیْهِ ثُمَّ اَدْخَلَ رسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اَصْبَحَ قَالَ لَهُ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اَیْنَ ثَوْبُکَ یَا اَبَا بَکْرٍ فَاَخْبَرَهُ بِاالَّذِی صَنَعَْ فَرَفَعَ رَسُولُ اﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ یَدَیْهِ وَقَالَ اَللَّھُمَّ اجْعَلْ اَبَا بَکْرٍ مَعِی فِی دَرَجَتِی یَومَ القِیَامَۃِ فَاَوْحَی اللّٰهُ عَزَّوَجلَّ اِلَیْهِ اَنِّ اللّٰهَ تَعَالٰی قَدِ اسْتَجَابَ لَکَ
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : جب غار کی رات تھی تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت عنایت فرمائیے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے غار میں داخل ہوں تاکہ اگر کوئی سانپ یا کوئی اور چیز ہو تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے مجھے تکلیف پہنچائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا داخل ہو جاؤ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور اپنے ہاتھ سے ساری جگہ کی تلاشی لینے لگے جب بھی کوئی سوراخ دیکھتے تو اپنے لباس کو پھاڑ کر سوراخ کو بند کر دیتے یہاں تک کہ اپنے تمام لباس کے ساتھ یہی کچھ کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر بھی ایک سوراخ بچ گیا تو انہوں نے اپنی ایڑی کو اس سوراخ پر رکھ دیا اور پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی گزارش کی جب صبح ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابوبکر تمھارا لباس کہاں ہے تو انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس کے بارے بتا دیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے میرے اﷲ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں رکھنا اﷲ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی فرمائی کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کو قبول فرما لیا ہے
ابونعیم الحلية الاولياء جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:33 (مکتبہ دار الفکر )
الریاض النضرۃ للطبری جلد نمبر:1 صفحہ نمبر: 105 (مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان
ابن جوزي، صفة الصفوة صفحہ نمبر:95 ( المكتبة الإسلامية )
◀8▶
عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللّٰهُ عَنْھَا قَالَتْ لَمَّا اجْتَمَعَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ فَکَانُوا ثَمَانِیْنَ رَجُلاً اَلَحَّ اَبُوبَکْرٍعَلَی رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِی الظُّھُورِ فَقَالَ یَاَبَابَکْرٍ اِنَّا قَلِیْلٌ فَلَمْ یَزَلْ اَبُو بَكْرٍ یُلِحُّ حَتَّی ظَھَرَ رَسُولُ اﷲِ صلي اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وسلّم وَتَفَرَّقَ الْمُسْلِمُونَ فِیْ نَوَاحِی الْمَسْجِدِ کُلُّ رَجُلٍ فِی عَشِیْرَتِهِ وَقَامَ اَبُو بَكْرٍ فِی النَّاسِ خَطِیْبًا وَرَسُولُ اللّٰهِ جَالِسٌ فَکَانَ اَوَّلُ خَطِیْبٍ دَعَا اِلَی اللّٰهِ وَاِلَی رَسُولِِهِ وَثَارَ الْمُشْرِکُونَ عَلَی اَبِی بَکْرٍ وَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ فَضُرِبُوا فِی نَوَاحِی الْمَسْجِدِ ضَرْبًا شَدِیْدًا وَوُطِئَ اَبُو بَكْرٍ وَضُرِبَ ضَرْبًا شَدِیْدًا وَدَنَا مِنْهُ الْفَاسِقُ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيْعَةَ فَجَعَلَ یَضْرِبُهُ بِنَعْلَیْنِ مَخْصُوفَتَیْنِ وَیُحَرِّفُھُمَا لِوَجْھِهِ وَنَزَا عَلَی بَطْنِ اَبِی بَکْرٍ حَتَّی مَا یُعْرَفُ وَجْھُهُ مِنْ اَنْفِهِ وَجَاءَ بَنُوْتَمِیْمٍ یَتَعَادُونَ فَاَجْلَتِ الْمُشْرِکِیْنَ عٔنْ اَبِی بَکْرٍ وَحَمَلَتْ بَنُوتَمِیْمِ اَبَا بَکْرٍ حَتَّی اْدْخَلُوہُ مَنْزِلَهُ وَلَا یَشُکُّونَ وفِی مَوْتِهِ ثُمَّ رَجَعَتْ بَنُوتَمِیْمٍ فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ وَقَالُوا وَاللّٰهِ لٔئِنْ مَاتَ اَبُو بَكْرٍ لَنَقْتُلَنَّ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيْعَةَ فَرَجَعُوا اِلَی اَبِی بَکْرٍ فَجَعَلَ اَبُوقُحَافَةَ وَبَنُوتَمِیْمٍ یُکَلِّمُونَ اَبَا بَکْرٍ حَتَّی اَجَابَ فَتَکَلَّمَ آخِرَالنَّھَارِ فَقَالَ مَافَعَلَ رَسُولُ اﷲِصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسُّوامِنْهُ بِاَلْسِنَتِھِمْ وَعَذَلُوہُ ثُمَّ قَامُوا وَقَالُوا لِاُمِّهِ اُمِّ الْخَیْرِ اُنْظُرِی اَنْ تُطْعِمِیَهُ شَیْئًا اَوْ تَسْقِیَهُ اِیَّاهُ فَلَمَّا خَلَتْ بِهِ اَلَحَّتْ عَلَیْهِ وَجَعَلَ یَقُولُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اﷲِصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَلَتْ وَاللّٰهِ مَالِی عِلْمٌ بِصَاحِبِکَ فَقَالَ اذْھَبِی اِلَی اُمِّ جَمِیْلٍِِ بْنَتِ الخَطَّابِ فَاسْاَلِیْھَا عَنْهُ فَخَرَجَتْ حَتَّی جَاءَتْ اُمَّ جَمِیَلٍ فَقَالَتْ اِنَّ اَبَا بَکْرٍ یَسْاَلُکِ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ عَبْدِاللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا اَعْرِفُ اَبَا بَکْرٍ وَلَا مُحَمَّدَبْنَ عَبْدِاللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاِنْ کُنْتِ تُحِبِّیْنَ اَنْ اَذْھَبَ مَعَکِ اِلَی اِبْنِکِ قَالَتْ نَعَم فَمَضَتْ مَعَھَا حَتَّی وَجَدَتْ اَبَا بَکْرٍ صَرِیْعًا دَنِفًا فَدَنَتْ اُمُّ جَمِیْلٍ وَاَعْلَنَتْ بِالصِّیَاحِ وَقَالَتْ وَاللّٰهِ اِنَّ قَومًا نَالُوا ھَذَا مِنْکَ لَاَھْلُ فِسْقٍ وَکُفْرٍ وَاِنِّی لَاَرْجُو اَنْ یَنْتَقِمَ اللّٰهُ لَکَ قَالَ فَمَا فَعَلَ رَسُولُ اﷲِصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ھَذِهِ اُمُّکَ تَسْمَعُ قَالَ فَلَا شَیْئَ عَلَیْکِ مِنْھَا قَالَتْ سَالِمٌ وَصَالِحٌ قَالَ اَیَنَ ھُوَ قَالَتْ فِی دَارِابْنِ اَبِی الْاَرْقَمِ قَالَ فَاِنَّ لِلّٰهِ عَلَیَّ اَلَّا اَذُوقَ طَعَامًا وَلَا اَشْرَبَ شَرَابًا اَوِ آتِیَ رَسُولَﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاَمْھَلَتَا حَتَّی اِذَا ھَدَاَتِ الرَّجُلُ وَسَکَنَ النَّاسُ خَرَجَتَا بِهِ یَتَّکِئُ عَلَیْھِمَا حَتَّی اَدْخَلَتَاہُ عَلَی رَسُولِ ﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاَکَّبَ عَلَیْهِ رَسُولُ اﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَاَکَّبَ عَلَیْهِ الْمُسْلِمُونَ وَرَقَّ لَهُ رَسُولُ اﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِقَّةً شَدِيْدَةً فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ بِاَبِی اُمِّی یَا رسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَیْسَ بِی بَاْسٌ اِلَّا مَانَالَ الْفَاسِقُ مِنْ وَجْھِی وَھَذِهِ اُمِّی بُرَّةً بِوَلَدِھَا وَاَنْتَ مُبَارَکٌ فَادْعُھَا اِلَی اللّٰهِ وَادْعُ اللّٰهَ لَھَا عَسَی اللّٰهُ اَنْ یَسْتَنْقِذَھَا بِکَ قَالَ فَدَعَا لَھَا رَسُولُ اﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَاھَا اِلَی اللّٰهِ فَاَسْلَمَتْ
ترجمہ:اُمّ المؤمنین عائشۃ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی تعداد اڑتیس (38) ہوگئی تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعلان و اظہارِ اسلام کے لئے اجازت طلب کی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! ہم ابھی تعداد میں کم ہیں مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اصرار پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اظہارِ اسلام کی اجازت مرحمت فرما دی مسلمان مسجد حرام کے اردگرد پھیل گئے ہر شخص اپنے خاندان کو اسلام کی دعوت پیش کرنے لگا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے خطاب کے لیے کھڑے ہو گئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاس تشریف فرما تھے چنانچہ آپ پہلے خطیب تھے کہ جنہوں نے اعلانیہ طور پر لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بلایا۔ مشرکین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے بیت اللہ کے اردگرد مسلمانوں کو شدید زدوکوب کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بری طرح زدوکوب کیا گیا اور پاؤں سے روندا گیا عتبہ بن ربیعہ فاسق شخص آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک ہوا اور اپنے جوتے آپ کے چہرے پر مارنے لگا اور آپ کے پیٹ پر چڑھ کر روندنے لگا یہانتک کہ آپ کا چہرہ پہچانا نہیں جاتا تھا (آپ کے قبیلہ) بنو تیم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور مشرکین کو حضرت ابوبکر سے دور کیا وہ آپ کو کپڑے میں ڈال کر آپ کے گھر لے گئے، انہیں آپ کے زندہ رہنے کی توقع نہ تھی اس لئے انہوں نے بیت اللہ میں آ کر اعلان کیا کہ اگر ابوبکر زندہ نہ رہے تو ہم ان کے بدلے میں عتبہ بن ربیعہ کو ضرور قتل کریں گے خاندان کے لوگ آپ کے پاس واپس آگئے آپ کے والد ابو قحافہ اور بنو تیم مسلسل آپ سے گفتگو کرنے کی کوشش کرتے رہے بالآخر دن کے آخری حصے میں آپ نے ان کی بات کا جواب دیا۔ پہلا جملہ یہ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس حال میں ہیں؟ تمام خاندان ناراض ہو کر چلا گیا۔ لوگوں نے آپ کی والدہ ام الخیر کو آپ کو کچھ کھلانے پلانے کے لئے کہا۔آپ کی والدہ جب کچھ کھانے پینے کے لئے کہتیں تو آپ کہنے لگتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس حال میں ہیں یہ حالت دیکھ کر آپ کی والدہ کہنے لگیں اللہ کی قسم مجھے آپ کے دوست کی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں آپ نے کہا آپ ام جمیل بنت خطاب کے پاس چلی جائیں اور ان سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دریافت کریں وہ ام جمیل بنت خطاب کے پاس آئیں اور کہا کہ ابوبکر آپ سے محمد بن عبداللہ کے بارے میں پوچھ رہا ہے (چونکہ انہیں بھی اسلام خفیہ رکھنے کا حکم تھا اس لئے) انہوں نے کہا میں ابوبکر اور ان کے دوست محمد بن عبداللہ کو نہیں جانتی ہاں اگر آپ چاہتی ہیں تو میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے کے پاس چلی جاتی ہوں حضرت ام جمیل آپ کی والدہ کے ہمراہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں تو آپ کو زخمی اور نڈھال دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھیں خدا کی قسم ان لوگوں نے اہل فسق اور کفر کی خاطر آپ کو یہ اذیت دی ہے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے آپ کا بدلہ ضرور لے گا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس حال میں ہیں انہوں نے اشارہ کیا کہ آپ کی والدہ سن رہی ہیں آپ نے فرمایا فکر نہ کرو بلکہ بیان کرو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محفوظ ہیں اور خیریت سے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کہاں ہیں انہوں نے جواب دیا دار ارقم میں تشریف فرما ہیں خدا کی قسم میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیؤں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں نہ پہنچ جاؤں جب سب لوگ چلے گئے تو یہ دونوں خواتین آپ کو سہارا دے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے گئیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس عاشق زار کو آگے بڑھ کر تھام لیا اور اس کے بوسے لینے لگے تمام مسلمان بھی (فرطِ جذبات میں) آپ کی طرف لپکے
آپ کو زخمی دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضور میں ٹھیک ہوں میری والدہ حاضر خدمت ہیں اپنی اولاد کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والی ہیں۔ آپ مبارک شخصیت ہیں ان کے لئے دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ انہیں دولت ایمان سے نوازے امید واثق ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے وسیلہ سے انہیں دوزخ کی آگ سے محفوظ فرمائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اور وہ وہیں مشرف بہ اسلام ہو گئیں
البدايةوالنهاية جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:76-77 (الناشر مکتبہ دار ھجر)
الریاض النضرۃ للطبری جلد نمبر:1صفحہ نمبر:75-76 (مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
عسقلانی فی الاصابہ جلد نمبر:8صفحہ نمبر:386 (مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان)
◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻
رائٹر: علامہ غلام مصطفی ثالب قادری
◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں