تازہ ترین

جمعہ، 21 جنوری، 2022

حضرت ابو ہریرہ اور دودھ کا پیالہ

عَنْ مُجَاھِدٍ اَنَّ اَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: اَللّٰهِ الَّذِي لاَ اِلَهَ اِلَّا هُوَ اِنْ كُنْتُ لَاَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الاَرْضِ مِنَ الجُوعِ وَاِنْ كُنْتُ لَاَشُدُّ الحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَمَرَّ اَبُو بَكْرٍ فَسَاَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ مَا سَاَلْتُهُ اِلَّا لِيُشْبِعَنِي فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَاَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ مَا سَاَلْتُهُ اِلَّا لِيُشْبِعَنِي فَمَرَّ فَلَمْ يَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِي اَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي وَمَا فِي وَجْهِي ثُمَّ قَالَ: يَا اَبَا هِرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: الحَقْ وَمَضَى فَتَبِعْتُهُ فَدَخَلَ فَاسْتَأذَنَ فَاَذِنَ لِي فَدَخَلَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ فَقَالَ: مِنْ اَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ قَالُوا: اَهْدَاهُ لَكَ فُلاَنٌ اَوْ فُلاَنَةٌ قَالَ: اَبَا هِرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: الحَقْ اِلَى اَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي قَالَ: وَاَهْلُ الصُّفَّةِ اَضْيَافُ الاِسْلاَمِ لاَ يَأوُونَ اِلَى اَهْلٍ وَلاَ مَالٍ وَلاَ عَلَى اَحَدٍ اِذَا اَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا اِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا وَاِذَا اَتَتْهُ هَدِيَّةٌ اَرْسَلَ اِلَيْهِمْ وَاَصَابَ مِنْهَا وَاَشْرَكَهُمْ فِيهَا فَسَاءَنِي ذَلِكَ فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي اَهْلِ الصُّفَّةِ كُنْتُ اَحَقُّ اَنَا اَنْ اُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً اَتَقَوَّى بِهَا فَاِذَا جَاءَ اَمَرَنِي فَكُنْتُ اَنَا اُعْطِيهِمْ وَمَا عَسَى اَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللّٰهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ فَاَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأذَنُوا فَاَذِنَ لَهُمْ وَاَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ البَيْتِ قَالَ: يَا اَبَا هِرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: خُذْ فَاَعْطِهِمْ قَالَ: فَاَخَذْتُ القَدَحَ فَجَعَلْتُ اُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ القَدَحَ فَاُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ القَدَحَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ القَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوِيَ القَوْمُ كُلُّهُمْ فَاَخَذَ القَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَنَظَرَ اِلَيَّ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ: اَبَا هِرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: بَقِيتُ اَنَا وَاَنْتَ قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: اقْعُدْ فَاشْرَبْ فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ فَقَالَ: اشْرَبْ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ: اشْرَبْ حَتَّى قُلْتُ: لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ مَا اَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ: فَاَرِنِي فَاَعْطَيْتُهُ القَدَحَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الفَضْلَةَ



ترجمہ: مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ  اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں  بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گزر ے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا  میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلادیں مگر وہ چلے گئے اور کچھ نہیں کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہیں کیا اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آ پ نے جب مجھے دیکھا تو آپ مسکرا دیے اور آپ میرے دل کی بات سمجھ گئے اور میرے چہرے کو آپ نے تاڑلیا پھر آپ نے فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے عرض کیا لبیک  یا رسول اللہ! فرمایا میرے ساتھ آجاؤ اور آپ چلنے لگے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے  پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی  جب آپ داخل ہوئے تو ایک پیالے دودھ ملا  دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ کہا فلاں یافلانی نے آپ کے لئے تحفہ میں بھیجا ہےتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے عرض کیا لبیک  یارسول اللہ ! فرمایا  اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں  وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہیں رکھتے  البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلا لیتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے  چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو اس کا حق دار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا  جب صفہ والے آئیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں یہ دودھ انہیں دے دوں گا مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی  وہ آگئے اور اجازت چاہی انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ میں نے عرض کیا لبیک یارسول اللہ  فرمایا یہ دودھ لواور اسے ان سب حاضرین کودے دو حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے پیالہ پکڑلیا اور ایک ایک کو دینے لگا  ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہوجاتا تومجھے پیالہ واپس کردیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہوکر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کردیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کردیتا  اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہوچکے تھے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر میری طرف دیکھا اورمسکرا کر فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے عرض کیا لبیک  یارسول اللہ  فرمایا اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ  آپ نے سچ فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیااور حضور صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب بالکل گنجائش نہیں ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا خود پی گئے


صحیح البخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر:6452 


( دار ابن کثیر )


جامع الترمذی ابواب صفة القیامة حدیث نمبر:2477 


( دار السلام )


مسند احمدب حنبل حدیث نمبر:10679


 ( دارالسلام )


المستدرک للحاکم جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:17 


( دار الکتب العلمیہ )


البدایہ والنہایہ جلد نمبر:8 صفحہ نمبر:624--625


 ( دار ھجر )





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو