تازہ ترین

پیر، 25 جنوری، 2021

حضرت ابوبکر صدیق کی شان احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ

Hazrat Abu Bakar Siddique ki Shan


🔶🔶(1)🔶🔶

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًالَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍوَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي  

ترجمہ: عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں اپنی امت کے کسی  کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے  بھائی اور میرے ساتھی ہیں


صحیح بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر3656

صحیح مسلم کتاب المناقب باب فضائل ابو بکر صدیق حدیث نمبر2383

مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر 4161


🔶🔶(2)🔶🔶

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُه

ترجمہ:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی قوم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ جن میں ابوبکر صدیق ہوں تو ان کی امامت ابوبکر صدیق کے بھی علاوہ کوئی اور شخص کروائے


سنن ترمذی کتاب المناقب ابواب مناقب صدیق و عمر رضی اللہ تعالی عنہما حدیث نمبر 3673


🔶🔶(3)🔶🔶

عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ يَعْنِي الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ  فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ  وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ  وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ وَبَابِ الرَّيَّانِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا عَلَى هَذَا الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ وَقَالَ هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ 


ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیامثلاً دو روپے دو کپڑے دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیے   تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ادھر آ یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہو گا اسے صیام اور ریان کے دروازے سے بلایا جائے گاحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جس کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں ابو بکر ایسا شخص بھی ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص تو ہے 


صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث نمبر:3666

السنن الکبری للنسائی حدیث نمبر:2219

مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر:7621

صحیح ابن حبان حدیث نمبر:3418

مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر:31965


🔶🔶(4)🔶🔶

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّة


ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے دریا فت کیا    آج تم میں سے کس نے  روزہ رکھا ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :  میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرما یا آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا میں  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فر ما یا آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھا نا کھلا یا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے آپ نے فر ما یا آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فر ما یا جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ جنت میں چلا جاتا ہے 


صحیح مسلم کتاب الزکاۃ حدیث نمبر:1028

السنن الکبری للنسائی حدیث نمبر:8108

السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر:7619

شعب الایمان للبیہقی حدیث نمبر:9199


🔶🔶(5)🔶🔶

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا


ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے  تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے آپ کا نام عتیق رکھا دیا گیا 


سنن ترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما حدیث نمبر:3679

صحیح ابن حبان حدیث نمبر:6864

مستدرک للحاکم حدیث نمبر:3557

طبرانی المعجم الکبیر جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:53


🔶🔶(6)🔶🔶

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِی فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي 


ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو اے ابوبکر میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے


 سنن ابی داؤد کتاب سنہ باب الخلفاء حدیث نمبر:4652

المستدرک للحاکم حدیث نمبر:4444

طبرانی المعجم الاوسط حدیث نمبر:2594


🔶🔶(7)🔶🔶

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْخَيْرُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ خَصْلَةً إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا جَعَلَ فِيهِ وَاحِدَۃً مِنْهُنًّ يُدْخِلُهُ بِهَا الْجَنَّةَ فقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ھل فِیَّ شَیئٌ مِنھُنَّ قَالَ نَعَمْ جَمِیْعًا مِنْ کُلٍ


ترجمہ:حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھی خصلتیں تین سو ساٹھ ہیں جب اللہ رب العزت کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اللہ رب العزت ان تین سو ساٹھ خصلتوں میں سےایک خصلت اسے عطا فرماتا ہے جس کے ذریعے اسے جنت میں داخل کرتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا ان تمام خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت مجھ میں بھی پائی جاتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا اے ابوبکر تو ایک خصلت کی بات کرتا ہے اللہ رب العزت نے وہ ساری خصلتیں تجھے عطا فرمادی ہیں


تاریخ مدینۃ الدمشق جلد نمبر: 30صفہ نمبر: 103

مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیاء صفحہ نمبر:35

تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ نمبر:138


🔶🔶(8)🔶🔶

عَنْ أَسَدِ بْنِ زَرَارَةَ قال رَأَيْتُ رَسُولَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم خَطَبَ النّاسَ فَالْتَفَتَ الْتِفَافَةً فَلَمْ يَرَ أبَا بَکرٍ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَبُوبَکْرٍ أَبُوبَکْرٍ إنّ رُوْحَ الْقُدُسِ جِبْرِيْلَ عليه السّلام أَخْبَرَنِي اٰنِفًا إنّ خَيْرَ أُمَّتِکِ بَعْدَکَ أَبُوبَکْرٍ الصِّدِّيْقُ


ترجمہ:حضرت اسد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ دیکھا  تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ابوبکر پکارا کہ روح القدس جبرئیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ آپ کی امت میں سب سے بہتر آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں


طبرانی المعجم الاوسط جلد نمبر: 6 صفحہ نمبر: 292حدیث نمبر:6448

مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:9 صفحہ نمبر:44


🔶🔶(9)🔶🔶

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَال سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا قَالَ فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ قُلْتُ مِثْلَهُ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا

 

ترجمہ:زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے کہا اگر میں ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ان کے لیے بھی چھوڑ آیا ہوں اور ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے پوچھا ابوبکر اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے تو انہوں نے عرض کیا ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں میں نے اپنے جی میں کہا اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا


سنن ترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما حدیث نمبر:3675

سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ حدیث نمبر:1678

سنن دارمی جلد نمبر: 1 صفحہ نمبر: 480 حدیث نمبر:1660

المستدرک للحاکم جلد نمبر: 1 صفحہ نمبر: 574 حدیث نمبر:1510


🔶🔶(10)🔶🔶

عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ  شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ هَلْ قُلْتَ فِي أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ قَالَ  قُلْ حَتَّى أَسْمَعَ قَالَ قُلْتُ:
وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمَنِيفِ وَقَدْ طَافَ الْعَدُوُّ بِهِ إِذْ صَاعَدَ الْجَبَلا


وَكَانَ حِبَّ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ عَلِمُوا مِنَ الْخَلائِقِ لَمْ يَعْدِلْ بِهِ بَدَلَا
فَتَبَسَّم رَسُولُ اﷲِ صلي علیہ وآلہ وسلّم


ترجمہ:حضرت حبیب بن ابی حبیب رضی اللہ تعالی عنہ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا احسان کیا تم نے وہ بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں بھی کچھ کہا ہے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ عرض کرتے ہیں جی  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آپ نے فرمایا چلو پھر مجھے بھی سناؤ تو حضرت حسان نے کہا:

 وہ بلند پہاڑ کے غار میں دو میں سے دوسرے تھےاور جب وہ پہاڑ پر چڑھ رہے تھے تو دشمن کا گھیراؤ کر رہے تھے 


اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت محبوب تھےاور یہ بات سب جانتے ہیں کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی ان کا ہم پلہ نہیں ہے


یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرمانے لگے


المستدرک للحاکم جلد نمبر: 3 صفحہ نمبر: 67 حدیث نمبر: 4413

طبقات ابن سعد جلد نمبر: 3 صفحہ نمبر:159


🔶🔶(11)🔶🔶

عَنْ أبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَاَیْتُ رَسُولَ اﷲِ صلي اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم وَاقِفًا مَعَ عَلِیٍّ اِذْ اَقْبَلَ اَبُوبَکْرٍ فَصَافَحَہُ النَبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم وَعَانَقَہُ وَقَبَّلَ فَاہُ اَبِی بَکْرٍ فَقَالَ یَا اَبَا الْحَسَنِ مَنْزِلَةُ اَبِيْ بٔكْرٍ عِنْدِيْ كَمَنْزِلَتِيْ عِنْدَ رَبِّيْ


ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کھڑے تھے اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ آئےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا گلے لگایا اور ان کا ماتھا چوماحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابو الحسن یعنی اے علی رضی اللہ تعالی عنہ میرے نزدیک ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی قدر وہی ہے جو اللہ کے ہاں میری قدر ہے

ریاض النضرۃ للطبری جلد نمبر:1صفحہ نمبر:185


مزید پڑھیں: پوسٹ:2 شان صدیق اکبر بزبان مصطفی

مزید پڑھیں: پوسٹ:3 شان صدیق اکبر بزبان مصطفی 

______________________

رائٹر: علامہ غلام مصطفی ثالب قادری 

________________________

🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو