◀1▶
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ اَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ، اِلَى زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَاَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ، يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا ابْنَ اَخِي وَاللّٰهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَقَدُمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ اَعِي مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا، وَمَا لَا، فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا، بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَاثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ، اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ اَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَاُجِيبَ، وَاَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: اَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللّٰهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللّٰهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللّٰهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَاَهْلُ بَيْتِي اُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي اَهْلِ بَيْتِي، اُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي اَهْلِ بَيْتِي، اُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي اَهْلِ بَيْتِي» فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ اَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ اَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ اَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:یزید بن حیان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم ( ہم تینوں ) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا : زید!آ پ کو خیر کثیرحاصل ہوئی ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ، ان کی بات سنی ، ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں ۔ زید!آپ کوخیر کثیرحاصل ہوئی ۔ زید!ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ( کوئی ) حدیث سنایئے ۔ ( حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : بھتیجے!میری عمر زیادہ ہوگئی ، زمانہ بیت گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں ، اب جو میں بیان کروں اسے قبول کرو ۔ اور جو ( بیان ) نہ کرسکوں تو اس کا مجھےمکلف نہ ٹھہراؤ ۔ پھر کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی ۔ پھر فرمایا کہ اس کے بعد اے لوگو! میں آدمی ہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا ( موت کا فرشتہ ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں ۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے ۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو ۔ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی ۔ پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں ، تین بار فرمایا ۔ اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون سے ہیں ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے ۔ حصین نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی ، عقیل ، جعفر اور عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اولاد ہیں ۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں
صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب من فضائل علی ابن ابی طالب رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ صفحہ نمبر:1130 حدیث نمبر: 2408 ( الناشر: دار طيبة )
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1370 حدیث نمبر: 19265 ( الناشر مکتبہ دارالسلام للنشر والتوزیع )
تفسیر ابن کثیر جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:414 -415 ( الناشر مکتبہ دار طيبة للنشر والتوزیع )
▶2◀
. عَنْ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : اِنِّي تَارِکٌ فِيْکُم مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، اَحَدُهُمَا اَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ : کِتَابُ اللهِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَاءِ اِلَي الْأَرْضِ وَ عِتْرَتِي : اَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّي يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوْا کَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيْهِمَا
ترجمہ:حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر میرے بعد تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میری عترت یعنی اھلِ بیت اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گی پس دیکھو کہ تم میرے بعد ان سے کیا سلوک کرتے ہو؟
سنن الترمذی ابواب المناقب باب فی مناقب اھل بیت النبی صفحہ نمبر:859 حدیث نمبر:3788 ( مکتبہ دارالسلام للنشر والتوزیع )
المعجم الکبیر للطبرانی عن ابی سعید الخدری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:62_63 حدیث نمبر:2678 ( الناشر مکتبہ ابن تیمیہ )

x
▶3◀
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَاَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا اِنْ اَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي اَهْلَ بَيْتِي
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری عترت یعنی اہل بیت ہیں
سنن الترمذی ابواب المناقب صفحہ نمبر:859 حدیث نمبر:3786 ( مکتبہ دارالسلام للنشر والتوزیع )
المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:89 حدیث نمبر:4757 ( الناشر دار الحرمین )
▶4◀
. عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالْجَحْفَةِ فَقَالَ : اَلَسْتُ اَوْلَي بِاَنْفُسِکُمْ؟ قَالُوْا : بَلَي يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ : فَاِنِّي سَائِلُکُمْ عَنِ اثْنَيْنِ : عَنِ الْقُرَآنِ وَعَنْ عِتْرَتِي. اَلاَ وَلاَ تَقَدَّمُوْا قُرَيْشًا فَتَضِلُّوْا وَلاَ تَخْلُفُوْا عَنْهَا فَتَهْلِکُوْا وَلاَ تُعَلِّمُوْهَا فَهُمْ اَعْلَمُ مِنْکُمْ قُوَّةَ رَجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِهِمْ. لَوْلاَ اَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَاَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللهِ خِيَارُ قرَيْشٍ خِيَارُ النَّاِس
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نبی اکرم ﷺ جحفہ کے مقام پر ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا : کیا میں تمہاری جانوں سے بڑھ کر تمہیں عزیز نہیں ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا : پس میں تم سے دو چیزوں کے بارے سوال کرنے والا ہوں. قرآن کے بارے اور اپنی عترت اہل بیت کے بارے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ قریش پر پیش قدمی نہ کرو کہ تم گمراہ ہو جاؤ اور نہ انہیں سکھاؤ کہ وہ تم سے زیادہ جانے والے ہیں اور اگر قریش فخر نہ کرتے تو میں ضرور ان کو اللہ کے ہاں ان کے مقام کے بارے بتاتا قریش میں بہترین لوگ تمام لوگوں سے بہترین ہیں
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر: 195 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ )
الحلیۃ الاولیاء لابی نعیم جلد نمبر:9 صفحہ نمبر:64 ( مکتبہ دار الفکر )
▶5◀
عَنْ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ رضي الله عنه في رواية طويلة : قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : انْظُرُوْا کَيْفَ تَخْلُفُوْنِي فِي الثَّقَلَيْنِ. فَنَادَي مُنَادٍ وَ مَا الثَّقَلاَنِ يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ : کِتَابُ اللهِ طَرَفٌ بِيَدِ اللهِ وَ طَرَفٌ بِاَيْدِيْکُمْ فَاسْتَمْسِکُوْا بِهِ لاَ تَضِلُّوْا، وَالآخَرُ عِتْرَتِي وَ اِنَّ اللَّطِيْفَ الْخَبِيْرَ نَبَّاَنِي اَنَّهُمَا لَنْ يَّتَفَرَّقَا حَتَّي يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، سَاَلْتُ رَبِّي ذَلِکَ لَهُمَا، فَلاَ تَقَدَّمُوْهُمَا فَتَهْلِکُوْا، وَلاَ تَقْصُرْوا عَنْهُمَا فَتَهْلِکُوْا، وَلاَ تُعَلِّمُوْهُمْ فَاِنَّهُمْ اَعْلَمُ مِنْکُمْ ثُمَّ اَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ اَوْلَي بِهِ مِنْ نَفْسِي فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ اللَّهُمَّ، وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ
ترجمہ:حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پس یہ دیکھو کہ تم دو بھاری چیزوں میں مجھے کیسے باقی رکھتے ہو. پس ایک نداء دینے والے نے ندا دی یا رسول اللہ! وہ دو بھاری چیزیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی کتاب جس کا ایک کنارا اللہ کے ہاتھ میں اور دوسرا کنارا تمہارے ہاتھوں میں ہے پس اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے اور دوسری چیز میری عترت ہے اور بے شک اس لطیف خبیر رب نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں چیزیں کبھی بھی جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ میرے پاس حوض پر حاضر ہوں گی اور ایسا ان کے لئے میں نے اپنے رب سے مانگا ہے۔ پس تم لوگ ان پر پیش قدمی نہ کرو کہ ہلاک ہو جاؤ اور نہ ہی ان سے پیچھے رہو کہ ہلاک ہو جاؤ اور نہ ان کو سکھاؤ کیونکہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا : پس میں جس کی جان سے بڑھ کر اسے عزیز ہوں تو یہ علی اس کا مولیٰ ہے اے اللہ! جو علی کو اپنا دوست رکھتا ہے تو اسے اپنا دوست رکھ اور جو علی سے عداوت رکھتا ہے تو اس سے عداوت رکھ
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:166 حدیث نمبر:4971 ( مکتبہ ابن تیمیہ )
▶6◀
عَنِ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : اَيُّهَا النَّاسُ، اِنِّي تَارِکٌ فِيْکُمْ اَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا اِنِ اتَّبَعْتُمُوْهُمَا، وَهُمَا : کِتَابُ اللهِ، وَاَهْلُ بَيْتِي عِتْرَتِي. ثُمَّ قَالَ اَتَعْلَمُوْنَ اَنِّي اَوْلَي بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالُوْا : نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيُّ مَوْلَاه
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جانے والا ہوں اور اگر تم ان کی اتباع کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں مؤمنین کی جانوں سے بڑھ کر ان کو عزیز ہوں آپ ﷺ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ہاں یا رسول اللہ! تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے
المستدرک علی الصحیحین جلد نمبر:3 صفحہ نمبر: 118 حدیث نمبر:4577 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ )
▶7◀
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ، لَعَنَهُمُ اللهُ، وَ کُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ کَانَ : الزَّائِدُ فِي کِتَابِ الله، وَ الْمُکَذِّبُ بِقَدْرِ اللهِ وَ الْمُسَلِّطُ بِالْجَبَرُوْتِ لِيُعِزَّ بِذَلِکَ مَنْ أَذَلَّ اللهُ، وَ يُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللهُ، وَ الْمُسْتَحِلُّ لِحُرُمِ اللهِ، وَ الْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللهُ، وَ التَّارِکُ لِسُنَّتِي
ترجمہ: ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چھ بندوں پر میں لعنت کرتا ہوں اور اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور ہر نبی مستجاب الدعوات ہے وہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے : جو کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی قدر کو جھٹلانے والا ہو اور ظلم و جبر کے ساتھ تسلط حاصل کرنے والا ہو تاکہ اس کے ذریعے اے عزت دے سکے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے اور اسے ذلیل کر سکے جسے اللہ نے عزت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے والا اور میری عترت یعنی اہل بیت کی حرمت کو حلال کرنے والا اور میری سنت کا تارک
سنن الترمذی ابواب القدر باب اعظام امر الایمان بالقدر صفحہ نمبر:495 حدیث نمبر:2154 ( مکتبہ دارالسلام للنشر والتوزیع )
المستدرک علی الصحیحین جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:572 حدیث نمبر: 3941 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:17 صفحہ نمبر:43 حدیث نمبر:89 ( مکتبہ ابن تیمیہ )
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:443 حدیث نمبر: 4010 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ )
▶8◀
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اِنِّي تَارِکٌ فِيْکُمْ خَلِيْفَتَيْنِ : کِتَابَ اللهِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ. اَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ اِلَي الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي اَهْلَ بَيْتِي، وَاِنَّهُمَا لَنْ يَّتَفَرَّقَا حَتَّي يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ
ترجمہ: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک میں تم میں دو نائب چھوڑ کر جا رہا ہوں. ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب جو کہ آسمان و زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی (کی طرح) ہے اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت اور یہ کہ یہ دونوں اس وقت تک ہرگز جدا نہیں ہوں گے جب تک یہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں پہنچ جاتے
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1550 حدیث نمبر:21578 ( مکتبہ دارالسلام للنشر والتوزیع )
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:18 صفحہ نمبر: 446 حدیث نمبر:14953 ( الناشر دار المنھاج للنشر والتوزیع )
▶9◀
عَنْ اُمِّ سَلْمَةَ رضی اللّٰه تعالیٰ عنھا قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ «عَلِیٌّ مَعَ الحَقِّ وَ القُرآنِ، وَ الحَقُّ وَالقُرآنُ مَعَ عَلِیٍّ، لَا یَفَتَرِقَانِ حَتّى یَرِدا عَلَیَّ الحَوض»
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے حتیٰ کہ یہ دونوں اکٹھے ہی میرے پاس حوضِ کوثر پر آئیں گے
المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:135 حدیث نمبر:4880 ( دار الحرمین )
الصواعق المحرقہ للہیثمی صفحہ نمبر: 368 ( مکتبہ فیاض للتجارۃ والتوزیع )
▶10◀
عَنْ اَبِي ثَابِتٍ، مَوْلَى اَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَلَمَّا رَاَيْتُ عَائِشَةَ وَاقِفَةً دَخَلَنِي بَعْضُ مَا يَدْخُلُ النَّاسَ، فَكَشَفَ اللَّهُ عَنِّي ذَلِكَ عِنْدَ صَلاةِ الظُّهْرِ، فَقَاتَلْتُ مَعَ اَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا فَرَغَ ذَهَبْتُ اِلَى الْمَدِينَةِ، فَاَتَيْتُ اُمَّ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: اِنِّي وَاللَّهِ مَا جِئْتُ اَسْألُ طَعَامًا وَلا شَرَابًا وَلَكِنِّي مَوْلَى لاَبِي ذَرٍّ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا فَقَصَصْتُ عَلَيْهَا قِصَّتِي، فَقَالَتْ: اَيْنَ كُنْتَ حِينَ طَارَتِ الْقُلُوبُ مَطَائِرَهَا؟ قُلْتُ: اِلَى حَيْثُ كَشَفَ اللَّهُ ذَلِكَ عَنِّي عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: اَحْسَنْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْض
ترجمہ: حضرت ابو ذرؓ کے آزاد کردہ غلام ابو ثابت فرماتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر میں حضرت علیؓ کے ہمرا تھا، جب میں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو کھڑے دیکھا تو میرے دل میں بھی وسوسہ پیدا ہوا جو دوسرے لوگوں کے دلوں میں تھا۔ لیکن نماز ِ ظہر کے وقت اللہ تعالیٰ نے وہ وسوسہ مجھ سے دور کر دیا ۔ چنانچہ میں نے امیر المومنین کے ہمراہ قتال کیا۔ جب جنگ ختم ہوئی تو میں مدینہ منورہ میں آیا، تو میں حضرت ام سلمہؓ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: خدا کی قسم میں کوئی کھانے یا پینے کی کوئی چیز مانگنے کے لئے نہیں آیا بلکہ میں تو حضرت ابو ذر کا آزادکردہ غلام ہوں، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ میں نے ان کو اپنا واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا جب دل اپنے مقام پر اُڑ رہے تھے تو تُو اس وقت کیسے بچ گیا؟ میں نے کہا: میری بھی وہی حالت تھی لیکن زوالِ شمس کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے شرح صدر عطا کر دیا ۔ انہوں نے کہا: تم نے اچھا کیا، رسول اللہﷺ کو میں نے یہ فرماتے سنا ہے: "علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ رہے گا اور یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے حتیٰ کہ یہ دونوں اکٹھے ہی میرے پاس حوضِ کوثر پر آئیں گے
المستدرک علی الصحیحین جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:134 حدیث نمبر:4628 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
_______________________
رائٹر: حافظ غلام مصطفی قادری
________________________
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں