تازہ ترین

جمعہ، 12 مارچ، 2021

اللہ رب العزت کے محبوب اعمال احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ


▶1◀

عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَجُلًا جَاءَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ , اَيُّ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ؟ وَاَيُّ الْأَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَى اللّٰهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَحَبُّ النَّاسِ اِلَى اللهِ تَعَالَى اَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ، وَاَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللّٰهِ تَعَالَى سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ، اَوْ تَكَشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً، اَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا، اَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا، وَلَاَنْ اَمْشِيَ مَعَ اَخِي فِي حَاجَةٍ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ اَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ شَهْرًا - وَمَنَ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ، وَلَوْ شَاءَ اَنْ يُمْضِيَهُ اَمْضَاهُ مَلَأَ اللّٰهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَشَى مَعَ اَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى يَتَهَيَّاَلَهُ اَثْبَتَ اللّٰهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْاَقْدَامِ»


ترجمہ: عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! کونسا شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے اور کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے ہاں وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہے ۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دے، یا اس سے مصیبت دور کرے ،یا اس کا قرض ادا کرے یا اس کی بھوک ختم کرے، اور اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلوں تو یہ مجھے اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جس شخص نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا، جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی طاقت کے باوجود اپنے غصے کو پی گیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری ہونے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدم رکھیں گے جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے


المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:12 صفحہ نمبر: 453 حدیث نمبر:13646 ( الناشر :قاھرہ ؛ مصر مکتبہ ابن تیمیہ)

المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:139 حدیث نمبر:6026 ( الناشر دار الحرمین )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:265 - 266 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان )

ابن ابی الدنیا کتاب قضاء الحوائج صفحہ نمبر:47 حدیث نمبر:36 (دار النشر مكتبة القرآن بلد النشر  مصر )


▶2◀

عَنْ عَبْدِاللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ قَالَ :    سَاَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، قَالَ : ثُمَّ اَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ اَيٌّ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ   میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔پھر  پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔    


صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب فضل الصلاۃ لوقتھا صفحہ نمبر:138 حدیث نمبر: 527  ( مکتبہ دار ابن کثیر دمشق بیروت )

صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون الاعمال بالله تعالیٰ افضل الاعمال صفحہ نمبر: 53 حدیث نمبر:139 (  الناشر دار طیبة )

السنن للنسائی  کتاب المواقیت با ب فضل الصلاۃ لمواقیتھا  صفحہ نمبر:89 حدیث نمبر: 610 ( مکتبہ دار الحضارۃ )

مسند احمد بن حنبل  صفحہ نمبر:239 حدیث نمبر:3890  صفحہ نمبر: 314 حدیث نمبر: 4186 ( مکتبہ دار السلام )

المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:10 صفحہ نمبر:23 حدیث نمبر:9805 (  الناشر مکتبہ ابن تیمیہ )

شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:175 حدیث نمبر: 7824 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶3◀

 عَنْ اَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ: خَرَجَ اِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اَتَدْرُونَ اَيُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ؟ قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ، وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِهَادُ، قَالَ: اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللهِ الْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ»


ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اعمال کون کون سے ہیں؟ ایک شخص نے عرض کیا: نماز اور زکوٰۃ، جبکہ دوسرے نے عرض کیا: جہاد، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک (سب سے )زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ (صرف) اللہ کے لئے (کسی سے) محبت کی جائے اور (صرف) اللہ ہی کے لئے (كسي سے)نفرت کی جائے۔


مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1526 حدیث نمبر:21303 ( مکتبہ دار السلام )

مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:1صفحہ نمبر:445  حدیث نمبر:308 ( دارالمنھاج )


▶4◀

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، اَنَّهَا قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْأَعْمَالِ اَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ :    اَدْوَمُهَا ، وَاِنْ قَلَّ ، وَقَالَ : اكْلَفُوا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ   


ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں  کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ فرمایا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے، خواہ وہ تھوڑی ہی ہو اور فرمایا نیک کام کرنے میں اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی طاقت ہے  ( جو ہمیشہ نبھ سکے ) ۔ 


صحیح بخاری کتاب الرقائق  باب القصد والمداومة علی العمل  صفحہ نمبر:1609 حدیث نمبر: 6465  ( مکتبہ دار ابنِ کثیر دمشق بیروت )

السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:2 صفحہ پر:683  حدیث نمبر:4566  ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان ) (  وَقَالَ : اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ ) یہ الفاظ مذکور نہیں ہیں 


▶5◀

 عَنْ  مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَيُّ الْأَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: اَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» 


ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہےتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس حال میں مروں کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو 


موارد الظمآن للہیثمی جلد نمبر: 7  صفحہ نمبر: 313 حدیث نمبر:  2318   (الناشر دار الثقافتةالعربیة بیروت )

الترغیب والترہیب للمنذری  جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:253 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶6◀

عَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ: اَتَيْتُ النَّبِيَّ  صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِهِ قَالَ: قُلْتُ: اَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ اَنَّكَ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اَيُّ الأَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ؟ قَالَ: (( اِيمَانٌ بِاللهِ))  قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ:(( ثُمَّ صِلَةُ الرَّحِمِ))  قَالَ قُلْتُ یَا رسُولَ اللهِ ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ (( ثُمَّ الْاَمْرُ بِالْمَرُوفِ وَالنَّهْيُ   عَنِ الْمُنْکَرِ ))  قَالَ قُلْتُ یَا رسُولَ اللهِ  اَيُّ الْاَعْمَالِ اَبْغَضُ اِلَى اللهِ؟ قَالَ (( اَلْاِشْرَاکُ بِاللهِ  ))  قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ ((  ثُمَّ قَطِیْعَةُ الرَّحِمِ  )) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ ((  ثُمَّ الْاَمْرُ بِالْمُنْکَرِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمَعْرُوفِ ))


ترجمہ:خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیںکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ  صحابہ کرام کی جماعت میں موجود تھے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ہی وہ صاحب ہیں کہ جو گمان کرتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں انہوں نے فرمایا جی ہاں تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ رب العزت کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ پر ایمان لانا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے بعد پھر کون سا عمل ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا پھر صلہ رحمی ہے پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس کے بعد کونسا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کے بعد اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل کونسا ہے تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ پھر کون سا ہے فرمایا کہ قطع رحمی کرنا پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ پھر کونسا ہے تو آپ نے فرمایا پھر لوگوں کو برائی کا حکم دینا اور نیکی سے منع کرنا 


مسند ابو یعلیٰ  جلد نمبر:12 صفحہ نمبر:229  حدیث نمبر:6839 ( دار المامون للتراث )

مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:16 صفحہ نمبر: 514 حدیث نمبر:13477 ( مکتبہ دار المنھاج )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:227 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶7◀

عَنْ اَبِی جُحَیْفَةَ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ  قَالَ  قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ  اَیُّی الْاَعْمَاَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ ؟  قَالَ فَسَکَتُوا فَلَمْ یُجِبْهُ اَحَدٌ  قَالَ ھُوَ حِفْظُ اللِّسَانِ


ترجمہ:حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کے نزدیک کونسا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے تو فرماتے ہیں کہ تمام لوگ جو ہیں وہ چپ رہے کسی نے بھی جواب نہ دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل زبان کی حفاظت کرنا ہے


الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:336 ۔337 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )

شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:4 صفحہ نمبر: 245 حدیث نمبر:4950 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶8◀

ع٘نْ جَابِرٍ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ قَالَ  قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ  اِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمَعَالِییَ   الْاُمُورِ  وَیَکْرَہُ سَفْسَافَھَا 


ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی اچھے اور اعلی حکام کو پسند اور برے کاموں کو ناپسند فرماتا ہے 


شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:241 حدیث نمبر:8012 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )

المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:78  حدیث نمبر:6906  (الناشر دار الحرمین )

مکارم الاخلاق للطبرانی   صفحہ نمبر:213  حدیث نمبر:120  ( دار البشائر الاسلامیہ )


▶9◀

عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضي الله عنه ااَتَی النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ ااَحَبَّنِيَ اللهُ وَااَحَبَّنِيَ النَّاسُ  فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اِزْھَدْ فِي الدُّنْیَا یُحِبَّکَ اللهُ، وَازْھَدْ فِيْمَا فِي اَيْدِي النَّاسِ یُحِبُّوْکَ


ترجمہ:حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دنیا سے بے رغبت ہو جا، اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جا، لوگ بھی تجھ سے محبت کریں گے


سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب الزھد فی الدنیا  صفحہ نمبر:444 حدیث نمبر:4102 ( بیت الافکار الدولیة)  

المستدرک للحاکم جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:348 حدیث نمبر: 7873 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )  

 المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:193 حدیث نمبر:5972 ( مکتبہ ابن تیمیہ )

شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:344 حدیث نمبر: 10523 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶10◀

قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " اِنَّ مِنْ اَحَبِّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَفْوَ عِنْدَ الْقُدْرَةِ، وَتَسْكِينَ الْغَضَبِ عِنْدَ الْحِدَّةِ، وَالرِّفْقَ بِعِبَادِ اللهِ "، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " لَا عَفْوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ، وَلَا فَضْلَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ 


ترجمہ:حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ رب العزت کے یہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل قدرت کے وقت معاف کرنا  غصے کی تسکین کرنا اور اس کو ٹھنڈا کرنا شہد تو تیزی کے وقت اللہ تعالی کے بندوں کے ساتھ نرمی کرنا ہے   حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ جو شخص قدرتی نہیں رکھتا اس کا درگزر کرنا کوئی معاف کرنا نہیں ہے قدرت  نہ  رکھنے والے کی کوئی فضیلت نہیں ہے 


شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:318 حدیث نمبر :8321 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

 رائٹر: علامہ غلام مصطفی ثالب قادری 

◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو