تازہ ترین

جمعرات، 28 جنوری، 2021

حضرت ابو بکر صدیق کی شان احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ

Hazrat Abu Bakar Siddique ki Shan

⏩⏩(1)⏪⏪

عَنْ ابْنِ اَبِي الْمُعَلَّى عَنْ اَبِيهِ اَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ اِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ اَنْ يَعِيشَ وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ اَنْ يَأْكُلَ،‏‏‏‏ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ قَالَ فَبَكَى اَبُو بَكْرٍ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ اَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ ‏‏‏‏‏‏اِذْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ قَالَ فَكَانَ اَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَاَمْوَالِنَا ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنَ النَّاسِ اَحَدٌ اٰمَنَّ اِلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ اَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ وُدٌّ وَاِخَاءُ إِيمَانٍ ‏‏‏‏‏‏وُدٌّ وَاِخَاءُ اِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَاِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ  


ترجمہ: حضرت ابن ابی معلی رضی الله عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایاایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو  ترجیح دے  تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیاوہ کہتے ہیں یہ سن کر ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے تو صحابہ نے کہا کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر  ابوبکر رضی الله عنہ نے کہابلکہ ہم اپنے باپ دادا اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتالیکن  ہمارے اور ان کے درمیان ایمان کی دوستی موجود ہے یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا پھر فرمایاتمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل  ہے


جامع ترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3659

مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر:15922

المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:22صفحہ نمبر:328 حدیث نمبر:825

احمد بن حنبل فی فضائل الصحابہ حدیث نمبر:21


⏩⏩(2)⏪⏪

عَنْ الْبَرَاءِ  قَالَ اشْتَرَى اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا  بَكْرٍ لِعَازِبٍ مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْ الَيَّ رَحْلِي فَقَالَ عَازِبٌ لَا حَتَّى تُحَدِّثَنَا كَيْفَ صَنَعْتَ اَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ قَالَ ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فَاَحْيَيْنَا اَوْ سَرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى اَظْهَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ اَرَى مِنْ ظِلٍّ فَآوِيَ اِلَيْهِ فَاِذَا صَخْرَةٌ اَتَيْتُهَا فَنَظَرْتُ بَقِيَّةَ ظِلٍّ لَهَا فَسَوَّيْتُهُ ثُمَّ فَرَشْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ اضْطَجِعْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَاضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَنْظُرُ مَا حَوْلِي هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا  فَاِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ لِمَنْ اَنْتَ يَا غُلَامُ  قَالَ  لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ  قَالَ  نَعَمْ  قُلْتُ فَهَلْ اَنْتَ حَالِبٌ لَنَا قَالَ نَعَمْ فَاَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ  ثُمَّ اَمَرْتُهُ اَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّ اَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ فَقَالَ  هَكَذَا ضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالْأُخْرَى فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ  فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ  فَانْطَلَقْتُ بِهِ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ  اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ثُمَّ قُلْتُ قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ  قَالَ بَلَى فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا فَلَمْ يُدْرِكْنَا اَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فَقُلْتُ هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ  فَقَالَ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللَّهَ مَعَنَا  


 ترجمہ:حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم میں خریدا پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء سے کہو کہ وہ میرے گھر یہ پالان اٹھا کر پہنچا دیں اس پر عازب رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرنے کے لیے  کس طرح نکلے تھے حالانکہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش بھی کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ مکہ سے نکلنے کے بعد ہم رات بھر چلتے رہے اور دن میں بھی سفر جاری رکھا لیکن جب دوپہر ہو گئی تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ نظر آ جائے اور ہم اس میں کچھ آرام کر سکیں آخر ایک چٹان دکھائی دی اور میں نے اس کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ سایہ ہےپھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک فرش وہاں بچھا دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اب آرام فرمائیں چنانچہ آپ لیٹ گئے پھر میں چاروں طرف دیکھتا ہوا نکلا کہ کہیں لوگ ہماری تلاش میں نہ آئے ہوں پھر مجھ کو بکریوں کا ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریاں ہانکتا ہوا اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح سایہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ لڑکے تم کس کے غلام ہو اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا پھر میں نے اس سے پوچھا کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے اس نے کہا جی ہاں میں نے کہا کیا تم دودھ دوہ سکتے ہوں اس نے کہا کہ ہاں چنانچہ میں نے اس سے کہا اور اس نے اپنے ریوڑ کی ایک بکری باندھ دی۔ پھر میرے کہنے پر اس نے اس کے تھن کے غبار کو جھاڑا اب میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بھی جھاڑ لے اس نے یوں اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا اور میرے لیے تھوڑا سا دودھ دوہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن میں نے پہلے ہی سے ساتھ لے لیا تھا اور اس کے منہ کو کپڑے سے بند کر دیا تھا اس میں ٹھنڈا پانی تھا پھر میں نے دودھ پر وہ پانی  ٹھنڈا کرنے کے لیے ڈالا اتنا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو اسے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا آپ بھی بیدار ہو چکے تھے میں نے عرض کیا دودھ پی لیجئے آپ نے اتنا پیا کہ مجھے خوشی حاصل ہو گئی پھر میں نے عرض کیا کہ اب کوچ کا وقت ہو گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے چلو چنانچہ ہم آگے بڑھے اور مکہ والے ہماری تلاش میں تھے لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہم کو کسی نے نہیں پایا وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ یا رسول اللہ ہمارا پیچھا کرنے والا دشمن ہمارے قریب آ پہنچا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے


صحیح بخاری کتاب فضائل صحابہ حدیث نمبر:3652


⏩⏩(3)⏪⏪

عَنْ جَابِرِابْنِ عَبْدِاللّٰه رضی الله تعالٰی عنہما قَالَ کُنَّا عِنْدَالنَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اِذَا جَاءَہُ وَفْدُ عَبْدِالْقَیْسِ فَتَکَلَّمَ بَعْضُھُمْ بِکَلَامٍ لَغَا فِی الْکَلَامِ فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اِلی اَبِیْ بَکْرٍ وَقَالَ یَا اَبَا بَکْرٍ سَمِعْتَ مَاقَالُوا قَالَ نَعَمْ یَا رسُول اللّٰهِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم وَفَھِمْتُهُ قَالَ فَاَجِبْھُمْ قَالَ فَاَجَابَھُمْ اَبُوبَکْرٍ رضی الله تعالٰی عنہ بِجَوَابٍ وَاَجَادَالْجَوَّابَ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلي اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم یَااَبَابَکْرٍ اَعْطَاکَ اللّٰهُ الرِّضْوَانَ الْاَکْبَرَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ وَمَا الرِّضْوَانُ الْاَکْبَرُ یَا رسُولَ اللّٰهِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم یَتَجَلَّی اللّٰهُ لِعِبَاهِ فَیْ الْاٰخِرَۃِ عَامَّۃً وَیَتَجَلَّی لِاَبِیْ بَکْرٍ خَاصَّۃً


ترجمہ:حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ عبدالقیس کا وفد آیا اس میں سے ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نامناسب گفتگو کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا اے ابوبکر آپ نے سنا جو کچھ انہوں نے کہا ہے آپ نے عرض کی جی ہاں یا رسول اﷲ میں نے سن کر سمجھ لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر انہیں اس کا جواب دو راوی کہتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نہایت عمدہ جواب دیا پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر رضی اللہ عنہ اﷲ رب العزت نے تمہیں رضوانِ اکبر عطا فرمائی ہے  لوگوں میں سے کسی نے بارگاہِ نبوت میں عرض کی یا رسول اﷲ رضوانِ اکبر کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اﷲ رب العزت آخرت میں اپنے بندوں کی عمومی تجلی فرمائے گا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے خصوصی تجلی فرمائے گا


المستدرک للحاکم جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:83 حدیث نمبر:4463

الحلیۃ الاولیاء لابی نعیم جلد نمبر:5 صفحہ نمبر:12

ریاض النضرۃ للطبری جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:165


⏩⏩(4)⏪⏪

عَنْ عَائِشَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ اَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَاَحَبُّنَا اِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  


ترجمہ: اُمُّ المؤمنین سيّدہ عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنھا امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار، ہم سب سے بہتر اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے


جامع الترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3656

المستدرک للحاکم جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:69 حدیث نمبر:4421


⏩⏩(5)⏪⏪

عَنْ أَنَسِ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏‏‏‏‏‏أَيُّ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَيْكَ قَالَ عَائِشَةُ  ‏‏‏‏‏‏قِيلَ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ  اَبُوهَا


ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اﷲ آپ کو تمام لوگوں سے زیادہ کون محبوب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اﷲ عنھا عرض کیاگیا مردوں میں سے کون زیادہ محبوب ہےتو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  عائشہ صدّیقہ رضی اﷲ عنھا کا باپ ابوبکر رضی اللہ عنہ


  مقدمہ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر:101


⏩⏩(6)⏪⏪

 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَالنَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏    يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ‏‏‏‏‏‏فَاطَّلَعَ اَبُو بَكْرٍ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ 


ترجمہ:حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہلِ جنت میں سے ایک شخص تم پر نمودار ہو گا اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے، آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے


المستدرک للحاکم جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:76 حدیث نمبر:4443

جامع الترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3694

المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:10 صفحہ نمبر:167


⏩⏩(7)⏪⏪

عَنْ ابْنِ عُمَرَ اَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ اَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ   


ترجمہ:حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے ارشاد فرمایا آپ حوضِ کوثر پر میرے ساتھی ہیں اور غارثور میں بھی میرے ساتھی ہیں


جامع الترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3670

ریاض النضرۃ للطبری جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:164


⏩⏩(8)⏪⏪

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ بَيْنَا رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حجري لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَكُونُ لِاَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ قَالَ نَعَمْ عُمَرُ قُلْتُ فَاَيْنَ حَسَنَاتُ اَبِي بَكْرٍ قَالَ اِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ اَبِي بَكْرٍ


ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں چاندنی رات میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا کہ اچانک میں نے عرض کیا  اللہ کے رسول کیا کسی شخص کی آسمان کے ستاروں کے برابر نیکیاں ہوں گی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہاں  عمر  میں نے عرض کیا  ابوبکر رضی الله تعالٰی عنہ کی نیکیاں کہاں گئیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا عمر کی ساری نیکیاں  ابوبکر کی نیکیوں کے مقابلے میں ایک نیکی کی مانند ہیں


مشکوٰۃ المصابیح کتاب المناقب حدیث نمبر:6068


⏩⏩(9)⏪⏪

عَنْ عَلِیٍّ قَالَ اِنَّ اَعْظَمَ اَجَرًا فِی الْمَصَاحِفِ اَبُوْبَکْرٍ الصِّدِّیْقُ کَانَ اَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ


ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ قرآن کے حوالے سے سب سے زیادہ اجر پانے والے ابوبکر صدیق رضی الله تعالٰی عنہ ہیں کہ انہوں نے قرآن کو سب سے پہلے دو جلدوں میں جمع کیا


مصنف ابن ابی شیبہ جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:148حدیث نمبر:30229

طبقات ابن سعد جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:193


⏩⏩(10)⏪⏪

عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ اَقْبَلَ اَبُو بَكْرٍ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى اَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ فَسَلَّمَ وَقَالَ اِنِّي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ فَاَسْرَعْتُ اِلَيْهِ ثُمَّ نَدِمْتُ فَسَاَلْتُهُ اَنْ يَغْفِرَ لِي فَأَبَى عَلَيَّ فَاَقْبَلْتُ اِلَيْكَ فَقَالَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا اَبَا بَكْرٍ ثَلَاثًا ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ نَدِمَ فَأَتَى مَنْزِلَ اَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَ اَثَّمَ اَبُو بَكْرٍ فَقَالُوا لَا فَاَتَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى اَشْفَقَ اَبُو بَكْرٍ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ اَنَا كُنْتُ اَظْلَمَ مَرَّتَيْنِ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي اِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ وَقَالَ اَبُو بَكْرٍ صَدَقَ وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ اَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي مَرَّتَيْنِ فَمَا اُوذِيَ بَعْدَهَا  



ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے، گھٹنا ظاہر کئے ہوئے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اور عمر بن خطاب کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی اور اس سلسلے میں میں نے جلدی میں ان کو سخت لفظ کہہ دیئے لیکن بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی تو میں نے ان سے معافی چاہی اب وہ مجھے معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تمہیں اللہ معاف کرے تین مرتبہ آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ندامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور پوچھا کیا ابوبکر گھر پر موجود ہیں معلوم ہوا کہ نہیں تو آپ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصہ سے بدل گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم زیادتی میری ہی طرف سے تھی۔ دو مرتبہ یہ جملہ کہا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔ اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی تو کیا تم لوگ میرے دوست کو ستانا چھوڑتے ہو یا نہیں آپ نے دو دفعہ یہی فرمایا آپ کے یہ فرمانے کے بعد پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا


صحیح بخاری فی کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب فضائل ابوبکر صدیق حدیث نمبر:3661

السنن الکبریٰ للبیہقی جلد نمبر:10صفحہ نمبر:232

الحلیۃ الاولیاء لابی نعیم جلد نمبر:9 صفحہ نمبر:304


مزید پڑھیں پوسٹ:1 شان صدیق اکبر بزبان مصطفی

مزید پڑھیں: پوسٹ:3 شان صدیق اکبر بزبان مصطفی 

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

رائٹر: علامہ غلام مصطفی قادری قصوری

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو