تازہ ترین

ہفتہ، 22 جنوری، 2022

پانچ سو سال کی عبادت اللہ تعالی کی ایک نعمت کے مقابلے میں بھی کم ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ‏:‏ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي خَلِيلِي جِبْرِيلُ آنِفًا فَقَالَ‏:‏ يَا مُحَمَّدُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ اِنَّ لِلّٰهِ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِهِ عَبَدَ اللّٰهَ تَعَالَى خَمْسَمِائَةِ سَنَةٍ عَلَى رَأسِ جَبَلٍ فِي الْبَحْرِ عَرْضُهُ وَطُولُهُ ثَلَاثُونَ ذِرَاعًا فِي ثَلَاثِينَ ذِرَاعًا وَالْبَحْرُ مُحِيطٌ بِهِ اَرْبَعَةَ آلَافِ فَرْسَخٍ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ وَاَخْرَجَ اللّٰهُ تَعَالَى لَهُ عَيْنًا عَذْبَةً بِعَرْضِ الْاَصْبَعِ تَبِضُّ بِمَاءٍ عَذْبٍ فَتَسْتَنْقِعُ فِي اَسْفَلِ الْجَبَلِ وَشَجَرَةَ رُمَّانٍ تُخْرِجُ لَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ رُمَّانَةً فَتُغَذِّيهِ يَوْمَهُ فَاِذَا اَمْسَى نَزَلَ فَاَصَابَ مِنَ الْوَضُوءِ وَاَخَذَ تِلْكَ الرُّمَّانَةَ فَاَكَلَهَا ثُمَّ قَامَ لِصَلَاتِهِ فَسَألَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ وَقْتِ الْاَجَلِ اَنْ يَقْبِضَهُ سَاجِدًا وَاَنْ لَا يَجْعَلَ لِلْاَ رْضِ وَلَا لِشَيْءٍ يُفْسِدُهُ عَلَيْهِ سَبِيلًا حَتَّى بَعَثَهُ وَهُوَ سَاجِدٌ قَالَ‏:‏ فَفَعَلَ فَنَحْنُ نَمُرُّ عَلَيْهِ قِذَا هَبَطْنَا وَاِذَا عَرَجْنَا فَنَجِدُ لَهُ فِي الْعِلْمِ اَنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ‏:‏ اَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي فَيَقُولُ‏:‏ رَبِّ بَلْ بِعَمَلِي فَيَقُولُ الرَّبُّ‏:‏ اَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي فَيَقُولُ‏:‏ يَا رَبِّ بَلْ بِعَمَلِي فَيَقُولُ الرَّبُّ‏:‏ اَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي فَيَقُولُ‏:‏ رَبِّ بَلْ بِعَمَلِي، فَيَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ‏:‏ قَايِسُوا عَبْدِي بِنِعْمَتِي عَلَيْهِ وَبِعَمَلِهِ فَتُوجَدُ نِعْمَةُ الْبَصَرِ قَدْ اَحَاطَتْ بِعِبَادَةِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَبَقِيَتْ نِعْمَةُ الْجَسَدِ فَضْلًا عَلَيْهِ فَيَقُولُ‏:‏ أدْخِلُوا عَبْدِي النَّارَ قَالَ‏:‏ فَيُجَرُّ اِلَى النَّارِ فَيُنَادِي‏:‏ رَبِّ بِرَحْمَتِكَ اَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ‏:‏ رُدُّوهُ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقُولُ‏:‏ يَا عَبْدِي، مَنْ خَلَقَكَ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا‏؟‏ فَيَقُولُ‏:‏ أَنْتَ يَا رَبِّ فَيَقُولُ‏:‏ كَانَ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِكَ اَوْ بِرَحْمَتِي‏؟‏ فَيَقُولُ‏:‏ بَلْ بِرَحْمَتِكَ‏ فَيَقُولُ‏:‏ مَنْ قَوَّاكَ لِعِبَادَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ‏؟‏ فَيَقُولُ‏:‏ اَنْتَ يَا رَبِّ فَيَقُولُ‏:‏ مَنْ اَنْزَلَكَ فِي جَبَلٍ وَسَطَ اللُّجَّةِ وَاَخْرَجَ لَكَ الْمَاءَ الْعَذْبَ مِنَ الْمَاءِ الْمَالِحِ وَاَخْرَجَ لَكَ كُلَّ لَيْلَةٍ رُمَّانَةً وَاِنَّمَا تَخْرُجُ مَرَّةً فِي السَّنَةِ وَسَألْتَنِي اَنْ اَقْبِضَكَ سَاجِدًا فَفَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ‏؟‏ فَيَقُولُ‏:‏ اَنْتَ يَا رَبِّ فَقَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏ فَذَلِكَ بِرَحْمَتِي وَبِرَحْمَتِي اُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ اَدْخِلُوا عَبْدِيَ الْجَنَّةَ فَنِعْمَ الْعَبْدُ كُنْتَ يَا عَبْدِي فَيُدْخِلُهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ‏:‏ اِنَّمَا الْاَشْيَاءُ بِرَحْمَةِ اللّٰهِ تَعَالَى يَا مُحَمَّدُ


ترجمہ: حضرت سیدناجابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اورارشاد فرمایا: ابھی میرے پاس میرے خلیل جبریل علیہ السلام آئے اورکہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذات کی قسم! جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجا اللہ تعالی کے ایک بندے نے سمندر میں ایک پہاڑ کی چوٹی پر پانچ سو سال تک عبادت کی اس پہاڑ کی چوڑائی اور لمبائی تیس تیس ہاتھ تھی اللہ تعالی اس کے لئے انگلی جتنی چوڑی شیریں نہر نکالتا جس میں آہستہ آہستہ میٹھا پانی بہتا اور پہاڑ کے نیچے جمع ہو جاتا اور ہر رات انار کے درخت سے ایک انار نکلتا جب شام ہوتی تو نیچے اُترتا وضو کرتا اور وہ انار لے کر کھا لیتا پھر نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا اس نے بوقت وصال اللہ تعالی سے سوال کیا کہ وہ سجدے کی حالت میں اس کی روح قبض فرمائے یہاں تک کہ وہ سجدے کی حالت میں ہی اُٹھایا جائے حضرت جبرئیل عَلَـــیْہِ السَّلَام نے کہا: جب اسے قیامت کے دن اُٹھایا جائے گا اور وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہو گا تواللہ تعالی اس کے متعلق ارشاد فرمائے گا میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو وہ عرض کرے گا اے میرے اللہ بلکہ میرے عمل سے اللہ تعالی پھر ارشاد فرمائے گا میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو وہ پھر عرض کرے گا اے میرے اللہ بلکہ میرے عمل سے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا میرے بندے کے عمل کا میری دی گئی نعمتوں سے موازنہ کرو تو آنکھ کی نعمت اس کی پانچ سو سالہ عبادت کو گھیر لے گی اور باقی جسم کی نعمتیں اس پرزائد ہو ں گی اللہ تعالی ارشادفرمائے گا میرے بندے کو جہنم میں داخل کر دو تو اسے جہنم کی طرف کھینچا جائے گا وہ پکارے گا یا اللہ مجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے تو اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا اسے واپس لے آؤ اسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں کھڑا کیاجائے گا پھر اللہ تعالی اس سے اپنی ان نعمتوں کے بارے میں دریافت فرمائے گا جو اسے بیچ سمندر میں بلند پہاڑ پر عطا کی گئی تھیں تووہ عرض کرے گا اے میرے مولا یہ سب کچھ کرنے والا تو ہے اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا یہ سب میری رحمت سے ہی تو ہے اور میں اپنی رحمت سے ہی تجھے جنت میں بھی داخل کرتا ہوں پھر اسے اللہ تعالی جنت میں داخل فرما دے گا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی اےمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک تمام اشیاء اللہ تعالی کی رحمت سے ہی ہیں۔

پانچ سو سال کی عبادت


المستدرک للحاکم جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:278--278 حدیث نمبر:7637

 ( دار الکتب العلمیہ )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:215

 ( دار الکتب العلمیہ )

البدورالسافرۃ فی احوال الآخرۃ حدیث نمبر:882 

( دار الکتب العلمیہ ) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو