تازہ ترین

جمعہ، 23 اپریل، 2021

حضرت خدیجہ ؓ کی شان احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ

 حضرت خدیجۃ الکبریؓ کی شان 

عَنْ عَائِشَة رضي الله عنه قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَي اِمْرَاَةٍ  لِلنَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم مَا غِرْتُ عَلَي خَدِيْجَةَ هَلَکَتْ قَبْلَ اَنْ يَتَزَوَّجَنِي، لِمَا کُنْتُ اَسْمَعُهُ يَذْکُرُهَا، وَ اَمَرَهُﷲُ اَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، وَ اِنْ کَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاة َ فَيُهْدِي فِي خَلَائِلِهَا مِنْهَا مَا يَسَعُهُنَّ


ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضیﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں کرتی جتنا حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا پر، حالانکہ وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پاچکی تھیں، لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا (کثرت سے) ذکر فرماتے ہوئے سنتی تھی کہﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم فرمایا کہ خدیجہ کو موتیوں کے محل کی بشارت دے دیجیے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی بکری ذبح فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سہیلیوں کو اتنا گوشت بھیجتے جو اُنہیں کفایت کر جاتا



صحیح البخاری «کتاب : مناقب الانصار، باب : تزويج النبي صلي الله عليه وآله وسلم خديجة و فضلها»  صفحہ نمبر:934 حدیث نمبر:3816  ( مکتبہ دار ابن کثیر )

صحیح المسلم «کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل خديجة أم المؤمنين » صفحہ نمبر:1139 حدیث نمبر:2435  ( الناشر: دار طيبة )

مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر: 1779 حدیث نمبر: 24310 ( مکتبہ دار السلام )

السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:501 -502  حدیث نمبر 14797  ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )



عَنْ اَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه قَالَ : اَتَي جِبْرِيْلُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا رَسُوْلَﷲِ، هَذِهِ خَدِيْجَةُ قَدْ اَتَتْ مَعَهَا اِنَاءٌ فِيْهِ اِدَامٌ اَوْ طَعَامٌ اَوْ شَرَابٌ، فَاِذَا هِيَ اَتَتْکَ فَاقْرَاْ عَلَيْهَا السَّلْامَ مِنْ رَّبِّهَا وَمِنِّي، وَ بَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّة مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيْهِ وَلَا نَصَبَ


ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت جبرئیل علیہ السلام آ کر عرض گزار ہوئے : یا رسولﷲ! یہ خدیجہ ہیں جو ایک برتن لے کر آرہی ہیں جس میں سالن اور کھانے پینے کی چیزیں ہیں، جب یہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کا اور میرا سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دے دیجئے، جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی


صحیح البخاری«کتاب : مناقب الانصار، باب : تزويج النبي صلي الله عليه وآله وسلم خديجة و فضلها» صفحہ نمبر:935 حدیث نمبر:3820 ( مکتبہ دار ابن کثیر )

  صحیح المسلم  «کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل خديجة أم المؤمنين»  صفحہ نمبر:1138 حدیث نمبر:2432  (الناشر: دار طيبة)



عَنْ اِسْمَاعِيْلَ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِﷲِ بْنِ اَبِي اَوْفَي رضي الله عنه : بَشَّرَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم خَدِيْجَةَ؟ قَالَ : نَعَمْ. بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ


ترجمہ: حضرت اسماعیل سے مروی ہے کہ حضرت عبدﷲ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا کو بشارت دی تھی؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (جنت میں) ایسے محل کی بشارت دی تھی جو موتیوں سے بنا ہو گا اور اس میں نہ شورو غل ہوگا اور نہ کوئی اور تکلیف ہو گی


صحیح البخاری «کتاب : مناقب الانصار، باب : تزويج النبي صلي الله عليه وآله وسلم خديجة و فضلها» صفحہ نمبر:935 حدیث نمبر: 3819 ( مکتبہ دار ابن کثیر )

صحیح المسلم «کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل خديجة أم المؤمنين»  صفحہ نمبر:1139 حدیث نمبر:2433  ( الناشر: دار طيبة )



عَنْ عَلِيِّ بْنِ اَبِي طالب رضيﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ وَ خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيْجَةُ


ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے زمانے کی سب سے بہترین عورت مریم ہیں اور (اسی طرح) اپنے زمانے کی سب سے بہترین عورت خدیجہ ہیں


صحیح البخاری «کتاب : مناقب الانصار، باب : تزويج النبي صلي الله عليه وآله وسلم خديجة و فضلها» صفحہ نمبر:934 حدیث نمبر:3815 ( مکتبہ دار ابن کثیر )

صحیح المسلم «کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل خديجة أم المؤمنين»  صفحہ نمبر:1138 حدیث نمبر:2430  ( الناشر: دار طيبة )



عَنْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها قَالَتِ : اسْتَاْذَنَتْ هَالَة ُبِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيْجَةَ عَلَي رَسُولِﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَعَرَفَ اِسْتِئْذَانَ خَدِيْجَةَ فَارْتَاحَ  لِذَلِکَ فَقَالَ : اللَّهُمَّ، هَالَةُ، قَالَتْ : فَغِرْتُ فَقُلْتُ : مَا تَذْکُرُ مِنْ عَجُوْزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، هَلَکَتْ فِي الدَّهْرِ قَدْ اَبْدَلَکَﷲُ خَيْرًا مِنْهَا؟


ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا اجازت طلب کرنا سمجھ کر کچھ لرزہ براندام سے ہوگئے۔ پھر فرمایا : خدایا! یہ تو ہالہ ہے۔ حضرت عائشہ رضیﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے رشک ہوا۔ پس میں عرض گزار ہوئی کہ آپ قریش کی ایک سرخ رخساروں والی بڑھیا کو اتنا یاد فرماتے رہتے ہیں، جنہیں فوت ہوئے بھی ایک زمانہ بیت گیا ہے کیاﷲ تعالیٰ نے آپ کو ان کا نعم البدل عطا نہیں فرما دیا ہے؟



صحیح البخاری «کتاب : مناقب الانصار، باب : تزويج النبي صلي الله عليه وآله وسلم خديجة و فضلها» صفحہ نمبر:935 حدیث نمبر:3821 ( مکتبہ دار ابن کثیر )

صحیح المسلم «کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل خديجة أم المؤمنين»  صفحہ نمبر:1139 حدیث نمبر:2437  ( الناشر: دار طيبة )

السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:501 حدیث نمبر:14796 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )



عَن عَائِشَة رضي الله عنه قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَي اَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم مَا غِرْتُ عَلَي خَدِيْجَةَ، وَ مَا رَاَيْتُهَا، وَلَکِنْ کَانَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم يُکْثِرُ ذِکْرَهَا وَ رُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا اَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيْجَة َفَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ : کَأنَّهُ لَمْ يَکُنْ فِي الدُّنْيَا اِمْرَاَةٌ إِلَّا خَدِيْجَة؟ فَيَقُولُ : اِنَّهَا کَانَتْ وَ کَانَتْ وَ کَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ


ترجمہ: ’حضرت عائشہ صدیقہ رضیﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ پر اتنا رشک نہیں آتا جتنا حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا پر، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہیں ہے، لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر ان کا ذکر فرماتے رہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی بکری ذبح فرماتے تو اس کے اعضاء کو علیحدہ علیحدہ کر کے انہیں حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا کی ملنے والی عورتوں کے ہاں بھیجتے۔ کبھی میں اتنا عرض کر دیتی کہ دنیا میں کیا حضرت خدیجہ کے سوا اور کوئی عورت نہیں ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : ہاں وہ ایسی ہی یگانہ روزگار تھیں اور میری اولاد بھی ان سے ہے


صحیح البخاری «کتاب : مناقب الانصار، باب : تزويج النبي صلي الله عليه وآله وسلم خديجة و فضلها» صفحہ نمبر:935 حدیث نمبر:3818

 

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی شان, حضرت خدیجۃ الکبری, hazrat e Khadija ki Shan, hazrat e khadija


عَنْ عَائِشَة قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَي نِسَاءِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم اِلاَّ عَلَي خَدِيْجَة، وَ اِنِّي لَمْ اُدْرِکْهَا، قَالَتْ : وَ کَانَ رَسُولُﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم اِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ  فَيَقُولُ : اَرْسِلُوا بِهَا اِلَي اَصْدِقَاءِ خَدِيْجَةَ. قَالَتْ : فَاَغْضَبْتُهُ يَوْمًا فَقُلْتُ : خَدِيْجَةَ! فَقَالَ رَسُولُﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : اِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا


ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضیﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا، سوائے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے (یعنی میں ان پر رشک کیا کرتی تھی) اور میں نے حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا کا زمانہ نہیں پایا۔ سیدہ عائشہ رضیﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی بکری ذبح کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھیج دو۔ سیدہ عائشہ رضیﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا : خدیجہ، خدیجہ ہی ہو رہی ہے۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدیجہ کی محبت مجھے عطا کی گئی ہے


صحیح المسلم «کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل خديجة أم المؤمنين»  صفحہ نمبر:1139 حدیث نمبر:2435  ( الناشر: دار طيبة )



 عَنْ عَائِشَة قَالَتْ : کَانَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم اِذَا ذَکَرَ خَدِيْجَة اَثْنَي عَلَيْهَا فَاَحْسَنَ الثَّنَاءَ. قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ : مَا اَکْثَرَ مَا تَذْکُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ قَدْ اَبْدَلَکَﷲُ عزوجل بِهَا خَيْرًا مِنْهَا. قَالَ : مَا اَبْدَلَنِيَﷲُ عزوجل خَيْرًا مِنْهَا : قَدْ آمَنَتْ بِي اِذْ کَفَرَ بِيَ النَّاسُ، وَ صَدَّقَتْنِي اِذْ کَذَّبَنِيَ النَّاسُ، وَ وَاسَتْنِي بِمَالِهَا اِذْ حَرَمَنِيَ النَّاسُ وَ رَزَقَنِيَﷲُ عزوجل وَلَدَهَا اِذْ حَرَمَنِي اَوْلَادَ النِّسَاءِ


ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضیﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی بھی حضرت خدیجہ رضی ﷲ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف فرماتے : آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آ گئی اور میں نے کہا کہ آپ سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت زیادہ کرتے ہیں حالانکہﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر عورتیں اس کے نعم البدل کے طور پر آپ کو عطا فرمائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :ﷲ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر بدل عطا نہیں فرمایا وہ تو ایسی خاتون تھیں جو مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے اور میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور اپنے مال سے اس وقت میری ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اورﷲ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے مجھے اولاد عطا فرمانے سے محروم رکھا


مسند احمد بن حنبل   صفحہ نمبر:1815 حدیث نمبر: 24864   ( مکتبہ دار السلام )

المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:23 صفحہ نمبر:13 حدیث نمبر:22   ( الناشر مکتبہ ابنِ تیمیہ )

مجمع الزوائد للھیثمی جلد نمبر:18 صفحہ نمبر: 648 حدیث نمبر: 15271 ( مکتبہ دار المنھاج )




عَنْ عَبْدِﷲِ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَة : کَانَ رَسُوْلُﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم اِذَا ذَکَرَ خَدِيْجَة لَمْ يَکُنْ يَسْاَمُ مِنْ ثَنَاءٍ عَلَيْهَا وَالاِسْتِغْفَارِ لَهَا. فَذَکَرَهَا ذَاتَ يَوْمٍ وَاحْتَمَلَتْنِي الْغِيْرَة اِلَي اَنْ قُلْتُ قَدْ عَوَّضَکَ ﷲُ مِنْ کَبِيْرَة السِّنِّ. قَالَتْ : فَرَاَيْتُ رَسُوْلَﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم غَضِبَ غَضْبًا سَقَطَ فِي جِلْدِي، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : اَللَّهُمَّ، اِنَّکَ اِنْ اَذْهَبْتَ عَنِّي غَضْبَ رَسُوْلِﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لَمْ اَذْکُرْهَا بِسُوْءٍ فَلَمَّا رَاَي رَسُوْلُﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الَّذِي لَقِيْتُ، قَالَ : کَيْفَ قُلْتِ؟ وﷲِ، لَقَدْ آمَنَتْ بِي اِذْ کَفَرَ بِيَ النَّاسُ، وَ صَدَّقَتْنِي اِذْ کَذَّبَنِيَ النَّاسُ وَ رُزِقَتْ مَنِّيَ الْوَلَدُ اِذْ حُرِمْتِيْهِ مِنِّي، فَغَدَا بِهَا عَلَيَّ وَ رَاحَ شَهْرًا


ترجمہ: حضرت عبدﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا ذکر فرماتے تھے تو ان کی تعریف اور ان کے لئے استغفار و دعائے مغفرت کرتے ہوئے تھکتے نہیں تھے۔ پس ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا کا تذکرہ فرمایا تو مجھے غصہ آ گیا یہاں تک کہ میں نے یہ کہہ دیا کہﷲ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اس بڑھیا کے عوض (حسین و جمیل) بیویاں عطا فرمائی ہیں۔ پس میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شدید جلال میں آ گئے، (یہ صورتحال دیکھ کر) میں نے اپنے دل میں کہا : اےﷲ! اگر آج تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ کو ٹھنڈا کر دے تو میں کبھی بھی حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا کا برے لفظوں میں تذکرہ نہیں کروں گی۔ پس جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری یہ حالت دیکھی تو فرمایا : تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو؟ حالانکہ، خدا کی قسم! وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے اور میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور میری اولاد بھی ان کے بطن سے پیدا ہوئی جبکہ تو اس سے محروم ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ تک اسی حالت (یعنی قدرے ناراضگی کی حالت میں) صبح و شام آتے


المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:23 صفحہ نمبر:13 حدیث نمبر: 13  ( مکتبہ ابنِ تیمیہ )

مجمع الزوائد للھیثمی جلد نمبر:18 صفحہ نمبر: 648  ( مکتبہ دار المنھاج )



عَنْ اَنَسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيْلُ اِلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم وَ عِنْدَهُ خَدِيْجَة قَالَ : اِنَّﷲَ يُقْرِءُ  خَدِيْجَةَ السَّلَامَ. فَقَالَتْ : اِنَّﷲَ هُوَ السَّلَامُ، وَ عَلَی جِبْرِيْلَ السَّلَامُ، وَ عَلَيْکَ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُﷲِ وَ بَرَکَاتُهُ


ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے درآنحالیکہ حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا بھی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھیں۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا : بیشکﷲ تعالیٰ حضرت خدیجہ پر سلام بھیجتا ہے اس پر حضرت خدیجہ رضیﷲ عنہا نے فرمایا : بیشک سلامﷲ تعالیٰ ہی ہے اور جبرئیل علیہ السلام پر سلامتی ہو اور آپ پر بھی سلامتی ہو اورﷲ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں


السنن الکبری للنسائی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:389-390 حدیث نمبر:8301  ( مؤسسۃ الرسالہ )

المستدرک للحاکم جلد نمبر: 3 صفحہ نمبر:206 حدیث نمبر:4856 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

رائٹر: حافظ غلام مصطفی قادری 

◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو