تازہ ترین

ہفتہ، 15 جنوری، 2022

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام

 عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ: اعْتَقَ اَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ سَبْعَةً مِمّ٘نْ کَانَ یُعَذَّبُ فِی اللّٰهِ وَمِنْھُمْ بِلَالٌ وَ عَامِرُ بْنُ فُھَیْرَۃَ وَأُمُّ عُبَيْسٍ وَزِنِّيرَةٌ وَالنَّهْدِيَّةُ وَبِنْتُهَا



ترجمہ: حضرت عروہ روایت سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سات ایسے غلاموں کو آزاد فرمایا جن کو اللہ رب العزت پر ایمان لانے کی وجہ سے سزا دی جاتی تھی اور وہ حضرت بلال، عامر بن فُھیرۃ، ام عبیس،  زنیرہ، نہدیہ، اور نہدیہ کی بیٹی ہیں 


الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:134



حضرت بلال رضی اللّٰه عنه


وَ ھُوَ بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ وَکَانَ اسْمُ اُمِّهِ حَمَامَةَ وَکَانَ صَادقَ الْاِسلَامِ طَاھِرَ الْقَلْبِ وَکَانَ اُمَیَّةُ بْنُ خَلَفٍ یُخْرِجُهُ اِذَا حَمِیَتِ الظَّھِیْرَۃُ فَیُطْرَحُهُ فِی بَطْحَاءِ مَکَّةَ ثُمَّ یَأمُرُ بِالصخرۃِ الْعَظِیْمَةِ فَتُوضَعُ عَلَی صَدْرِہِ ثُمَّ یَقُولُ لَهُ: لَا وَاللّٰهِ لَا تَزَالُ ھَکَذَا حَتَّی تَمُوتَ اَوْ تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ وَ تَعْبُدُ اللَّاتَ وَ الْعُزَّی فَیَقُولُ وَ ھُوَ فِی ذَالِکَ الْبَلَاءِ اَحَدٌ اَحَدٌ


ترجمہ: ان کا نام بلال باہر تھا تھا اور ان کی والدہ کا حمامہ تھا آپ پاک دل اور اسلام کی صداقت سے پر تھے جب دوپہر کی گرمی خوب تیز ہوتی تو امیہ بن خلف بن وہب بن حذافہ بن جمعح آپ کو لے کر نکلتا اور مکہ کے پتھریلے مقام پر آپ کو چت لٹا دیتا اور کسی بڑی چٹان کے لانے کا حکم دیتا اور وہ آپ کے سینے پر رکھ دی جاتی اور آپ سے کہتا کہ تو اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ مرجائے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کردے اور لات و عزیٰ کی پوجا کرے حضرت بلال اس آفت میں بھی احد احد کہتے رہے 

 

السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:344

الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:133




قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِی ھَشامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْهِ قَالَ کَانَ وَرَقَةُ بْنُ نَوفَل یَمُرُّ بِهِ وَھُوَ یُعَذِّبُ بِذَالِکَ وَھُوَ یَقُولُ: اَحَدٌ اَحَدٌ فَیَقُولُ اَحَدٌ اَحَدٌ وَاللّٰهِ یَا بلالُ  ثُمَّ یُقْبِلُ عَلَی اُمَیَّة بْنِ خَلْفٍ وَ مَنْ یَصْنَعُ ذَالِکَ بِهِ مِنْ بَنِی جُمَحَ فَیَقُولُ: اَحْلِفُ بِاللّٰهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ عَلَی ھَذَا لَاَتَّخِذَنَّهُ حَنَانًا حَتَّی مَرَّ بِهِ اَبُو بَکْرٍ بْنِ اَبِی قُحَافَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ یَومًا وَھُمْ یَصْنَعُوْنَ ذَالِکَ بِهِ وَکَانَتْ دَارُ اَبِی بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فِی بَنِی جُمَحَ فَقَالَ لِاُمَیَّةَ بْنِ  خَلَفٍ اَلَا تَتَّقِی اللّٰهَ فِی ھَذَا الْمِسْکِیْنِ؟ حَتَّی مَتَی؟ قَالَ: اَنْتَ الَّذِی اَفْسَدْتَهُ فَانْقِذْہُ مِمَّا تَرَی فَقَالَ اَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَفْعَلُ عِنْدِی غُلَامٌاَسْوَدُ اَجْلَدُ مِنْهُ وَ اَقْوٰی عَلَی دِیْنِکَ اُعْطِیْکَهُ بِهِ قَالَ: قَبِلْتُ قَالَ: ھُوَ لَکَ فَاَعْطَاہُ اَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیْق غَلَامَهُ ذَالِکَ وَاَخَذَہُ فَاَعْتَقَهُ 



ترجمہ: ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت بیان کی انہوں نے کہا کہ ورقہ بن نوفل ان کے پاس سے ایسی حالت میں گزرتے کہ وہ اس طرح کی تکلیف میں مبتلا تھے اور وہ عہد عہد کہیں جا رہے تھے تھے تو ورکاں کہتے کہ واللہ اے بلال وہ ایک ہی ہے ایک ہی ہے پھر امیہ بن خلف اور بنی جمعہ کے ان لوگوں سے مخاطب ہوتے اور کہتے مجھے کہ اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم نے اس کو اسی حالت میں مار ڈالا تو میں اس کی قبر کو مقامی رحمت بنا لوں گا اور اس سے برکتیں حاصل کرتا رہوں گا ایک روزن کے پاس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ گزرے اور وہ لوگ ان کے ساتھ وہی سلوک کر رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا گھر بنی جمعہ کے قبیلے میں ہی تھا تو آپ نے امیہ بن خلف سے کہا کہ کیا تو اس بچارے کے بارے میں اللہ سے ڈرتا نہیں آخر یہ کب تک ہوگا اس نے کہا تو نے اس کو بگاڑا ہے جو مصیبت تم دیکھ رہے ہو تم اس مصیبت سے اس کو چھڑاتے کیوں نہیں تو حضرت ابوبکر نے کہا اچھا تو پھر میں چڑھا لیتا ہوں میرے پاس ایک سیاح غلام ہے جو ان سے زیادہ مضبوط موت اور تیرے لئے دین پر پوری قوت سے قائم ہے میں اسے ان کے بدلے میں تجھے دیتا ہوں اس نے کہا کہ میں نے قبول کر لیا آپ نے فرمایا آپس میں تیرا ہو گیا پھر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا غلام اس کو دے دیا اور بلال کو لے لیا اور انہیں آزاد کر دیا



السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:345

الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:133-134


حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام


عامر بن فہیرہ


عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، شَهِدَ بَدْرًا وَأُحُدًا، وَقُتِلَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ شَهِيدًا،


ترجمہ: عامر بن فہیرہ جو کہ جنگ بدر اور احد میں شریک رہے اور جنگ بئر معونہ میں شہید ہوئے 


السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:345

الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:134



ام عبیس اور زنیرہ


وَ اُمُّ عُبَیْسٍ وَ زِنَّیرَۃُ وَ اُصیْبَ بَصَرُھَا حِیْنَ اَعْتَقَھَا فَقَالَتْ قُرَیْشٌ: مَا اَذْھَبَ بَصَرَھَا اِلَّا اللَّاتُ وَ الْعُزَّی فَقَالَتْ کَذَبُوا وَبَیْتِ اللّٰهِ مَا تَضُرُّ اللَّاتُ وَ الْعُزَّی وَمَا تَنْفِعَانِ فَرَدَّ اللّٰهُ بَصَرَھَا 


  اور ام عبیس اور زنیرہ جب انہیں آپ نے آزاد کیا تو ان کی بنائی جاتی رہی یہ دیکھ کر قریش نے کہا کہ لات و عزیٰ ہیں نے اس کو اندھا کر دیا ہے تو زنیرہ نے کہا کہ بیت اللہ کی قسم جھوٹے ہیں لات و عزیٰ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نفع پہنچا سکتے ہیں ( اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ) اللہ رب العزت نے ان کی بینائی واپس لوٹا دی 



السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:345

الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:134



نہدیہ اور اس کی بیٹی


وَاَعْتَقَ النَّھْدِیَّةَ وَ بِنْتَھَا وَکَانَتَا لِاِمْرَۃٍ مِن بَنِی عَبْدِالدَّارِ فَمَرَّ بِھِمَا وَ قَدْ بَعَثَتْھُمَا سَیِّدَتُھُمَا بِطَحِیْنٍ  لَھَا وَھِیَ تَقُولُ: وَاللّٰهِ لَا اُعْتِقُکُمَا اَبَدًا فَقَالَ اَبُو بَکْرٍ: حِلُّ یَا اُمَّ فُلَانٍ فَقَالَتْ: حِلُّ اَنْتَ اَفْسَدْتَھُمَا فَاُعْتِقْھُمَا قَالَ: فَبِکَمْ ھُمَا قَالَتْ: بِکَذَا وَ کَذَا قَالَ: قَدْ اَخَذْتُھُمَا وَھُمَا حُرَّتَانِ اَرْجِعَا اِلَیْھَا طَحِیْنَھَا قَالَتَا اَو نَفْرُغُ مِنْهُ یَا اَبَا بَكْرٍ ثُمَّ نرُدُّهُ اِلَیْھَا؟ قَالَ: وَ ذَالِکَ اِنْ شِئْتُمَا 


ترجمہ: اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے النہدیہ اور ان کی بیٹی کو بھی آزاد کیا یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی ملکیت تھی ان کی مالکہ نے انہیں آٹا لینے کے لیے بھیجا تھا اور یہ کہہ رہی تھی کہ اللہ کی قسم تم دونوں کو کبھی بھی آزاد نہ کروں گی ابوبکر نے کہا اے فلاں شخص کی ماں قسم کا کفارہ دے دے اور قسم توڑ دے اس نے کہا قسم کا کفارہ میں دوں تمہیں نے تو ان کو برباد کیا ہے تمہیں ان کو آزادی دلا دو اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا تو کتنے میں انہیں دے دو گی اس نے کہا اتنی رقم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اچھا میں نے ان دونوں کو خرید لیا اور اب یہ دونوں آزاد ہیں  اچھا اب تم دونوں اس کا آٹا اس کو واپس کر دو ان دونوں نے کہا کہ اے ابوبکر! ابھی   اس کو واپس کر دیں یا کام پورا کرکے اسے واپس دے دیں ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اچھا اگر تم چاہو تو کام پورا کر دو 


السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:345-346

الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:134



بنی مؤمل کی لونڈی


مَرَّ اَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ بِِجَارِیَةِ بَنِی مُؤَمَّلٍ حَیٌّ مِنْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ وَکَانَتْ مُسْلِمَةً وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یُعَذِّبُھَا لِتَتْرُکَ الْاِسْلاَمَ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ  مُشْرِکٌ وَھُوَ یَضْرِبُھَا حَتَّی اِذَا مَلَّ قَالَ: اِنِّی اَعْتَذِرُ اِلَیْکِ اِنِّی لَمْ اَتْرُکْکِ اِلَّا مَلَالَةً فَتَقُوْلُ: کَذٰلِکَ فَعَلَ اللّٰهُ بِکَ فَابْتَاعَھَا اَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَاَعْتَقَھَا 



ترجمہ: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ایک لونڈی کے پاس سے گزرے جو بنی عدی کے ایک خاندان بنی مؤمل  کے ہاں تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اسے اذیت دیا کرتے تھے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ دے حضرت عمر اس وقت اسلام نہیں لائے تھے جب وہ اسے مار مار کر تھک جاتے تو کہتے کہ میں نے تجھ پر رحم کر کے نہیں چھوڑا بلکہ میں تھک گیا ہوں ابھی پھر سزا دوں گا تو وہ کہتی کہ اللہ تجھے بھی ایسے ہی سزا دے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس لونڈی کو خرید کر اسے آزاد کر دیا 



السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:346

الریاض النضرۃ فی مناقب عشرۃ مبشرۃ جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:134



آپ کے والد ابو قحافہ کا کہنا کہ تم کمزور غلام آزاد کرواتے ہو


قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّد بنُ عَبْدِاللّٰهِ بنِ اَبِی عَتِیْقٍ عامر بن عبداللّٰه ابن زبیر  عَنْ بَعْضِ اَھْلِهِ قَالَ: قَالَ اَبُو قُحَافَةَ لِاَبِی بَکْرٍ: یَا بُنَیَّ اِنِّی اَرَاکَ تُعْتِقُ رِقَابًا ضَعِیْفًا فَلَو اَنَّکَ اِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ اعْتَقْتَ رِجَالًا جُلْدًا یَمْنَعُوْنَکَ وَیَقُوْمُوْنَ دُوْنَکَ قَالَ، فَقَالَ اَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: یَاَبَتِ اِنِّی اِنَّمَا اُرِیْدُ مَا اُرِیْدُ للّٰهِ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: فَیتحدثُ اَنَّهُ مَا نَزَلَ ھَؤُلَاءِ الآیَاتِ اِلَّا فِیْهِ وَفِیْمَا قَالَ لَهُ اَبُوهُ: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَتَّقٰی ۔ وَ صَدَّقْ بِالْحُسْنٰی۔ وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزٰی۔ اِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰی۔ وَلَسَوْفَ یَرْضٰی [ اللیل:19-21 ]



ترجمہ: ابن اسحاق نے کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ بن ابی عتیق نے عامر بن عبداللہ ابن زبیر سے اور انہوں نے اپنے گھر والوں میں سے کسی سے روایت کی کہا کہ ابوحنیفہ نے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ بیٹے میں تم کو دیکھتا ہوں کہ کمزور اور مرد آزاد کرواتے ہو ہو تم جو کچھ بھی کرتے ہو اگر ایسا کرو کہ کبھی افراد کو آزاد کرو تم سے بات کریں گے اور تمہارے لئے سینہ سپر ہوں گے راوی نے کہا کہ ان کے جواب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بابا جان میں جو کچھ کرنا چاہتا ہوں صرف اور صرف اللہ رب العزت ( کی رضا ) کے لیے کرنا چاہتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ اسی لیے بیان کیا جاتا ہے کہ یہ آیات آپ ہی کی شان میں اور آپ کے والد سے آپ کی جو گفتگو ہوئی اس کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں 

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَ صَدَّقْ بِالْحُسْنٰی 

پس جس نے ( اللہ کی راہ میں ) اپنا مال دیا اور برے کاموں سے بچا رہا اور بہترین بات ( کلمہ توحید ) کی تصدیق کی ( تو اس کے لئے فلاں جزا ہے )

وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزٰی اِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰی وَلَسَوْفَ یَرْضٰی

اس پر کسی کا کچھ احسان نہیں کہ اس کا بدلہ اس کو دیا جارہا ہو صرف اپنے پروردگار کی خوشنودی کی طلب ہے اور بے شک وہ اس سے عنقریب راضی ہو جائے گا


السیرۃ النبوية لابن هشام جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:346









کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو