1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا اَنَا نَائِمٌ رَاَيْتُنِي اُتِيْتُ بِمَفَاتِيْحِ خَزَائِنِ الْاَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاعتصام بالکتاب والسنة، باب: قول النبي ﷺ: بعثت بجوامع الکلم، 6 / 2654، الرقم: 6845، وفي کتاب: الجهاد، باب: قول النبي ﷺ: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مسيرة شهر، 3 / 1087، الرقم: 2815، وفي کتاب: التعبير، باب: المفاتيح في اليد، 6 / 2573، الرقم: 6611، ومسلم في الصحيح، کتاب: المساجد ومواضع الصلاة، 1 / 371، الرقم: 523،
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں جامع کلمات کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور جب میں سویا ہوا تھا اس وقت میں نے خود کو دیکھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے لیے لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں تھما دی گئیں۔‘‘
2. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ يَنْتَظِرُوْنَهُ قَالَ: فَخَرَجَ، حَتَّي اِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاکَرُوْنَ فَسَمِعَ حَدِيْثَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَجَبًا اِنَّ اللهَ عزوجل اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيْلًا، اِتَّخَذَ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا، وَقَالَ آخَرُ: مَاذَا بِاَعَجَبَ مِنْ کَلَامِ مُوْسىٰ: کَلَّمَهُ تَکْلِيْمًا، وَقَالَ آخَرُ: فَعِيْسىٰ کلمۃ اللهِ وَرُوْحُهُ، وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ کَلَامَکُمْ وَعَجَبَکُمْ اَنَّ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلُ اللهِ وَهُوَ کَذَلِکَ وَمُوْسىٰ نَجِيُّ اللهِ وَهُوَ کَذَلِکَ، وَعِيْسىٰ رُوْحُ اللهِ وَکَلِمَتُهُ وَهُوَ کَذَلِکَ، وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ وَهُوَ کَذَلِکَ، اَلَا وَاَنَا حَبِيْبُ اللهِ وَلَا فَخْرَ، وَاَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَاَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَاَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّکُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللهُ لِي فَيُدْخِلُنِيْهَا وَمَعِيَ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَاَنَا اَکْرَمُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ وَلَا فَخْرَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: في فضل النبي ﷺ، 5 / 587، الرقم: 3616، والدارمي في السنن، باب: (8)، ما أعْطِيَ النَّبِيَ ﷺ مِن الفضلِ، 1 / 39، الرقم: 47.
’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم ﷺ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے جب ان کے قریب پہنچے تو انہیں کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ اُن میں سے بعض نے کہا: کیا خوب! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا۔ دوسرے نے کہا: یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے سے زیادہ بڑی بات تو نہیں۔ ایک نے کہا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ الله اور روح اللہ ہیں۔ کسی نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چن لیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے سلام کیا اور فرمایا: میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہارِ تعجب سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں۔ بیشک وہ ایسے ہی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نجی اللہ ہیں۔ بیشک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں۔ واقعی وہ اسی طرح ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا۔ وہ بھی یقیناً ایسے ہی (شرف والے) ہیں۔ سن لو! میں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ قیامت کے دن سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے جنت کا کنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے لئے اسے کھولے گا اور مجھے اس میں داخل فرمائے گا۔ میرے ساتھ فقیر و غریب مومن ہوں گے اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔‘‘
3. عَنْ اَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَنَا اَوَّلُهُمْ خُرُوْجًا وَاَنَا قَاءِدُهُمْ اِذَا وَفَدُوْا، وَاَنَا خَطِيْبُهُمْ اِذَا اَنْصَتُوْا، وَاَنَا مُشَفِّعُهُمْ اِذَا حُبِسُوْا، وَاَنَا مُبَشِّرُهُمْ اِذَا اَيِسُوْا. اَلْکَرَامَةُ، وَالْمَفَاتِيْحُ يَوْمَئِذٍ بِيَدِيَّ وَاَنَا اَکْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلىٰ رَبِّي، يَطُوْفُ عَلَيَّ اَلْفُ خَادِمٍ کَاَنَّهُمْ بَيْضٌ مَکْنُوْنٌ، اَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُوْرٌ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: في فضل النبي ﷺ، 5 / 585، الرقم: 3610، والدارمي في السنن، (8) باب: ما أعطي النبي ﷺ من الفضل، 1 / 39، الرقم: 48،
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے میں (اپنی قبر انور) سے نکلوں گا اور جب لوگ وفد بن کر جائیں گے تو میں ہی ان کا قائد ہوں گا اور جب وہ خاموش ہوں گے تو میں ہی ان کا خطیب ہوں گا۔ میں ہی ان کی شفاعت کرنے والا ہوں جب وہ روک دیئے جائیں گے، اور میںہی انہیں خوشخبری دینے والا ہوں جب وہ مایوس ہو جائیں گے۔ بزرگی اور جنت کی چابیاں اس روز میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ میں اپنے رب کے ہاں اولادِ آدم میں سب سے زیادہ مکرّم ہوں میرے اردگرد اس روز ہزار خادم پھریں گے گویا کہ وہ پوشیدہ حسن ہیں یا بکھرے ہوئے موتی ہیں۔‘‘
4. عَنْ اُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: اِذَا کَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِيِيْنَ، وَخَطِيْبَهُمْ، وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: في فضل النبي ﷺ، 5 / 586، الرقم: 3613، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: ذکر الشفاعة، 2 / 1443، الرقم: 4314، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 137، 138، الرقم: 21283 - 21290، والحاکم في المستدرک، 1 / 143، الرقم: 240، 6969،
’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میں انبیاء کرام علیہم السلام کا امام و خطیب اور شفیع ہوں گا اور اس پر (مجھے) فخر نہیں۔‘‘
5. عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رضي الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: نَحْنُ الْآخِرُوْنَ، وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ: اِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللهِ، وَمُوْسىٰ صَفِيُّ اللهِ، وَاَنَا حَبِيْبُ اللهِ، وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ اللهَ عزوجل وَعَدَنِي فِي اُمَّتِي، وَاَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَا يَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ، وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ، وَلَا يَجْمَعُهُمْ عَلىٰ ضَلاًلةٍ.
رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
أخرجه الدارمي في السنن باب: (8) ما أعطِيَ النَّبِيَّ ﷺ من الفضل، 1 / 42، الرقم: 54،
’’حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم آخر میں آنے والے اور قیامت کے دن سب سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں۔ قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میری امت کے متعلق وعدہ کر رکھا ہے اور تین باتوں سے اسے (امت کو) بچایا ہے۔ ایسا قحط ان پر نہیں آئے گا جو پوری امت کا احاطہ کر لے اور کوئی دشمن اسے جڑ سے نہیں اکھاڑ سکے گا اور (اللہ تعالیٰ) انہیں کبھی گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا۔‘‘
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں