عن أَبِي هُرَيْرَةَ،أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجا اللہ رب العزت اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے
الحديث أخرجه مسلم (408)، وانفرَد به عن البخاري، وأخرجه أبو داود "كتاب الصلاة" "باب في الاستغفار"، وأخرجه الترمذي "كتاب الصلاة" "باب ما جاء في فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم" (485)، وأخرجه النسائي "كتاب السهو" "باب الفضل في الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم" (1295)
💠💠(2)💠💠
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا،وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلے والی جگہ نہ بناؤ اور مجھ پر درود پڑھو تم جہاں بھی ہوتے ہو تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے
أخرجه أحمد 2 – 367 وأبو داود 2042.
💠💠(3)💠💠
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ،قَالَ:فَقَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ، قَالَ: يَقُولُونَ:بَلِيتَ، قَالَ:إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ
ترجمہ: حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں لوگوں نے عرض کیا اللہ کے رسول آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے تو ہمارے درود آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں۔
سنن ابودؤد تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَاب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ الرقم:1531
💠💠(4)💠💠
عن أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ، فَقَالَ:يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ، قَالَ أُبَيٌّ:قُلْتُ:يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: مَا شِئْتَ، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا، قَالَ: إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ،
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے اور فرماتےلوگو اللہ کو یاد کرو اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت درود پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کرلوں آپ نے فرمایا جتنا تم چاہو میں نے عرض کیا چوتھائی آپ نے فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے میں نے عرض کیا آدھا آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں آپ نے فرمایا: اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہوگا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے
جامع ترمذی الرقم:2457
💠💠(5)💠💠
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ:مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوْحِي، حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو بیشک الله تعالیٰ نے مجھ پر میری روح لوٹا دی ہوئی ہے اور میری توجہ اس کی طرف مبذول فرماتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں
أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: المناسک، باب: زيارة القبور، 2 / 218، الرقم: 2041. و أحمد بن حنبل في المسند 2 / 527، الرقم: 10827، والبيهقي في السنن الکبري، 15 / 245، الرقم: 10050، و في شعب الإيمان، 2 / 217، الرقم: 1581، 4161، راهويه في المسند، 1 / 453 الرقم: 526
💠💠(6)💠💠
عن ابن ربيعة قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يخطب يقول من صلي عَلَيَّ صلاة لم تزل الملائکة تصلي عليه ما صلي عَلَيَّ فليقل عبد من ذلک أو ليکثر
ترجمہ:حضرت ابن ربیعۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دورانِ خطاب یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے چاہے تو وہ مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 445، 446
2. ابو يعلي، المسند، 13 : 154، رقم : 7196
3. بيهقي، شعب الايمان، 2 : 211، رقم : 1557
💠💠(7)💠💠
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ مَعَهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ
ترجمہ: حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک نماز تھے پس جب میں تشھد میں بیٹھا تو سب سے پہلے میں نے اﷲ تعالیٰ کی ثناء بیان کی پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا پھر میں نے اپنے لئے دعا کی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ مانگو گے تمہیں عطا کیا جائے گا جو کچھ مانگو گے تمہیں عطا کیا جائے گا
ترمذي، الجامع الصحيح، 2 : 488، کتاب الصلاة، باب ما ذکر في الثناء علي اﷲ والصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم قبل الدعاء، رقم : 593
💠💠(8)💠💠
عن أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کی دس غلطیاں معاف کر دی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے
نسائي، السنن، 3 : 50، کتاب السهو، باب الفضل في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : 1297
2. نسائي، السنن الکبري، 1 : 385، رقم : 1220
💠💠(9)💠💠
عن فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:عَجِلَ هَذَا ، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ:إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لَيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ
ترجمہ: حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دورانِ نماز اس طرح دعا مانگتے ہوئے سنا کہ اس نے اپنی دعا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے عجلت سے کام لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے پاس بلایا اور اس کو یا اس کے علاوہ کسی اور کو فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرے پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے، تو اس کی دعا قبول ہو گی
ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 517، کتاب الدعوات، باب : 65، رقم : 3477
2. احمد بن حنبل، المسند، 6 : 18، رقم : 23982
💠💠(10)💠💠
عن ابی امامۃ قال: قال:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَكْثِرُوا عليَّ مِنَ الصَّلاةِ في يومِ الجمعةِ ؛ فإنَّ صَلاةَ أُمَّتي تُعْرَضُ عليَّ في كلِّ يومِ جُمُعَةٍ ، فمَنْ كان أكثرَهُمْ عليَّ صَلاةً ؛ كان أَقْرَبَهُمْ مِنِّي مَنْزِلَةً
ترجمہ: حضرت ابو امامۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجنا اپنا معمول بنا لو بے شک میری امت کا درود ہر جمعہ کے روز مجھ پر پیش کیا جاتا ہے اور میری امت میں سے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا وہ قیامت کے روز مقام و منزلت کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا
بيهقي، السنن الکبري. 3 : 249، رقم : 5791
💠💠💠💠💠💠💠💠

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں