تازہ ترین

منگل، 18 جنوری، 2022

لعنت کرنے کی ممانعت اور اس پر وعید احادیث کی روشنی میں


▶1◀


عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اَماَ اَضْحَى اَوْ فِطْرٍ اِلَى الْمُصَلَّى فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَاِنِّي اُرِيتُكُنَّ اَكْثَرَ اَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَاَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ اَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ اِحْدَاكُنَّ قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: اَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ: بَلَى قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا اَلَيْسَ اِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ قُلْنَ: بَلَى قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا


حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔ 


صحیح البخاری کتاب الحیض حدیث نمبر:304  ( دار ابن کثیر )

صحیح المسلم  حدیث نمبر: 243   

( دار طیبة )


▶2◀


عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مِنْ اَكْبَرِ الْكَبَائِرِ اَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ  وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: يَسُبُّ الرَّجُلُ اَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ اَبَاهُ وَيَسُبُّ اُمَّهُ


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا


صحیح البخاری کتاب الادب حدیث نمبر:5973

 ( دار ابن کثیر )


▶3◀


عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ فَاَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا اِلَيْكَ يَوْم الْقِيَامَة


ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! میں نے تجھ سے ایک عہد لیا ہے بے شک جس کا تو خلاف نہیں کرے گا میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس کسی مومن کو اذیت پہنچائی ہو میں نے اسے برا بھلا کہا ہو ، لعن طعن کی ہو اسے مارا ہو تو اس (اذیت) کو اس کے لیے باعث رحمت و طہارت اور باعث قربت بنا دے اور روز قیامت اس قربت کی وجہ سے تو اسے اپنا مقرب بنا لے


صحیح البخاری حدیث نمبر:6361

 ( دار ابن کثیر )

صحیح مسلم حدیث نمبر:6619

  ( دار طیبة )


▶4◀


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَلْعَنُوا الرِّيحَ فَاِنَّهَا مَأمُورَةٌ وَاَنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِاَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ


ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوا کو ملعون کہا تو آپ نے فرمایا: ہوا کو لعن طعن نہ کرو کیونکہ وہ تو حکم کی پابند ہے جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے جو اس کی اہل نہیں تو پھر لعنت اس شخص پر لوٹ آتی ہے


جامع الترمذی حدیث نمبر:1978

 ( دارالسلام للنشر والتوزیع )

سنن ابو داؤد حدیث نمبر:4908

 ( دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )


▶5◀


عَنْ اَبِي قِلَابَةَ اَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ وَكَانَ مِنْ اَصْحَابِ الشَّجَرَةِ حَدَّثَهُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْاِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ وَلَيْسَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَذَفَ مُؤمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ    


حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ اصحاب شجر میں سے تھے انہوں نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے  ( کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں )  تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کہ اس نے کہا  اور جس نے دنیا کسی چیز کے ساتھ خودکشی کی تو قیامت کے اسے اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو تو اس پر اس چیز کی نذر صحیح نہیں اور مؤمن پر لعنت کرنا اور مؤمن کو کافر کہنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے


صحیح البخاری کتاب الادب حدیث نمبر:6047 

( دار ابن کثیر )


لعنت کرنے کی ممانعت اور اسکی وعید


▶6◀


وَعَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ اَنْ يكونَ لعَّاناً


ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچے شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہوہے


صحیح مسلم کتاب البر والصلة حدیث نمبر: 2597

 ( دار طیبة )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:313 

( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶7◀


عَنْ زَيْدِ بْنِ اَسْلَمَ اَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ اِلَى اُمِّ الدَّرْدَاءِ بِاَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا اَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنْ اللَّيْلِ فَدَعَا خَادِمَهُ فَكَاَنَّهُ اَبْطَأ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ فَلَمَّا اَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ اُمُّ الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ فَقَالَتْ سَمِعْتُ اَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ



حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے گھر کا کچھ عمدہ سامان بھیجا پھر ایسا ہوا کہ ایک رات کو عبدالملک اٹھا اس نے اپنے خادم کو آواز دی غالبا اس نے دیر لگا دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی جب اس نے صبح کی تو حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رات کو سنا کہ جس وقت تم نے اپنے خادم کو بلایا تھا تو تم نے اس پر لعنت کی تھی پھر وہ کہنے لگیں: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے نہ گواہ بنیں گے


صحیح مسلم کتاب الادب حدیث نمبر:2598

 ( دار طیبة )


▶8◀


عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَكُونُ الْمُؤمِنُ لَعَّانًا


ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی اظکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا 


جامع الترمذی ابواب البر والصلة حدیث نمبر: 2019 

( دارالسلام للنشر والتوزیع )


▶9◀


عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا اتُّخِذَ الْفَيْئُ دِوَلًا وَالْاَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ وَاَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَاَتَهُ وَعَقَّ اُمَّهُ وَاَدْنَى صَدِيقَهُ وَاَقْصَى اَبَاهُ وَظَهَرَتِ الْاَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ اَرْذَلَهُمْ وَاُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وشُربتِ الخمورُ وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْاُمَّةِ اَوَّلَهَا فَارْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مال فے اور مال غنیمت کو دولت ، امانت کو مال غنیمت اور زکوۃ کو تاوان سمجھا جائے ، علم دینی مقاصد کے علاوہ دنیوی مقاصد کے لیے حاصل کیا جائے ، آدمی اپنی اہلیہ کا اطاعت گزار بن جائے اور اپنی والدہ کی نافرمانی کرے ، وہ اپنے دوست کو مقرب بنائے اور اپنے والد کو دور رکھے ، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں ، قبیلے کا سب سے زیادہ احمق شخص قبیلے کا سردار بن جائے ، قوم کا ذمہ دار و منتظم ان کا سب سے زیادہ رذیل شخص ہو ، آدمی کی اس کے شر کے خوف کی وجہ سے عزت کی جائے ، گانے والیاں اور آلات موسیقی عام ہو جائیں ، شراب نوشی کی جائے ، اور اس امت کے بعد والے لوگ اپنے پہلے لوگوں پر لعن و طعن کریں تو اس وقت تم سرخ آندھیوں ، زلزلوں ، زمین میں دھنسنے ، چہروں کے مسخ ہو جانے ، آسمان سے پتھر برسنے اور دیگر نشانیوں کے اس طرح مسلسل آنے کا انتظار کرو جس طرح ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے تو پھر موتی لگاتار گرتے ہیں


جامع الترمذی حدیث نمبر:2211  (دارالسلام للنشر والتوزیع )



▶10◀


عَنْ اُمِّ الدَّرْدَاءِ ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ اَبَا الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ اِلَى السَّمَاءِ ‏‏فَتُغْلَقُ اَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ اِلَى الْاَرْضِ فَتُغْلَقُ اَبْوَابُهَا دُونَهَا ‏‏‏‏ثُمَّ تَأخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَاِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ اِلَى الَّذِي لُعِنَ فَاِنْ كَانَ لِذَلِكَ اَهْلًا وَاِلَّا رَجَعَتْ اِلَى قَائِلِهَا


حضرت ام درداء رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی،م اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔


سنن ابو داؤد کتاب الادب حدیث نمبر:4905

 ( دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )

الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:313 

( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


▶11◀


عَنْ جَرْمُوذِ الْجُھَنِیِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ یَارَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْکَ وَسَلَّمَ اَوْصِنِی؟ قَالَ اُوْصِیْکَ اَلَّا تَکُوْنَ لَعَّانًا


حضرت جرموذ جھنی سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم مجھے کوئی تلقین فرمائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ  مہں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم لعنت کرنے والے نہ ہونا

المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:283 حدیث نمبر:2180

مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1475 حدیث نمبر:20678 

مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:16 صفحہ نمبر:216 حدیث نمبر:13031

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو