تازہ ترین

اتوار، 25 اپریل، 2021

ذکر الہی اور ذاکرین کی فضیلت

ذکر الہی اور ذاکرین کی فضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ 



١۔  عَنْ أَبِي مُوْسَي رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَثَلُ الَّذِي يَذْکُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْکُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِتِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.


 حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ (دلوں) کی سی ہے"

 

 أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الدعوات، باب: فضل ذکر اللہ عزوجل، حدیث نمبر: 6044



٢۔  عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنهما أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلىٰ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْکَرُوْنَ اللهَ عزوجل إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِکَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّکِيْنَةُ، وَذَکَرَهُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَى: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ


 حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہما دونوں نے گواہی دی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی لوگ اللہ تعالی کے ذکر کے لیے بیٹھتے ہیں فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور رحمت الہی انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے اللہ تعالی ان کا ذکر اپنی بارگاہ کے حاضرین میں کرتا ہے۔"


 أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب: فضل الاجتماع علي تلاوة القرآن وعلي الذکر، حدیث نمبر: 2700،

والترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في القوم يجلسون فيذکرون اللہ عزوجل ما لهم من الفضل، حدیث نمبر: 3378



٣۔  عَنْ مُعَاذٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالذِّکْرَ تُضَاعَفُ عَلىٰ النَّفَقَةِ فِي سَبِيْلِ اللهِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ


 حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک نماز ؛ روزہ اور ذکر الہی اللہ تعالی کی راہ میں مال خرچ کرنے پر بھی سات سو گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔"


 أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الجهاد، باب: في تضعيف الذکر في سبيل، حدیث نمبر: 2498،

وأحمد بن حنبل في المسند، حدیث نمبر: 15613،

والطبراني في المعجم الکبير، حدیث نمبر: 405



۴۔  عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَکْثِرُوْا ذِکرَ اللهِ حَتَّى يَقُوْلُوْا مَجْنُوْنٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْيَعْلَي.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.


 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کے لوگ تمہیں دیوانہ کہیں۔"


 أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، حدیث نمبر: 11671،

وابن حبان في الصحيح، حدیث نمبر: 817،

 والحاکم في المستدرک، حدیث نمبر: 1839،



۵۔  عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أُذْکُرُوا اللهَ ذِکْرًا، يَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ: إِنَّکُمْ تُرَاؤُوْنَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.


 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کا ذکر اس کثرت سے کرو کہ منافق تمہیں ریاکار کہیں۔"


 أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، حدیث نمبر: 12786


ذکر الہی اور ذاکرین کی فضیلت, zikar e lagi, zikar ki fazilat, zakirin ki fazilat, hadiths, Hadith,


٦۔  عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَکْثِرُوْا ذِکْرَ اللهِ حَتَّى يَقُوْلَ الْمُنَافِقُوْنَ: إِنَّکُمْ مُرَاؤُوْنَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.


 حضرت ابو جوزا رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ منافق تمہیں ریاکار کہیں۔"


 أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، حدیث نمبر: 527



٧۔  عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ: قَالَ: إِنَِّﷲِ عزوجل: مَلَائِکَةً سَيَارَةً فُضُلًا يَلْتَمِسُوْنَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ، يَجْتَمِعُوْنَ عِنْدَ الذِّکْرِ، فَإِذَا مَرُّوْا بِمَجْلِسٍ عَلَا بَعْضُهُمْ عَلىٰ بَعْضٍ حَتَّى يَبْلُغُوا الْعَرْشَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ


 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کی باقاعدہ ذمہ داری یہی ھے کہ وہ صرف مجالس ذکر کی تلاش میں رہتے ہیں اور مجالس ذکر میں شامل ہو جاتے ہیں پس جب وہ کسی مجلس ذکر کے پاس سے گزرتے ہیں تو (اس مجلس میں اتنی کثرت سے شرکت کرتے ہیں کہ)  تہہ درتہہ عرش تک پہنچ جاتے ہیں۔"

 

 أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب: فضل مجالس الذکر، حدیث نمبر: 2689،

وأحمد بن حنبل في المسند، حدیث نمبر: 8689



٨۔  عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوْا، قَالُوْا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: حِلَقُ الذِّکْرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَى: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔


 حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرو تو (ان میں سے) خوب کھایا کرو صحابہ کرام نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) جنت کی کیاریاں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر الٰہی کے حلقہ جات ۔"


 أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول اللہ ﷺ، باب: (85)، حدیث نمبر: 3510،

وأحمد بن حنبل في المسند، حدیث نمبر: 2545،

وأبو يعلي في المسند، حدیث نمبر: 3432،

والبيهقي في شعب الإيمان، حدیث نمبر: 529،



٩۔  عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يَقُوْلُ اللهُ عزوجل: أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَکَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ


 حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرمائے گا: دوزخ میں ایسے شخص کو نکال دو جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا کبھی کسی مقام پر مجھ سے ڈرا۔"


 أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: صفة جهنم عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء أن للنار نفسين، حدیث نمبر: 2594



١٠۔  عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّکْرِ؟ قَالَ: غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّکْرِ الْجَنَّةُ الْجَنَّةُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.


 حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجالس ذکر کی غنیمت  (یعنی نفع) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجالس ذکر کی غنیمت جنت ہے جنت ہے۔"


 أخرجه أحمد بن حنبل، حدیث نمبر: 6651، 6777،

 والطبراني في مسند الشاميين، حدیث نمبر: 1325،


◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

رائٹر: حافظ سہیل لطیف 

◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو