حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا بیان احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے
١۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ: قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَي اللهَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی سو اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی سو اس نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی۔"
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأحکام، باب: قول الله تعالي: أَطِيْعُوا اللهَ وَ أَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَ أَوْلِي الأَمْرِ مِنْکُمْ: (النساء: 59)، وفي کتاب: الجهاد، باب: يقاتل مِن وراء الإمام ويُتّقَي به، حدیث نمبر: 2797،
ومسلم في الصحيح، کتاب: الإمارة، باب: وجوب طاعة الأمراء معصية وتحريمها في المعصعية، حدیث نمبر: 1835،
٢۔ عَنْ حُذَيْفَةَ رضى الله عنه قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ فِي جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ فَقَرَؤُوْا الْقُرْآنَ، وَعَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا: (وحی الہی کی) امانت آسمان سے لوگوں کے دلوں کی تہہ میں نازل فرمائی گئی اور قرآن کریم نازل ہوا۔ سو انہوں نے قرآن کریم پڑھا اور سنت سیکھی۔"
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاعتصام بالکتاب والسنة، باب: الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ ، حدیث نمبر: 6848،
ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: رفع الأمانة والإيمان من بعض القلوب، وعرض الفتن علي القلوب، حدیث نمبر: 143،
٣۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: کُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَي. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ ، وَمَنْ يَأْبَي؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس نے انکار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔"
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاعتصام بالکتاب والسنة، باب: الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ ، حدیث نمبر: 6851
۴۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضى الله عنهما قَالَ: جَاءَتْ مَلَائِکَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ نَائِمٌ.. . فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يقْظَانُ، فَقَالُوْا: فَالدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ ﷺ ، فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ ، وَمَنْ عَصَي مُحَمَّدًا فَقَدْ عَصَى اللهَ ، وَمُحَمَّدٌ فَرَّقَ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کچھ فرشتہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم استراحت فرما رہے تھے تو ان میں سے ایک نے کہا: یہ تو سوئے ہوئے ہیں۔ دوسرے نے کہا (ان کی) آنکھ سوتی ہے مگر دل بیدار رہتا ہے۔ پھر انہوں نے کہا: حقیقی گھر جنت ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کی طرف بلانے والے ہیں۔ جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی (درحقیقت) اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اور جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی؛ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اور برے لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں۔"
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاعتصام بالکتاب والسنة، باب: الاقتداء بِسُنَنِ رسول الله ﷺ ، حدیث نمبر: 6852.
۵۔ عَنْ مَالِکٍ رضى الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِهِ.
رَوَاهُ مَالِکٌ وَالْحَاکِمُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه.
امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے یعنی اللہ تعالی کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔"
أخرجه مالک في الموطأ، کتاب: القدر، باب: النهي عن القول بالقدر، حدیث نمبر: 1594،
والحاکم في المستدرک، حدیث نمبر: 319،

٦۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ خَطَبَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَکْتُ فِيْکُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوْا أَبَدًا: کِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِهِ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِسْنَادِ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب فرمایا اور فرمایا: اے لوگو! یقینا میں تمہارے درمیان ایسی شے چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے یعنی اللہ تعالی کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔"
أخرجه الحاکم في المستدرک، حدیث نمبر: 318،
والبيهقي في السنن الکبري، وفي الاعتقاد، والمروزي في السنة، حدیث نمبر: 68
٧۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضى الله عنه قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُوْنُ وَ وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ: أُوْصِيْکُمْ بِتَقْوَي اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْکُمْ يَرَي اخْتِلَافًا کَثِيْرًا، وَإِيَاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ، فَعَلَيْکُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِيْنَ، عَضُّوْا عَلَيْهَا بَالنَّوَاجِذِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد ہمیں نہایت فصیح و بلیغ وعظ فرمایا؛ جس سے آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور دل کانپنے لگے۔ ایک شخص نے کہا: یہ تو الوداع ہونے والے شخص کے وعظ جیسا (خطاب) ہے۔ یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں پرہیز گاری اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں؛ خواہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔ اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ خبردار (شریعت کے خلاف)نئی باتوں سے بچنا کیونکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے لہذا تم میں سے جو یہ زمانہ پائے تو وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑے؛ تم لوگ (میری سنت کو) دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا (یعنی اس پر سختی سے کاربند رہنا)۔"
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: العلم عن رسول الله ﷺ ، باب: ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع، حدیث نمبر: 2676،
وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب: اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين، حدیث نمبر: 42،
وأحمد بن حنبل في المسند، وابن حبان في الصحيح، حدیث نمبر: 5
٧۔ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ رضى الله عنه قَالَ: ثَلاَثٌ أُحِبُّهُنَّ لِنَفْسِي وَلِإخْوَانِي. هَذِهِ السُّنَّةُ أَنْ يَتَعَلَّمُوْهَا وَيَسْأَلُوْا عَنْهَا، وَالْقُرْآنُ أَنْ يَتَفَهَمُوْهُ وَيَسْأَلُوْا عَنْهُ، وَيَدَعُوا النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
حضرت ابن عون رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تین چیزیں میں اپنے لئے اور اپنے بھائی کے لیے پسند کرتا ہوں ایک یہ کہ وہ اس سنت کو سیکھیں اور اس کے متعلق سوال کریں۔ اور دوسرا قرآن کریم کے اسے سمجھیں اور اس کے متعلق پوچھیں؛ تیسرا یہ کہ بھلائی کے سوا لوگوں سے کنارہ کش رہیں۔ "
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاعتصام بالکتاب والسنة، باب: الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، حدیث نمبر: 132
٩۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: الْمُتَمَسِّکُ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي لَهُ أَجْرُ شَهِيْدٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ وَأَبُوْنُعَيْمٍ.
وفي رواية لأبي نعيم: عَنِ ابْنِ فَارِسٍ رضى الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِثْلَهُ وَقَالَ: لَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيْدٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری سنت کو اس وقت مضبوطی سے تھامے رکھنے والے کے لیے جبکہ میری امت فساد میں مبتلا ہوگئی شہید کے برابر ثواب ہے۔
اور امام ابو نعیم کی روایت میں ہے "کہ حضرت ابن فارس رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے لئے سو شہیدوں کے برابر ثواب ہے۔"
أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، حدیث نمبر: 5414، وأبو نعيم في حلية الأولياء،
والديلمي عن ابن عباس رضى الله عنهما في مسند الفردوس، حدیث نمبر: 6608،
١٠۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: سَيَأْتِيْکُمْ عَنِّي أَحَادِيْثُ مُخَتَلِفَةٌ فَمَا جَاءَ کُمْ مُوَافِقًا لِکِتَابِ اللهِ وَسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي وَمَا جَاءَ کُمْ مُخَالِفًا لِکِتَابِ اللهِ وَسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي.
رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ وَالْخَطِيْبُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس میری طرف (منسوب شدہ) مختلف احادیث پہنچیں گی؛ سو جو تمہارے پاس قرآن پاک اور میری سنت کے موافق پہنچے تو (جان لو کہ) وہ میری طرف سے (ہی) ہے اور جو تمہارے پاس قرآن پاک اور میری سنت سے وہ متصادم قول پہنچے تو (جان لو کہ) وہ میری طرف سے نہیں ہے۔"
أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، حدیث نمبر: 3456،
والخطيب الغدادي في الکفاية في علم الرواية، والذهبي في ميزان الاعتدال، والسيوطي في مفتاح الجنة، وابن عدي في الکامل، 4 / 69
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں