▶1◀
عَنْ اَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے گئے
صحیح بخاری کتاب الإیمان، باب تطوع قیام رمضان من الإیمان، حدیث نمبر:37
صحیح مسلم کتاب صلاة المسافرین وقصرها، باب الترغیب في قیام رمضان وھو التراویح حدیث نمبر: 759
سنن النسائی کتاب قیام اللیل وتطوع النہار، باب ثواب من قام رمضان إیمانا واحتسابا حدیث نمبر :1602
▶2◀
عَنْ اَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: اِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے
صحیح مسلم کتاب الصیام، باب فضل شهر رمضان حدیث نمبر:1079
سنن النسائی کتاب الصیام، باب فضل شهر رمضان، صفحہ نمبر:292 حدیث نمبر 2097 ( دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر :594 حدیث نمبر:8684 ( مکتبہ دار السلام )
السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:339 حدیث نمبر:7906 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶3◀
عَنْ اَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: اِذَا کَانَ اَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، صُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ، فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَیُنَادِي مُنَادٍ: یَا بَاغِيَ الْخَیْرِ، اَقْبِلْ، وَیَا بَاغِيَ الشَّرِّ، اَقْصِرْ، وَ ِﷲِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَةٍ
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے
جامع الترمذی کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل شهر رمضان، حدیث نمبر:682 ( مکتبہ دار السلام )
سنن ابن ماجہ کتاب الصیام، باب ما جاء في فضل شهر رمضان، حدیث نمبر: 1642 ( بیت الافکار الدولیة )

▶4◀
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ ،ظط فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، وَاِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ اَوْ شَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : اِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالٰى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ ، وَشَرَابَهُ ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ اَجْلِي الصِّيَامُ لِي ، وَاَنَا اَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا .
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے ) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔
صحیح بخاری کتاب الصوم باب فضل الصوم حدیث نمبر:1894
▶5◀
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ ،اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَحِصْنٌ حَصِیْنٌ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے اور جہنم سے بچاؤ کے لئے ایک مضبوط قلعہ ہے
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:627 حدیث نمبر:9225 ( مکتبہ دار السلام )
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:478 حدیث نمبر: 5139 ( مکتبہ دار المنھاج )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:50 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
کنزالعمال جلد نمبر:8 صفحہ نمبر:443 حدیث نمبر: 23565 ( مؤسسۃ الرسالہ )
▶6◀
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما: اَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: اُعْطِیَتْ اُمَّتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ خَمْسًا لَمْ یُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: اَمَّا وَاحِدَةٌ فَاِنَّهٗ اِذَا کَانَ اَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ نَظَرَ ﷲُ اِلَیْهِمْ وَمَنْ نَظَرَ ﷲُ اِلَیْهِ لَمْ یُعَذِّبْهٗ اَبَدًا. وَاَمَّا الثَّانِیَةُ فَإِنَّ خُلُوْفَ اَفْوَاهِهِمْ حِیْنَ یُمْسُوْنَ اَطْیَبُ عِنْدَ ﷲِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ. وَاَمَّا الثَّالِثَةُ فَاِنَّ الْمَـلَائِکَةَ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ فِي کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَةٍ. وَاَمَّا الرَّابِعَةُ فَاِنَّ ﷲ ل یَأْمُرُ جَنَّتَهٗ فَیَقُوْلُ لَهَا: اسْتَعِدِّيْ وَتَزَیَّنِيْ لِعِبَادِيْ اَوْشَکُوْا اَنْ یَسْتَرِیْحُوْا مِنْ تَعَبِ الدُّنْیَا اِلٰی دَارِي وَکَرَامَتِي. وَاَمَّا الْخَامِسَةُ فَاِنَّهٗ اِذَا کَانَ آخِرُ لَیْلَةٍ غُفِرَ لَهُمْ جَمِیْعًا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اَهِيَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: لَا، اَلَمْ تَرَ اِلَی الْعُمَّالِ یَعْمَلُوْنَ فَاِذَا فَرَغُوْا مِنْ اَعْمَالِهِمْ وُفُّوْا اُجُوْرَهُمْ
ترجمہ:حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیں جو اس سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے۔ پہلا یہ ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو ﷲ تعالیٰ ان کی طرف نظرِ التفات فرماتا ہے اور جس پر اُس کی نظرِ رحمت پڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ دوسرا یہ ہے کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو ﷲ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ فرشتے ہر دن اور ہر رات ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ چوتھا یہ ہے کہ ﷲ ل اپنی جنت کو حکم دیتاہے کہ میرے بندوں کے لیے تیاری کرلے اور مزین ہو جا، تاکہ وہ دنیا کی تھکاوٹ سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں۔ پانچواں یہ ہے کہ جب (رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا یہ شبِ قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے؟
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:303 حدیث نمبر:3603 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان ) صفحہ
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:56 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶7◀
عَنْ سَلْمَانَ رضی الله عنه قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فِي آخِرِ یَومٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: یَا اَیُّهَا النَّاسُ، قَدْ اَظَلَّکُمْ شَهْرٌ عَظِیْمٌ شَهْرٌ مُبَارَکٌ شَهْرٌ فِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَهْرٍ جَعَلَ ﷲُ صِیَامَهُ فَرِیْضَةً وَقِیَامَ لَیْلِهِ تَطَوُّعَا. مَنْ تَقَرَّبَ فِیْهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ اَدَّی فَرِیْضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَمَنْ اَدَّی فِیْهِ فَرِیْضَةً کَانَ کَمَنْ اَدَّی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ. وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ وَشَهْرٌ یَزَدَادُ فِیْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ. مَنْ فَطَّرَ فِیْهِ صَائِمًا کَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوْبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَکَانَ لَهُ مِثْلَ اَجْرِهِ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اَجْرِهِ شَيْئٌ قَالُوْا: لَیْسَ کُلُّنَا نَجِدُ مَا یُفَطِّرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: یُعْطِي ﷲُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَی تَمْرَةٍ اَوْ شَرْبَةِ مَاءِ اَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ وَهُوَ شَهْرٌ اَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَ اَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ. مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوْکِهِ غَفَرَ ﷲُ لَهُ وَاَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ وَاسْتَکْثِرُوْا فِیْهِ مِنْ اَرْبَعِ خِصَالٍ خَصْلَتَیْنِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ وَخَصْلَتَیْنِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا. فَاَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ فَشَهَادَةُ اَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ وَتَسْتَغْفِرُوْنَهُ وَاَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا فَتَسْاَلُوْنَ ﷲَ الْجَنَّةَ. وَتَعُوْذُوْنَ بِهِ مِنَ النَّارِ وَمَنْ اَشْبَعَ فِیْهِ صَائِماً سَقَاهُ ﷲُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لاَ یَظْمَاُ حَتَّی یَدْخُلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہو گیا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض کیا ہے اور راتوں کے قیام کو نفل۔ جو شخص اس میں قرب الٰہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے اسے دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ اور صبر کا ثواب جنت ہی ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کی افطاری کراتا ہے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نیز اسے اس (روزہ دار) کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک روزہ افطار کرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ثواب اللہ تعالیٰ ایک کھجور کھلانے یا پانی پلانے یا دودھ کا ایک گھونٹ پلا کر افطاری کرانے والے کو بھی دے دیتا ہے۔ اس مہینے کا ابتدائی حصہ رحمت ہے۔ درمیانہ حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے ملازم پر تخفیف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے۔ اس میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو۔ دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے ان میں سے ایک لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو۔ جو شخص روزہ دار کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:305 حدیث نمبر:3609 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:58 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶8◀
عَنْ اَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ تُفْتَحُ فِیْهِ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ اَبْوَابُ النَّارِ وَتُغَلُّ فِیْهِ الشَّیَاطِیْنُ. بُعْدًا لِمَنْ اَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَهُ اِذَا لَمْ یُغْفَرْلَهُ فِیْهِ فَمَتَی؟
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو (زنجیروںمیں) جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟
المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:323 حدیث نمبر: 7627 ( الناشر دار الحرمین )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:60 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶9◀
عَنْ ااَبِي مَسْعُوْدٍ الْغِفَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَاَهَلَّ رَمَضَانُ فَقَالَ: لَوْ یَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا رَمَضَانُ لَتَمَنَّتْ اُمَّتِي أَنْ یَکُوْنَ السَّنَةَ کُلَّهَا
ترجمہ:حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا تھا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر لوگوں کو رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کا پتہ ہوتا تو وہ خواہش کرتے کہ پورا سال رمضان ہی ہو
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:313 حدیث نمبر: 3634 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر :2 صفحہ نمبر :62 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶10◀
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ذَاکِرُ ﷲِ فِي رَمَضَانَ مَغْفُوْرٌ لَهُ، وَسَائِلُ ﷲِ فِیْهِ لَا یَخِیْبُ
ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں ﷲ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخش دیا جاتا ہے اور اس ماہ میں ﷲ تعالیٰ سے مانگنے والے کو نامراد نہیں کیا جاتا
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:311 حدیث نمبر: 3627 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر: 6 صفحہ نمبر:195 حدیث نمبر:6170 ( الناشر دار الحرمین )
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر: 417 حدیث نمبر:4853 ( دار المنھاج )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:64 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ غلام مصطفی قادری
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں