
١۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رضي الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيِّ ﷺ يَقُوْلُ: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ: (وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِي أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ) (غافر، 40: 60). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ وَأَبُوْدَاوُدَ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَاد
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عین عبادت ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطور دلیل) یہ آیت تلاوت فرمائی: اور تمہارے رب نے فرمایا ہے تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا بشک جو لوگ میری زندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے'
سنن ترمذی، کتاب: التفسير عن رسول الله ﷺ، باب: ومن سورة المؤمن، حدیث نمبر:3247
سنن ابو داؤد، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، حدیث نمبر:1479،
٢۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَيْسَ شَيئٌ أَکْرَمَ عَلَي اللهِ تَعَالىٰ مِنَ الدُّعَاءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ وَابْنُ مَاجَه.
وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی بارگاہ میں تو دعا سے زیادہ کوئی چیز محترم و مکرم نہیں"
سنن ترمذی، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في فضل الدعاء، حدیث نمبر: 3370،
سنن ابن ماجہ، کتاب: الدعاء، باب: فضل الدعاء حدیث نمبر: 3829،
٣۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيْبَ اللهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْکَرْبِ فَلْيُکْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے پسند ہو کے اللہ تعالی مشکلات اور تکالیف کے وقت اس کی دعا قبول کرے وہ خوشحالی کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ دعا کیا کرے "
سنن ترمذی، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء أن دعوة المسلم مستجاب، حدیث نمبر: 3382، سنن ابو داؤد، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، حدیث نمبر: 1479، سنن ابن ماجہ، کتاب: الدعاء، باب: فضل الدعاء، حدیث نمبر:3828
۴۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت کا بھی مغز (یعنی خلاصہ اور جوہر) ہے"
سنن ترمذی، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في فضل الدعاء، حدیث نمبر:3371،
۵۔ عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيْدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا کے علاوہ کوئی چیز تقدیر کو رد نہیں کر سکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کر سکتی
سنن ترمذی، کتاب: القدر عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء لا يرد القدر إلا الدعاء، حدیث نمبر: 2139، ومسند أحمد بن حنبل، حدیث نمبر:22440
٦۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله ﷺ: الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيْثُ أَنَسٍ حَدِِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی"
سنن ترمذی، کتاب: الصلاة عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في أَنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بينَ الأَذَانِ وَالإقامَةِ،حدیث نمبر: 212،
والنسائي في السنن الکبري،حدیث نمبر: 9895
٧۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُوْ لِأَخِيْهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ: وَلَکَ بِمِثْلٍ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو (مقرر کردہ) فرشتہ کہتا ہے تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو جو تو نے اپنے بھائی کے لیے دعا کی ہے"
صحیح مسلم، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب: فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب، حدیث نمبر: 2732
٨۔ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ يَقُوْلُ: دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيْهِ، بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتجَابَةٌ. عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ. کُلَّمَا دَعَا لِأَخِيْهِ بِخَيْرٍ، قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِهِ: آمِينَ. وَلَکَ بِمِثْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حضرت ام درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے اس بھائی کے لئے نیک دعا کرتا ہے فرشتہ کہتا ہے آمین اور تجھے بھی ایسے ہی نصیب ہو جیسے کہ تو نے اپنے بھائی کے لیے دعا کی ہے "
صحیح مسلم، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب: فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب، حدیث نمبر: 2733
٩۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعاؤں میں سب سے جلدی قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو ایک غائب شخص (اخلاص کے ساتھ) دوسرے غائب شخص کے لئے کرے "
سنن ترمذی، کتاب: البر والصلة عن رسول الله ﷺ، باب: ما جاء في دعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب، حدیث نمبر: 1980،
سنن ابو داؤد، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء بظهر الغيب، حدیث نمبر: 1535
١٠۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِيْهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُوْمِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَي وَلَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوْدَ وَأَحْمَدُ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تین قسم کے لوگوں کی) دعائیں بلا شک و شبہ قبول ہیں مظلوم کی دعا؛ مسافر کی دعا؛اور والد کی اپنی اولاد کے لیے کی گئی بد دعا"
سنن ترمذی، کتاب: البر والصلة عن رسول الله ﷺ، باب: ما جاء في دعوةِ الوالدين، حدیث نمبر: 1905
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ سہیل لطیف
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں