تازہ ترین

بدھ، 3 مارچ، 2021

کھانے اور پینے کے آداب احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ


 

▶1◀

عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رضی الله عنهما يَقُوْلُ: کُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَکَانَتْ يَدِي تَطِيْشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يَا غُلَامُ! سَمِّ اللهَ وَکُلْ بِيَمِيْنِکَ وَکُلْ مِمَّا يَلِيْکَ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِي بَعْدُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.


ترجمہ: "حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں لڑکپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر کفالت تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے وقت) میرا ہاتھ پیالے میں ہر طرف چلتا رہتا تھا۔ (ایک مرتبہ جب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برخودار! بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔ اس کے بعد میں اسی طریقہ سے کھاتا ہوں۔" 


صحیح بخاری. ، کتاب: الأطعمة، باب: التسمية علي الطعام والأکل باليمين، حدیث نمبر : 5061 - 5063،

صحیح مسلم ، کتاب: الأشربة، باب: آداب الطعام والشراب وأحکامهما، حدیث نمبر : 2022،


▶2◀

 عَنْ حُذَيْفَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيْرَ وَلَا الدِّيْبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوْا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْکُلُوْا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. 


ترجمہ: "حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ریشم اور دیباج کے کپڑے نہ پہنو،  سونے چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی سونے کی پلیٹوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ان (کفار)  کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔" 


صحیح بخاری ، کتاب: الأطعمة، باب: الأکل في إناء مُفَضَّضٍ، حدیث نمبر : 5110، 5309 - 5310،

صحیح مسلم ، کتاب: اللباس والزينة، باب: تحريم استعمال إناء الذهب والفضة، حدیث نمبر : 2067، 2069، 


▶3◀

 عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ أَکَلَ طَعَامًا فَقَالَ: (اَلْحَمْدُلِلهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ) غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.


وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.


ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھانا کھا کر یہ کلمات کہے: (الحمد للہ الذی اطعمنی ھذا ورزقنیہ من غیر حول منی ولاقوۃ) تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے مجھے کھانا کھلایا اور کسی حرکت و قوت کے بغیر مجھے عطا فرمایا۔ اس شخص کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"


سنن ترمذی ، کتاب: الدعوت عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما يقول إذا فَرَغَ من الطعام، حدیث نمبر : 3458،

مسند احمد بن حنبل، 3 / 439،

مستدرک للحاکم، حدیث نمبر : 7409، 


▶4◀

 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللهَ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا تَشْرَبُوْا وَاحِدًا کَشُرْبِ الْبَعِيْرِ، وَلَکِنِ اشْرَبُوْا مَثْنَي وَثُلَاثَ، وَسَمُّوْا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوْا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.


ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں (پانی) مت پیو، بلکہ دو یا تین مرتبہ (سانس لے کر) پیو اور پانی پینے سے قبل (بسم اللہ) پڑھو اور فراغت پر (الحمد للہ) کہا کرو۔"


سنن ترمذی ، کتاب: الأشربة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في التنفس في الإناء، حدیث نمبر : 1885، 

المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر : 11378، 


▶5◀

 عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ رضی الله عنه قَالَ: سًمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.


ترجمہ: "حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: انسان نے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لئے چند لقمے کھانا کافی ہے جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکے، اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو (پیٹ کے تین حصے کرے) ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے رکھے۔"


سنن ترمذی ، کتاب: الزهد عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في کراهية کثرة الأکل، حدیث نمبر : 2380، سنن ابن ماجہ ، کتاب: الأطعمة، باب: الاقتصاد في الأکل وکراهة الشبع، حدیث نمبر : 3349،


▶6◀

 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.


ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کھانے اور پانی میں پھونک مارتے تھے اور نہ برتن میں سانس لیتے تھے۔"


 وَفي رواية عنه: نَهَي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.


وفي رواية: عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها النَّفْخُ فِي الطَّعَامِ يَذْهَبُ بِالْبَرَکَةِ.


ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ھی مروی روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے اور پینے کی اشیاء میں پھونک مارنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔


اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کھانے میں پھونک مارنا اس کی برکت ختم کر دیتا ہے۔"


سنن ابن ماجہ ، کتاب: الأطمعة، باب: النفخ في الطعام، حدیث نمبر : 3288،

مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر : 2818، 3366،


▶7◀

 عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: کُلُوْا جَمِيْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا، فَإِنَّ الْبَرَکَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.


ترجمہ: "حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مل کر کھایا کرو الگ الگ نہ کھاؤ کیونکہ برکت مل کر (اور اکٹھے) کھانے سے حاصل ہوتی ہے۔"


سنن ابن ماجہ ، کتاب: الأطمعة، باب: الاجتماع علي الطعام،  حدیث نمبر : 3387،


◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

رائٹر: حضرت علامہ مولانا عمران علی سلامت 

◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو