
١۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا ممبر حوض پر ہے۔"
صحیح بخاری ، کتاب: الجمعة، باب: فضل ما بين القبر والمنبر، حدیث نمبر: 1138
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: ما بين القبر والمنبر روضة من رياض الجنة، حدیث نمبر: 1390
٢۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَي الْمَدِيْنَةِ، کما تَأْرِزُ الْحَيَةُ إِلَي جُحْرِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) ایمان اس طرح مدینہ منورہ کی طرف سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے"
صحیح بخاری ، کتاب: فضائل المدينة، باب: باب: الإيمانُ يأرز إلي المدينة، حدیث نمبر : 1777،
صحیح مسلم ، کتاب: الإيمان، باب: بيان أن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا وإنه يأرز بين المسجدين، حدیث نمبر: 147
٣۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: اَلْمَدِيْنَةُ حَرَمٌ مِنْ کَذَا إِلَي کَذَا، لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا، وَلَا يُحْدَثُ فِيهَا حَدَثٌ، مَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وهذا لفظ البخاري وزاد مسلم: لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرَفاً وَلَا عَدَلاً.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک حرم ہے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ اس میں کوئی فتنہ بپا کیا جائے جو اس میں فتنہ کا کوئی کام ایجاد کرے گا اس پر اللہ تعالی،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے یہ الفاظ بھی انہی کے ہیں اور مسلم نے الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن اس کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہ ہوگا۔"
صحیح بخاری، کتاب: فضائل المدينة، باب: حرم المدينة، حدیث نمبر: 1768،
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: فضل المدينة ودعاء النبي ﷺ فيها بالبرکة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها، حدیث نمبر: 1366
۴۔ عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ إِبْرَاهِيْمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا. لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا.
رَوَاهُ مُسلِمٌ وَأَحْمَدُ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے درمیان مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں نہ وہاں کوئی درخت اور جھاڑی جائے اور نہ ہی وہاں کوئی جانور شکار کیا جائے
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: فضل المدينة ودعاء النبي ﷺ فيها بالبرکة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها، حدیث نمبر : 1362،
مسند احمد بن حنبل ، 1 / 184،
۵۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوْءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرُّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف دینا چاہے گا تو اللہ تعالی دوزخ میں اسے اس طرح پگھلاے گا جس طرح آگ میں سیسہ پگھلتا ہے یا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے۔"
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: فضل المدينة ودعاء النبي ﷺ فيها بالبرکة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها، حدیث نمبر: 1363،
سنن نسائی ، حدیث نمبر: 4279
٦۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِيْنَةِ مَلَائِکَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُوْنُ وَلَا الدَّجَّالُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے (بطور محافظ مقرر) ہیں لہذا طاعون اور دجال اس (مقدس شہر) میں داخل نہیں ہوں گے۔"
صحیح بخاری ، کتاب: فضائل المدينة، باب: لا يدخل الدجال المدينة، حدیث نمبر: 1781
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: صيانة المدينة من دخول الطاعون والدجال إليها، حدیث نمبر: 1379،
٧۔ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِيْنَةَ رُعْبُ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ، لَهَا يَومَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى کُلِّ بَابٍ مَلَکَانِ.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسیح دجال کا رعب مدینہ کے اندر داخل نہیں ہوگا اس دن اس (شہر) کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے ۔"
صحیح بخاری ، کتاب: فضائل المدينة، باب: لايدخُلُ الدَّجَّال المدينة، حدیث نمبر: 1780
صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر : 3731، 6805،
٨۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: قَالَ: اَللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِيْنَةِ ضِعْفَي مَاجَعَلْتَ بِمَکَّةَ مِنَ الْبَرَکَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! مدینہ منورہ میں اس سے دوگنا برکت عطا فرما جتنی تو نے مکہ مکرمہ میں رکھی ہے۔"
صحیح بخاری ، کتاب: فضائل المدينة، باب: المدينة تَنْفِي الخَبَثَ، حدیث نمبر: 1786،
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: فضل المدينة ودعا النبي ﷺ فيها بالبرکة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها، حدیث نمبر: 1369
٩۔ عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، کُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (يَعْنِي الْمَدِينَةَ). رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسّائِيُّ وَمَالِکٌ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مدینہ منورہ کی سختیوں اور مصیبتوں پر صبر کرے گا قیامت کے دن میں اس کا گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔"
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: الترغيب في سکني المدينة والصبر علي لأْوائها، حدیث نمبر: 1377،
سنن نسائی ، حدیث نمبر : 4281،
١٠۔ عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِيْنَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلاَّ کُنْتُ لَهُ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْشَهِيْدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو شخص بھی مدینہ پاک کی تنگی اور سختی پر صبر کرے گا قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا
صحیح مسلم ، کتاب: الحج، باب: الترغيب في سکني المدينة والصبر علي لأْوائها، حدیث نمبر: 1378.
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ محمد سہیل لطیف
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں