![]() |
| عرفان الحدیث |
▶1◀
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا۔"
صحیح بخاری ، کتاب: الاعتکاف، باب: الاعتکاف في العشر الأواخر والاعتکاف في المساجد، حدیث نمبر : 1922،
صحیح مسلم ، کتاب: الاعتکاف، باب: اعتکاف العشر الأواخر من رمضان، حدیث نمبر: 1172
▶2◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَکِفُ فِي کُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ أَيَامٍ، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِيَ قُبِضَ فِيْهِ اعْتَکَفَ عِشْرِيْنَ يَوْمًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔"
سنن ابن ماجہ ، کتاب: الصيام، باب: في المعتکف يلزم مکانا من المسجد، حدیث نمبر: 1773
▶3◀
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ قَالَ نَافِعٌ: وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللهِ رضي الله عنه الْمَکَانَ الَّذِي کَانَ يَعْتَکِفُ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنَ الْمَسْجِدِ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْدَاوُدَ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد میں وہ جگہ دکھائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔"
سنن ابو داؤد ، کتاب: الصوم، باب: أين يکون الاعتکاف، حدیث نمبر: 2466
▶4◀
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ عُمَرَ رضي الله عنه سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: کُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَةِ أَنْ أَعْتَکِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ: فَأَوْفِ بِنَذْرِکَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: میں نے دور جاہلیت میں منت مانی تھی کہ خانہ کعبہ میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی منت پوری کرو۔"
صحیح بخاری ، کتاب: الاعتکاف، باب: الاعتکاف ليلا، حدیث نمبر: 1927،
صحیح مسلم ، کتاب: الأيمان، باب: نذر الکافر وما يفعل فيه إذا أسلم، حدیث نمبر: 1656
▶5◀
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: کَانَ النَّبِيُّ يَمُرُّ الْمَرِيْضَ وَهُوَ مُعْتَکِفٌ، فَيَمُرُّ کَمَا هُوَ وَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مریض کے پاس سے اعتکاف کی حالت میں گزرتے تو بغیر ٹھہرے حسب معمول گزرتے جاتے اور اس کا حال پوچھ لیتے۔"
سنن ابو داؤد ، کتاب: الصوم، باب: المعتکف يعود المريض، حدیث نمبر: 2472
▶6◀
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ کَانَ إِذَا اعْتَکَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ أَوْ يُوضَعُ لَهُ سَرِيْرُهُ وَرَاءَ أُسْطَوَانَةِ التَّوْبَةِ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ خُزَيْمَةَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ستون توبہ کے پیچھے تخت یا بستر بچھا دیا جاتا۔"
سنن ابن ماجہ ، کتاب: الصيام، باب: المعتکف يلزم مکانا من المسجد، حدیث نمبر: 1774،
صحیح ابن خزیمہ ، حدیث نمبر: 2236
▶7◀
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ فِي الْمُعْتَکِفِ: هُوَ يَعْتَکِفُ الذُّنُوْبَ وَيُجْرَي لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ کُلِّهَا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کے بارے میں فرمایا: وہ گناہ سے روک دیتا ہے اس کے لیے ایسی نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو تمام نیکیوں پر عمل کرنے والوں کے لئے لکھی جاتی ہیں."
سنن ابن ماجہ ، کتاب: الصيام، باب: في ثواب الاعتکاف، حدیث نمبر: 1781
▶8◀
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنِ اعْتَکَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللہ عزوجل جَعَلَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلاَثَ خَنَادِقَ کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقِيْنَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ جَيِدٍ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالی کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے اللہ تعالی اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے اور خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلہ سے زیادہ لمبی ہے۔"
المعجم الأوسط للطبرانی ، حدیث نمبر: 7326
▶9◀
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رضي الله عنهما عَنْ أَبِيْهِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِي رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ.
رَوَاهُ الطَّبرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ
حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما اپنے والد (حضرت امام حسین علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف کرتا ہے اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے
المعجم الکبير للطبرانی ، حدیث نمبر: 2888،
البيهقي في شعب الإيمان، حدیث نمبر: 3966
▶10◀
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ: قَالَ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وفي رواية: فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری سات طاق راتوں) میں تلاش کیا کروں۔"
صحیح بخاری ، کتاب: صلاة التراويح، باب: تحري ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر، حدیث نمبر: 1913،
صحیح مسلم ، کتاب: الصيام، باب: فضل ليلة القدر والحث علي طلبها وبيان محلي وأرجي روينا طلبها، حدیث نمبر: 1165
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ سہیل لطیف
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں