
▶1◀
عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ اَبِيهِ، قَالَ: قَالَ اَبُو ذَرٍّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمِلٌ، قَالَ: «يُرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا، لَا يَجِدُ مَا يُرْضَخُ بِهِ؟ قَالَ: «يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: «يَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا؟ قَالَ: «يُعِينُ مَغْلُوبًا» ، قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَظْلُومًا؟ فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ، مِنْ خَيْرٍ تُمْسِكُ الْأَذَى، عَنِ النَّاسِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلَاءِ، إِلَّا اَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ»
ترجمہ: حضرت مالک بن مرثد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بندہ جہنم سے نجات کیسے پا سکتا ہے؟تو آپ نے فرمایا اللہ پر ایمان لانے سے میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کے ساتھ عمل بھی ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اللہ نے دیا ہے اس سے اللہ کی راہ میں دینا میں نے عرض کی یارسول اللہ آپ بتائیں کہ اگر وہ فقیر ہوں اور دینے کے لئے کوئی چیز نہ پائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے میں نے عرض کی یارسول اللہ آپ مجھے بتائیں کہ اگر وہ کمزور ہو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی طاقت نہ رکھے تو آپ نے فرمایا کسی کو سامان دے دےمیں نے عرض کی کہ آپ مجھے بتائیں کہ اگر کوئی شخص کو کوئی چیز دینے کی طاقت نہ رکھے تو آپ نے فرمایا مغلوب کی مدد کر دے میں نے عرض کی یارسول اللہ آپ بتائیں کہ اگر وہ کمزور ہو کہ مظلوم کی مدد کرنے کی طاقت نہ رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تو چاہتا ہے اپنے ساتھی کو چھوڑنا بہتر ہے لوگوں کو تکلیف نہ دے میں نے عرض کی یا رسول اللہ اگر یہ کرے تو جنت میں داخل ہو گا؟ آپ نے فرمایا جس مسلمان نے ان خوبیوں میں سے ایک پائی جائے گی وہ خوبی اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو جنت میں داخل کرے گی
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر: 2 صفحہ نمبر: 156 - 157 حدیث نمبر:1650 ( الناشر :قاھرہ ؛ مصر مکتبہ ابن تیمیہ)
مکارم الاخلاق للطبرانی صفحہ نمبر: 195 حدیث نمبر:98 ( مکتبہ نظام یعقوبی الخاصۃ - البحرین دار لبشائر الاسلامیہ )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:162 (مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت - لبنان )
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:7 صفحہ نمبر:282 - 283 حدیث نمبر: 4804 ( مکتبہ دارالمنھاج )
▶2◀
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنٔ جَدِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ ﷲِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دُلَّنِيْ عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ اِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ الطَّعامِ وَ اِفْشاءُ السَّلامِ وَ حُسْنُ الْكَلَامِ
ترجمہ:حضرت مقدام بن شریح اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ایسے عمل کے بارے میں خبر دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور اچھی گفتگو کرنا یہ اعمال مغفرت کو واجب کرنے والے ہیں
احیاء علوم الدین للغزالی صفحہ نمبر:1149 (دار ابن حزم )
▶3◀
عَنْ اَبِي اَيُّوبَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ اَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ» فَلَمَّا اَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ: اِنْ تَمَسَّكَ بِمَا اُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کےپاس آیا اور پوچھا : مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس پر میں عمل کروں تو وہ مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : یہ کہ تو اللہ کی بندگی کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، نماز کی پابندی کرے ، زکاۃ ادا کرے اور اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا :اگر اس نے ان چیزوں کی پابندی کی جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو جنت میں داخل ہو گا
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بيان الإيمان الذي يدخل به الجنة وان من تمسك بما امر به دخل الجنة حدیث نمبر:13
▶4◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّة
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریا فت کیا آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھا نا کھلا یا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے آپ نے فر ما یا آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ جنت میں چلا جاتا ہے
صحیح مسلم کتاب الزکاۃ باب من جمع الصدقة، وأعمال البر حدیث نمبر:1028 (الناشر: دار طيبة)
السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:4 صفحہ نمبر: 318حدیث نمبر:7830 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر :6 صفحہ نمبر:537۔538حدیث نمبر:9199 (مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۔ لبنان )
السنن الکبری للنسائی جلدنمبر:7 صفحہ نمبر:295 حدیث نمبر:8053 ( المؤسسۃ الرسالۃ )
▶5◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولِ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ»، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنَّ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں آپ نے فرمایا تم اللہ کی بندگی کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو جو تم پر لکھ دی گئی ہے ، فرض زکاۃ ادا کرو او ررمضان کے روزے رکھو وہ کہنے لکا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نہ کبھی اس پر کسی چیز کا اضافہ کروں گا اور نہ اس میں گمی کروں گا جب وہ واپس جانے لگا تو نبی اکریم ﷺ نے فرمایا جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے
صحیح بخاری کتاب الزکاۃ باب وجوب الزکاۃ صفحہ نمبر:338 . 339 حدیث نمبر:1398 ( دار ابن کثیر )
صحیح المسلم کتاب الایمان صفحہ نمبر: 26 حدیث نمبر: 14 ( الناشر: دار طيبة )
▶6◀
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ اَنَّ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس پر نماز فرض ہے وہ جنتی ہے
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:49 حدیث نمبر: 423 ( مکتبہ دار السلام )
المستدرک للحاکم جلد نمبر :1 صفحہ نمبر:144 حدیث نمبر:243 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
السنن الکبری للبیہقی جلد نمبر:1 صفحہ نمبر:526 حدیث نمبر:1676 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:49 حدیث نمبر:2808 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
مجمع الزوائد للہیثمی جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:7 حدیث نمبر: 1618 ( دار المنھاج )
▶7◀
عَنْ اَبِی أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ
ترجمہ: حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے سنا، آپ نے فرمایا: تم اپنے رب اللہ سے ڈرو، پانچ وقت کی نماز پڑھو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکاۃ ادا کرو، اور امیر کی اطاعت کرو، اس سے تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے
جامع الترمذی کتاب الجمعۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باب منہ صفحہ نمبر:158 حدیث نمبر 616 ( مکتبہ دار السلام )
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1597 حدیث نمبر:22161 صفحہ نمبر:1604 حدیث نمبر:22258۔۔۔22260 ( مکتبہ دار السلام )
المستدرک للحاکم جلد نمبر:1 صفحہ نمبر: 52 حدیث نمبر:19 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
المعجم الکبیر للطبرانی جلد نمبر:8 صفحہ نمبر:181 حدیث نمبر: 7664 ( مکتبہ ابن تیمیہ )
البدایہ والنہایہ جلد نمبر:7 صفحہ نمبر: 641 ( دار ھجر )
▶8◀
عَنْ اُمِّ حَبِيبَةَ رضی اللّٰهُ عنھا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس نے ایک دن اور ایک رات میں بارہ رکعات ادا کیں اس کے لئے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے
صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا صفحہ نمبر:329 حدیث نمبر:768 ( الناشر: دار طيبة )
سنن ابی داؤد کتاب التطوع صفحہ نمبر:161 حدیث نمبر:1259 ( دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )
سنن النسائی کتاب قیام اللیل وتطوع النھار صفحہ نمبر:255 حدیث نمبر: 1809 (دارالحضارۃ للنشر والتوزیع )
سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ صفحہ نمبر:128 حدیث نمبر:1141 ( بیت الافکا الدولیۃ )
مسند احمد بن حنبل صفحہ نمبر:1943 حدیث نمبر: 26768 ( دار السلام )
▶9◀
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ رضي الله عنها عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ فِي صَعِيْدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُوْلُ أَيْنَ الَّذِيْنَ کَانَتْ تَتَجَافَي جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ؟ فَيَقُوْمُوْنَ وَهُمْ قَلَيْلٌ فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ثُمَّ يُوْمَرُ بِسَائِرِ النَّاسِ إِلَي الْحِسَابِ.
ترجمہ:حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں اکٹھے کئے جائیں گے اور ایک منادی اعلان کرے گا، جن لوگوں کی کروٹیں (اپنے رب کی یاد میں) بستروں پر نہ لگتی تھیں، وہ کہاں ہیں؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے، ان کی تعداد بہت کم ہوگی اور وہ جنت میں بغیر حساب و کتاب کے داخل ہو جائیں گے پھر باقی (بچ جانے والے) لوگوں کے حساب وکتاب کا حکم جاری کر دیا جائے گا
شعب الایمان للبیہقی جلد نمبر: 3 صفحہ نمبر:169 حدیث نمبر:3244 ( دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
▶10◀
عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا وَقَفَ الْعِبَادُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَؤمٌ وَاضِعِیْ سُیّوْفِھِمْ عَلَی رِقَابِھِمْ تَقْطُرُ دَمًا فَازْدَحَمُوا عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَقِیْلَ مَنْ ھَؤُلَاءِ؟ قِیْلَ الشُّھَدَاءُ کَانُوا اَحْیَاءً مَرْزُوْقِیْنَ ثُمَّ نَادَی مُنَادٍ: لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ، ثُمَّ نَادَى الثَّانِيةَ: لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ"، قَالُوا: وَمَنْ ذَا الَّذِي أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ؟ قَالَ:"الْعَافُونَ عَنِ النَّاسِ، ثُمَّ نَادَی الثَّالِثَةَ لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ فَقَامَ كَذَا وَكَذَا أَلْفًا، فَدَخَلُوا الْجَنَّةَ بِغَيرِ حِسَابٍ
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندے حساب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ آئیں گے انہوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھی ہوں گی ان کا خون بہ رہا ہوگا جنت کے دروازے پر ان کا ہجوم ہو جائے گا پھر دریافت کیا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں تو بتایا جائے گا کہ یہ شہداء ہیں یہ زندہ تھے انہیں رزق دیا جاتا تھا پھر ایک منادی کھڑا ہوگا اور ندا دے گا کہ وہ شخص کھڑا ہو جائے جس کا اجر اللہ رب العزت کے ذمہ کرم پر ہے وہ جنت میں داخل ہو جائےپھر دوسری بار لگا دی جائے گی کہ وہ شخص کھڑا ہو جائے جس کا اجر اللہ کے ذمہ کرم پر ہے وہ جنت میں داخل ہو جائے راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں پھر تیسری بار لٹا دی جائے گی کہ وہ شخص کھڑا ہو جائے کہ جس کا اجر اللہ کے ذمہ کرم پر جنت میں داخل ہو جائے تو اتنے اتنے ہزار لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے
المعجم الاوسط للطبرانی جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:285 حدیث نمبر:1998 ( الناشر دار الحرمین )
الحلیۃ الاولیاء جلد نمبر:6 صفحہ نمبر:187 ( دار الفکر )
الترغیب والترہیب للمنذری جلد نمبر:3 صفحہ نمبر:211 ( مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )
مکارم الاخلاق للطبرانی صفحہ نمبر:161 حدیث نمبر:55 ( دار البشائر الاسلامیہ )
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر:علامہ غلام مصطفی ثالب
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں