
▶1◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں
صحیح بخاری ، کتاب: الصوم، باب: صوم رمضان احتسابا من الإيمان، حدیث نمبر: 38،
صحیح مسلم ، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح، حدیث نمبر: 760
▶2◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ. وفي رواية: فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِيْنُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (ایک روایت میں ہے کہ) جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطان (زنجیروں میں) جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری ، کتاب: بدء الخلق، باب: صفة إبليس وجنوده، حدیث نمبر : 3103،
صحیح مسلم ، کتاب: الصيام، باب: فضل شهر رمضان، حدیث نمبر: 1079
▶3◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: قَالَ اللهُ عزوجل: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا کَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فلَاَ يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ. وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَخُلُوفُ فَمِ الصًّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيْحِ الْمِسْکِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: بنی آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے۔ روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں اور روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو نہ فحش کلامی کرے اور نہ جھگڑے اور اگر اسے (روزہ دار کو) کوئی گالی دے یا لڑے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کو مشک سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اسے فرحت ہوتی ہے۔ ایک (فرحت افطار) جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری (فرحت دیدار کے) جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے باعث خوش ہوگا"۔
صحیح بخاری ، کتاب: الصوم، باب: هل يقول إني صائم إذا شتم، حدیث نمبر: 1805،
صحیح مسلم ، کتاب: الصيام، باب: فضل الصيام، حدیث نمبر: 1151
▶4◀
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُوْنَ؟ فَيَقُوْمُوْنَ لَايَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوْا أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن روزہ دار اس میں سے داخل ہوں گے اور ان کے سوا اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا کہا جائے گا: کہاں ہیں روزہ دار؟ پس وہ کھڑے ہوں گے؛ ان کے علاوہ اس میں سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکے گا جب وہ داخل ہوجائیں گے تو اس اسے بند کر دیا جائے گا؛ پھر کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوسکے گا
صحیح بخاری ، کتاب: الصوم، باب: الريان للصائمين، حدیث نمبر: 1797،
صحیح مسلم، کتاب: الصيام، باب: فضل الصيام، حدیث نمبر: 1152
▶5◀
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ قَالَ: عَلَيْکَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ، قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ، قَالَ: عَلَيْکَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ.
رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا! یا رسول اللہ: مجھے کوئی (ایسا) عمل بتائیں (جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھو؛ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے میں نے (پھر) عرض کیا یا رسول اللہ: مجھے کوئی (اور) عمل (بھی) بتائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھو اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔"
صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر: 3426،
مستدرک للحاکم ، حدیث نمبر: 1533
▶6◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَحِصْنٌ حَصِيْنٌ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَالْبَيْهَقِيُّ.
وفي رواية: عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّمَا الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور دوزخ کی آگ سے بچاؤ کے لئے محفوظ قلعہ ہے۔"
اور ایک روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اس کے ساتھ بندہ خود کو دوزخ کی آگ سے بچاتا ہے۔"
والبزار عن ابن أبي الوقاص رضي الله عنه، حدیث نمبر: 2321،
المعجم الکبير للطبرانی ، حدیث نمبر: 8386،
البيهقي في شعب الإيمان، حدیث نمبر: 3582
▶7◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ، فَأَکَلَ، أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اللہ تعالی نے ہی تو اسے کھلایا پلایا ہے۔
صحیح بخاری ، کتاب: الصوم، باب: الصائم إذا أکل أو شرب ناسيا، حدیث نمبر: 1831
صحیح مسلم ، کتاب: الصيام، باب: أکل الناسي وشربه وجماعة لا يفطر، حدیث نمبر: 1155
▶8◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لِکُلِّ شَيءٍ زَکَاةٌ وَ زَکَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ. وَقَالَ: الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک چیز کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے۔"
سنن ابن ماجہ ، کتاب: الصيام، باب: في الصوم زکاة الجسد، حدیث نمبر: 1745،
المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : 5973،
والبيهقي في شعب الإيمان، حدیث نمبر: 3577،
▶9◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَولَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ ِللهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (بحالت روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر (برے) عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالی کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔"
صحیح بخاری ، کتاب: الصوم، باب: من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم، حدیث نمبر: 1804
سنن ترمذی ، کتاب: الصوم عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في التشديد في الغيبة للصائم، حدیث نمبر: 707
▶10◀
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: اسْتَعِيْنُوْا بِطَعَامِ السَّحْرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ وَبِالْقَيْلُوْلَةِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالْحَاکِمُ
حضرت عبداللہ بن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کے کھانے کے ذریعے دن کا روزہ (پورا کرنے) کے لئے مدد لو اور قیلولہ (دوپہر کو کچھ دیر کی نیند)کے ذریعے رات کے قیام کے لئے مدد لو۔"
سنن ابن ماجہ ، کتاب: الصيام، باب: ما جاء في السحور، حدیث نمبر: 1693،
صحیح ابن خزیمہ ، حدیث نمبر: 1939،
مستدرک للحاکم , حدیث نمبر: 1551،
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ سہیل لطیف
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں