
▶1◀
عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان اور اس کے کفر کے درمیان فرق (صرف) نماز کا چھوڑنا ہے
صحیح مسلم ، کتاب: الإيمان، باب: بيان إسم الکفر علي من ترک الصلاة،
سنن ترمذی ، کتاب: الإيمان عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في ترک الصلاة،
▶2◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَي الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَي رَمَضَانَ، مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور رمضان اگلے رمضان تک سب درمیانی عرصہ کے لئے گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں جبکہ اس دوران انسان کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔
صحیح مسلم ، کتاب: الطهارة، باب: الصلوات الخمس والجمعة إلي الجمعة ورمضان إلي رمضان مکفرات لما بينهن ما اجتنبت الکبائر، حدیث نمبر : 233،
سنن ترمذی ، کتاب: الطهارة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في فضل الصلوات الخمس، حدیث نمبر : 214
▶3◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ کُلَّ يَومٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَي مِنْ دَرَنِهِ شَيئٌ؟ قَالُوْا: لَا يَبْقَي مِنْ دَرَنِهِ شَيئٌ. قَالَ: فَذَلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ. يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذيُّ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَى: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک دریا ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس (کے بدن) پر کچھ میل باقی رہے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اس کے بدن پر بالکل میل باقی نہیں رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال بہی ایسی ہے اللہ تعالی ان کے سبب بندے کے سارے گناہ مٹا دیتا ہے
صحیح مسلم ، کتاب: الساجد، باب: المشي إلي الصلاة تُمْحَي به الخطايا وتُرْفَعُ بِهِ الدرجات، حدیث نمبر : 667،
سنن ترمذی ، کتاب: الأمثال عن رسول اللہ ﷺ، باب: مثل الصلوات الخمس، حدیث نمبر : 2868
▶4◀
عَنْ بُرَيْدَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَکَهَا فَقَدْ کَفَرَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
وفي رواية: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيْقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ: لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْکُهُ کُفْرٌ، غَيْرَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ترجمہ:حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان عہد نماز ہی ہے جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا۔
اور عبداللہ بن شقیق عقیلی سے مروی ہے؛ وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے سوا کسی دوسرے عمل کے ترک کو کفر نہیں جانتے تھے۔
سنن ترمذی ، کتاب: الإيمان عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في ترک الصَّلاة، حدیث نمبر : 2621 - 2622،
سنن نسائی ، کتاب: الصلاة، باب: الحکم في تارک الصلاة، حدیث نمبر : 463،
▶5◀
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلاَتُهُ، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ، فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيْضَتِهِ شَيئٌ، قَالَ الرَّبُّل: انْظُرُوْا، هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُکَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيْضَةِ، ثُمَّ يَکُوْنُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِکَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا :قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہوگا وہ نماز ہے اگر یہ صحیح ہوا تو وہ کامیاب ہوا اور نجات پا گیا اور اگر یہ ٹھیک نہ ہوا تو بندہ ناکام ہوا اور اس میں نقصان اٹھایا پھر اگر فرض نماز میں کچھ کمی رہ گئی تو اللہ تعالی فرمائے گا: کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ پھر اس سے فرض کی کمی پوری کی جائے گی؛ پھر تمام اعمال کا اسی طرح حساب و کتاب ہوگا (یعنی فرض اعمال کے نہ ہونے کی صورت میں نوافل سے کمی پوری کی جائے گی)
سنن ترمذی ، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء أنَّ أَوَّلَ ما يُحَاسَبُ به العبد يوم القيامة الصلاة، حدیث نمبر : 413،
سنن نسائی ، کتاب: الصلاة، باب: المحاسبة علي الصلاة، حدیث نمبر : 465 - 467،
سنن ابن ماجہ ، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في أول ما يحاسب به العبد الصلاة،
▶6◀
عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ رضي الله عنه قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوْئِهِ تَبَسَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا ضَحِکْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ: تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ، کَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ تَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا ضَحِکْتُ قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَ رَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وُضُوْءَهُ، ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ فَأَتَمَّ صَلَاتَهُ خَرَجَ مِنْ صَلَاتِهِ کَمَا خَرَجَ مِنْ بَطَنِ أُمِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ.
ترجمہ:حضرت حمران عن ابان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پانی طلب کیا اور پھر وضو کیا جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو آپ مسکرائے اور پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرایا ہوں؟ تو تو پھر آپ نے خود ہی فرمایا ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا جس طرح میں نے وضو کیا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرایا؟ تو ہم نے جواب دیا اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ بڑے اہتمام کے ساتھ وضو مکمل کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور نماز کو بھی بڑے اہتمام کے ساتھ مکمل کرتا ہے تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک ہوتا ہے گویا کہ وہ اپنی ماں کے بدن سے ابھی پیدا ہوا ہے
مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر : 403،
مسند بزار ، حدیث نمبر : 435،
▶7◀
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَوَّلُ مَا يُحَاسَبَ بِه الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ سَائِرُ عَمَلِهِ، وَ إِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقینا پہلی چیز جس کا حساب بندے سے لیا جائے گا وہ نماز ہے بس اگر نماز درست ہوگی تو بندے کے جملہ اعمال درست ہوں گے اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو دوسرے تمام اعمال بھی درست نہیں ہوں گے ۔
الطبراني في المعجم الأوسط،
▶8◀
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النُّهْدِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي وَخَطَايَاهُ مَوْضُوْعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، فَکُلَّمَا سَجَدَ تَحَاتَتْ فَيَفْرُغُ عَنْهُ، حِيْنَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَدْ تَحَاتَتْ خَطَايَاهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.
ترجمہ:حضرت ابو عثمان نمہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے گناہ اس کے سر پر دھرے رہتے ہیں پس جس وقت وہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے گناہ جھڑتے چلے جاتے ہیں اور جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے کہ اس کے تمام گناہ اس سے جڑ چکے ہوتے ہیں
امام طبرانی نے المعجم الصغير میں روایت کیا ہے ،
امام بیھقی نے شعب الإيمان میں ذکر کیا ،
▶9◀
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ، وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ، وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ.
رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ.
وفي رواية: عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وأَبُوْدَاوُدَ.
وَقَالَ أَبُوعِيْسَى: حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی اولاد کو جب سات سال کے ہو جائیں تو نماز کا حکم کیا کرو اور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو نماز کی پابندی نہ کرنے پر انہیں مارا کرو اور ان کے سونے کی جگہ الگ الگ کر دو
اور ایک روایت میں عبدالمالک بن ربیع بن سبرہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سات سال کے بچے کو نماز سکھاؤ اور دس سال کے بچے کو نماز( نہ پڑھنے) پر سزا دو
صحیح ابن خزیمہ ، حدیث نمبر : 1002،
▶10◀
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ تَعَالَى؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا. قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ. قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اللہ تعالی کے ہاں کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ؟فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا میں نے عرض کیا پھر کون سا ؟فرمایا: والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا میں نے عرض کیا پھر کونسا؟ فرمایا :اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا _،
صحیح بخاری ، کتاب: مواقيت الصلاة، باب: فضل الصلاة لوقتها، حدیث نمبر : 504،
صحیح مسلم ، کتاب: الإيمان، باب: بيان کون الإيمان باللہ تعالي أفضل الأعمال، حدیث نمبر : 85
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
رائٹر: حافظ سہیل لطیف صاحب
◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں