تازہ ترین

پیر، 15 فروری، 2021

ملاقات اور سلام کے آداب احادیث مبارکہ کی روشنی میں

 


▶1◀

عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهَا: يَا عَائِشَةُ! هَذَا جِبْرِيْلُ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامُ. فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

بخاری شریف، کتاب: بدء الخلق، باب: ذکر الملائکةِ، 3 / 1177، الرقم: 3045

مسلم شریف، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة رضی الله عنها، 4 / 1895، الرقم: 2447


ترجمہ:''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اور ان پر بھی سلام ہو اور اللہ تبارک و تعالی کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔''


▶2◀

 عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ: أَيُّ الإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

بخاری شریف، کتاب: الإيمان، باب: إطعام الطعام مِنَ الإسلام، 1 / 13، الرقم: 12

مسلم شریف، کتاب: الإيمان، باب: بيان تفاضل الإسلام ونصف أموره أفضل، 1 / 65


 ترجمہ"حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: یارسول اللہ سب سے بہتر اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور (ہر ایک کو) سلام کرو، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے۔"


▶3◀

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قاَلَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَی الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيْلُ عَلَی الْکَثِيرِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وفي رواية للبخاري: وَالصَّغِيْرُ عَلَی الْکَبِيْرِ.

بخاری شریف، کتاب: الاستئذان، باب: تسليم القليل علي الکثير، 5 / 2301، الرقم: 5877

مسلم شریف ، کتاب: السلام، باب: يسلم الراکب علي الماشي والقليل علي الکثير، 4 / 1703، الرقم: 2160


 ترجمہ:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور تھوڑے آدمی زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔"

اور امام بخاری کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔‘‘


▶4◀

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتَّی تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتَّی تَحَابُّوْا، أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَيءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوْا السَّلَامَ بَيْنَکُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

مسلم شریف ، کتاب: الإيمان، باب: بيان أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون وأن محبة المؤمنين من الإيمان وأن إفشاء السلام سبب لحصولها، 1 / 74، الرقم: 54،

سنن ترمذی ، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في إفشاء السلام، 5 / 52، الرقم: 2688،


ترجمہ:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ (اور وہ یہ عمل ہے کہ) اپنے درمیان سلام کو پھیلایا کرو (یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کیا کرو)۔"


▶5◀

 عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ رضی الله عنه قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ، فَقُلْتُ: عَلَيْکَ السَّلَامُ يَا رَسُوْلَ اللهِ! قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْکَ السَّلَامُ، فَإِنَّ عَلَيْکَ السَّلَامُ تَحِيَةُ الْمَوْتَي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

سنن ترمذی ، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في کراهية أن يقول: عليک السلام مبتدئا، 5 / 71، الرقم: 2721

سنن ابو داؤد ، کتاب: الأدب، باب: کراهية أن يقول عليک السلام، 4 / 353، الرقم: 5209

ترجمہ:"حضرت جابر بن سُلیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: علیک السلام یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ علیک السلام نہ کہو یہ مُردوں کا سلام ہے (بلکہ السلام علیکم کہا کرو)۔"


▶6◀

 عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَنَّ أَوْلَي النَّاسِ بِاللهِ تَعَالیٰ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلاَمِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

سنن ابو داؤد ، کتاب: الأدب، باب: في فضل من بدأ بالسلام، 4 / 351، الرقم: 5197

بيهقي في شعب الإيمان، 6 / 433، الرقم: 8787


ترجمہ:"حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ تعالی کے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرے۔"


▶7◀

 عَنْ أُسَامَةَ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَی مَجْلِسٍ فِيْهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُشْرِکِيْنَ . . . عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُوْدِ . . . فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ ﷺ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

صحیح بخاری ، کتاب: الاستئذان، باب: التسليم في مجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشرکين، 5 / 2307، الرقم: 5899
صحیح مسلم ، کتاب: الجهاد والسير، باب: في دعاء النبي ﷺ وصبره علي أذي المنافقين، 3 / 1422، الرقم: 1798


ترجمہ:"حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرک، بت پرست اور یہودی سبھی جمع تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔


◀8▶
عَنْ کَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ رضی الله عنه، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ارْجِعْ، فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَ أَدْخُلُ؟

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ

سنن ترمذی ، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في التسليم قبل الاستئذان، 5 / 64، الرقم: 2710
 سنن ابو داؤد: کتاب: الأدب، باب: کيف الاستئذان، 4 / 344، الرقم: 5176

ترجمہ:"حضرت کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر داخل ہوا اور سلام نہ کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ اور کہو السلام علیکم، کیا میں داخل ہو سکتا ہوں؟

مزید پڑھیں: پوسٹ: 2 ملاقات اور سلام کے آداب

◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻

رائٹر: حضرت علامہ مولانا عمران علی سلامت صاحب

◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻◻





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو