تازہ ترین

بدھ، 17 فروری، 2021

ملاقات اور سلام کے آداب احادیث مبارکہ کی روشنی میں مکمل حوالہ کے ساتھ


▶1◀

 عَنْ جَرِيْرٍ رضی الله عنه قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.


ترجمہ: "حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔" 


مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر: 19367

 الطبرانی، حدیث نمبر: 3759،


▶2◀

 عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ رضی الله عنه: أَکَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.


ترجمہ: "حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ مروّج تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ "


صحیح بخاری: کتاب: الاستئذان، باب: المصافحہ، حدیث نمبر: 5908

ابن حبان: حدیث نمبر: 492


▶3◀

 عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.


ترجمہ: "حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔"


سنن ترمذی: کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء فی المصافحہ، حدیث نمبر: 2727

سنن ابو داود، کتاب: الأدب، باب: في المصافحة، حدیث نمبر: 5211 - 5212،


▶4◀

 عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِکًا حَتَّی أَرَي مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا کَانَ يَتَبَسَّمُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.


ترجمہ: "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح کھولیں کر (یعنی قہقہ لگا کر) ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلق مبارک بھی دیکھ لیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے۔" 


صحیح بخاری، کتاب: الأدب، باب: التبسم والضَّحِکِ، حدیث نمبر: 5741،

صحيح مسلم، کتاب: صلاة الاستسقاء، باب: التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر، حدیث نمبر: 899،


▶5◀

 عَنْ جَرِيْرٍ رضی الله عنه قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ ﷺ مُنْذُ أَسَلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.


ترجمہ: "حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں دائرہ اسلام میں داخل ہوا اس وقت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی پردہ میں ہوئے یا مجھے دیکھا میرے سامنے ضرور مسکرائے۔ (یعنی کسی قسم کا کوئی حجاب نہیں رکھا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو چہرہ انور تبسم ریز ہو جاتا)۔"


صحيح بخاری، کتاب: الجهاد، باب: مَن لا يَثْبُتُ علي الخَيْلِ، حدیث نمبر: 2871،

صحيح مسلم، کتاب: فضائل الصحابة، باب: من فضائل جرير بن عبد اللہ رضی الله عنه، حدیث نمبر: 2475،


▶6◀

 عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ رضی الله عنه قَالَ: مَا رَأَيتُ أَحَدًا أَکْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔"


سنن ترمذی، کتاب: المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب: في بشاشة النبي ﷺ، حدیث نمبر: 3641، 

ومسند أحمد بن حنبل حدیث نمبر: 8047،


▶7◀
 عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يَا بُنَيَّ! إِذَا دَخَلْتَ عَلَی أَهْلِکَ، فَسَلِّمْ، يَکُنْ بَرَکَةً عَلَيْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَيْتِکَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.


ترجمہ:"حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: بیٹے! جب گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کیا کرو، یہ تمہارے لیے اور تمہارے اہل خانہ کے لیے باعثِ برکت ہوگا۔" 

سنن ترمذی ، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في التسليم إذا دخل بيته، 5 / 59، الرقم: 2698


▶8◀
 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْکُمْ أَهْلُ الْکِتَابِ فَقُوْلُوْا: وَعَلَيْکُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. 

ترجمہ:"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کہے تو تم یوں کہو: (وٙعٙلٙیْکُمْ) اور تم پر بھی۔"


صحیح بخاری ، کتاب: الاستئذان، باب: کيف الردّ علي أهل الذمة بالسلام، 5 / 2309، الرقم: 5903

صحیح مسلم ، کتاب: السلام، باب: النهي عن ابتداء أهل الکتاب بالسلام وکيف يرد عليهم، 4 / 1705، الرقم: 2163


مزید پڑھیں: پوسٹ:1 ملاقات اور سلام کے آداب


◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼

رائٹر: علامہ حضرت علامہ مولانا عمران علی سلامت 

◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼◼



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو