تازہ ترین

پیر، 21 فروری، 2022

واقعہ معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حدیث معراج


عَن أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى قَالَ: أُتِيَ بِفَرَسٍ فَحُمِلَ عليه قَالَ كُلُّ خُطْوَةٍ مُنْتَهَى أَقْصَى بَصَرِهِ فَسَارَ وَسَارَ مَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ

حضرت ابو ہریرہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا: «سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی» کہ ایک گھوڑا لایا گیا تھا تھا جس پر میں سوار ہوا تھا تھا اور اس کا ایک خدمت حد نگاہ پڑتا تھا وہ جانور روانہ ہوا اور جبرئیل علیہ السلام بھی روانہ ہوئے 


مہاجرین کا اجر:

 فأتى قوم يَزْرَعُونَ فِي يَوْمٍ وَيَحْصُدُونَ فِي يَوْمٍ كُلَّمَا حَصَدُوا عَادَ كَمَا كَانَ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ! مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْمُهَاجِرُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْحَسَنَةُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

(پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا) ہم ایسی قوم کے پاس آئے جو ایک دن کاشت کرتے اور دوسرے دن کاٹ لیتے جیسے ہیں وہ کاٹتے تو کھیتی بھی ویسے ہی ہوجاتی جیسی پہلے تھی میں نے پوچھا جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ہیں تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ مہاجرین نہیں ہیں جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے ہیں ان کے لیے نیکی سات سو گناہ زیادہ کر کے دی جاتی ہے «وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ»

اور جو تم خرچ کرتے ہو وہ اس کے پیچھے اور دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے 


بے نمازی کا حشر:

ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ ترضخ رؤوسهم بِالصَّخْرِ كُلَّمَا رُضِخَتْ عَادَتْ كَمَا كَانَتْ لَا يَفْتُرُ عنهم مِنْ ذَلِكَ، شَيْئًا، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ! مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَتَثَاقَلُ رُؤُوْسهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پھر اسی قوم کے پاس ہم آئے جن کے سر پر پتھروں سے کچلے جارہے تھے اور جیسے ہی سر چلے جاتے تھے وہ دوبارہ ویسے ہی ہو جاتے تھے جیسے پہلے تھے اس میں کوئی کمی نہیں آئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سر نماز سے بوجھل ہو جاتے تھے  


زکوۃ و صدقات ادا نہ کرنے والوں کا انجام:

 قَالَ: ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ عَلَى أَقْبَالِهِمْ رِقَاعٌ وَعَلَى أَدْبَارِهِمْ رِقَاعٌ يَسْرَحُونَ كَمَا تَسْرَحُ الْأَنْعَامُ عَنِ الضَّرِيعِ وَالزَّقُومِ وَرَضْفِ جَهَنَّمَ وَحِجَارَتِهَا قَالَ: مَا هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا يُؤَدُّونَ صَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَمَا اللّٰهُ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر ہم ایسی قوم کے پاس ہے کہ جن جن کی پشت پر اور آگے کی طرف دیکھتے تھے جس طرح چلتے تھے جس طرح جانور چلنے کے لیے جاتے ہیں اور وہ (جہنمی) چلتے ہوئے ضریع ، زقوم اور جہنم کے انگاروں کی طرف جاتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون لوگ ہیں اے جبریل؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اموال کی زکاۃ ادا نہیں کرتے تھے اللہ تعالی نے ان پر ظلم نہیں کیا اور اللہ تعالی بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے


زناکاری کی سزا:

 ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ لَحْمٌ فِي قِدْرٍ نَضِجٌ طَيِّبٌ وَلَحْمٌ آخَرُ خَبِيثٌ، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنَ الْخَبِيثِ وَيَدَعُونَ النَّضِجَ الطَّيِّبَ فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذَا الَّذِي يَقُومُ وعنده امرأة حلالا طيبا فَيَأْتِي الْمَرْأَةَ الْخَبِيثَةَ فَتَبِيتُ مَعَهُ حَتَّى يُصْبِحَ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر ہم ایسی قوم کے پاس آئے کہ جن کے آگے ہانڈیوں میں پکا ہوا ہوا پاکیزہ گوشت جو ہے پڑا ہوا تھا وہ اس کو چھوڑ کر مردار کو اور بدبودار گوشت کو کھا رہے تھے تھے میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ہیں تو کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس دنیا میں حلال اور پاکیزہ بیویاں تھیں مگر یہ ان کو چھوڑ کر بدبودار عورتوں کے پاس رات گزارتے اور صبح تک آپ کے پاس رہتے تھے 


ثُمَّ أَتَى عَلَى خَشَبَةٍ عَلَى الطَّرِيقِ لَا يَمُرُّ بِهَا شَيْءٌ إِلَّا قَصَعَتْهُ يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِراطٍ تُوعِدُونَ 

پھر اس کے بعد ایک لکڑی پر آئے جو راستے پر تھی جو بھی اس کے پاس سے گزرتا ہوں اس کو زخمی کر دیتی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا «وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِراطٍ تُوعِدُونَ»


امانتیں ادا نہ کرنے والوں کی مثال:

ثُمَّ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ قَدْ جَمَعَ حُزْمَةً عَظِيمَةً لَا يَسْتَطِيعُ حَمْلَهَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَزِيدَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِكَ عَلَيْهِ أَمَانَةٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا وَهُوَ يَزِيدُ عَلَيْهَا

( پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) کہ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزر ہوا کہ جو ایک لکڑیوں کا بڑا ڈھیر جمع کرتا ہے جس کو اٹھانے کی طاقت نہیں سکتا مگر اس میں اضافہ ہی کرتا جاتا ہے میں نے کہا کہ جبرائیل یہ کون ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ وہ آدمی ہے آپ کی امت میں سے کہ جس کے پاس امانت رکھی تھی وہ ان کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا پھر بھی اس میں اضافہ کر دیتا ہے 


فتنہ پرور خطیبوں کا انجام:

ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ أَلْسِنَتُهُمْ وَشِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ حَدِيدٍ كُلَّمَا قُرِضَتْ عَادَتْ كَمَا كَانَتْ وَلَا يَفْتُرُ عَنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، قَالَ: يا جبريل! من هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطُبُ الْفِتْنَةِ

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک ایسی قوم کے پاس ہم آئے کہ جن کی زبان اور ہونٹ کی لڑکیوں کے ساتھ کاٹے جا رہے تھے تھے اور جیسے ہی کاٹے جاتے وہ پہلے جیسے ہو جاتے تھے تھے اور وہ یہی عمل بار بار کرتے مجھے اس میں کوئی بھی کمی نہیں آئی میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ فتنہ پرور خطیب اور واعظ ہیں 


منہ سے نکلی بات واپس نہیں ہوتی:

ثُمَّ أَتَى عَلَى حَجَرٍ صَغِيرٍ يَخْرُجُ مِنْهُ نُورٌ عَظِيمٌ فَجَعَلَ النُّورُ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ وَلَا يَسْتَطِيعُ قَالَ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ! قَالَ: هَذَا الرَّجُلُ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَنْدَمُ عَلَيْهَا فَيُرِيدُ أَنْ يَرُدَّهَا وَلَا يَسْتَطِيعُ

پھر ایک چھوٹے پتھر پر ہے جس میں سے ایک عظیم روشنی نمودار ہو رہی تھی اور پھر وہ نور اور روشنی دوبارہ وہی داخل ہونا چاہتی تھی جہاں سے نکلی تھی لیکن وہاں داخل نہیں ہو پاتی تھی تھی میں نے کہا کہ جبرائیل یہ کیا ہے ؟ تبریز علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جو منہ سے سے کوئی بات کرتا ہے اور پھر اس پر وہ شرمندہ ہوتا ہے پھر ارادہ کرتا ہے کہ اس بات کو واپس لوٹ آئے مگر وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا


جنت کی سیر:

ثُمَّ أَتَى عَلَى وَادٍ فَوَجَدَ رِيحًا بَارِدَةً طَيِّبَةً وَوَجَدَ رِيحَ الْمِسْكِ وَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ! مَا هَذِهِ الرِّيحُ الْبَارِدَةُ الطَّيِّبَةُ وَرِيحُ الْمِسْكِ؟ وَمَا هَذَا الصَّوْتُ؟قَالَ: هَذَا صَوْتُ الْجَنَّةِ تَقُولُ: يَا رَبِّ ائْتِنِي بِأَهْلِي وَبِمَا وَعَدْتَنِي فَقَدْ كَثُرَ عَرْفِي، وَحَرِيرِي،وَسُنْدُسِي، وَإِستَبْرَقِي، وَعَبْقَرِيِّ، وَلُؤْلُؤِي، وَمَرْجَانِي، وَفِضَّتِي، وَذَهَبِي، وَأَبَارِيقِي، وَفَوَاكِهِي، وَعَسَلِي، وَخَمْرِي، وَلَبَنِي، فَائْتِنِي بِمَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ: لَكِ كُلُّ مُسْلِمٍ وَمَسْلَمَةٍ، وَمُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَمَنْ آمَنَ بِي وَبِرُسُلِي، وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا، وَلَمْ يَتَّخِذْ مِنْ دُونِي أَنْدَادًا، وَمَنْ خَشِيَنِي آمَنْتُهُ، وَمَنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ، وَمَنْ أَقْرَضَنِي جَزَيْتُهُ، ومن توكّل عليّ كيفيته، وَأَنَا اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لَا أُخْلِفُ الْمِيعاد قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ------ إلى تَبارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ : قَدْ رَضِيتُ

اس کے بعد ایک ایسی وادی پر آئے جہاں ہم نے ٹھنڈی ہوا پائی اور پاکیزہ ہوا اور کستوری کی خوشبو اور انہوں نے ایک آواز سنی اور پوچھا کہ جبرائیل یہ کیسی صاف ستھری ٹھنڈی ہوا ہے؟ اور کستوری کی خوشبو ہے ؟ اور یہ کیسی آواز ہے؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آواز جنت کی ہے جو کہہ رہی ہے کہ اے میرے رب مجھ میں رہنے والے لوگوں کو بھیج دو جن کا مجھ سے آپ نے وعدہ لے رکھا ہے میری خوشبو، میرا ریشم، میرا سندس، میرا استبرق، اور عبقری، میرے موتی، میرے مرجان، میرے چاندی، میرا سونا، میرے ابریق، میرے پھل میوے، میرا شہد، میری شراب، میرا دودھ سب چیزیں بہت ہوگئی ہیں لہذا ان کو لے آ میرے پاس جن کو آپ نے میرا وعدہ دے رکھا ہے

اللہ نے اس کو فرمایا ہے کہ ہر مسلمان مرد عورت تیرے لئے ہے ہے ہر مومن مرد عورت لیے ہیں اور ہر وہ جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لے آیا ہے ہے جنہوں نے عمل صالح کیے ہیں جنہوں نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جنہوں نے میرے سوا کوئی اور شریک نہیں ٹھہرائے جو مجھ سے ڈرتے رہے ہیں میں نے ان کو امن دیا جس نے مجھ سے سوال کیا میں نے اس کو عطا کیا جس نے مجھ سے قرض مانگا میں نے اس کو جزا دی جس نے مجھ پر توکل کیا میں نے اس کی کفایت کی میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی الٰہ نہیں میں ہی معبود ہوں میں اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اس کے بعد فرمایا:

 قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ---------- إلى تَبارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ 

لہذا جنت راضی اور خوش ہو جاتی ہے 


جہنم کی آوازیں:

ثُمَّ أَتَى عَلَى وَادٍ فَسَمِعَ صَوْتًا مُنْكَرًا قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! مَا هَذَا الصَّوْتُ؟قَالَ: هَذَا صَوْتُ جَهَنَّمَ يَقُولُ: ائْتِنِي بِأَهْلِي وَمَا وَعَدْتَنِي فَقَدْ كَثُرَ: سَلَاسِلِي، وَأَغْلَالِي، وَسَعِيرِي، وَزَقُّومِي، وَحَمِيمِي، وَحِجَارَتِي، وَغَسَّاقِي، وَغِسْلِينِي، وَقَدْ بَعُدَ قَعْرِي، وَاشْتَدَّ حَرِّي فَأْتِنِي بِمَا وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: لَكِ كُلُّ مُشْرِكٍ وَمُشْرِكَةٍ، وَكَافِرٍ وَكَافِرَةٍ وَكُلُّ خَبِيثٍ وَخَبِيثَةٍ، وَكُلُّ جَبَّارٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ قَالَتْ: قَدْ رَضِيتُ

اس کے بعد ایک اور وادی میں آئے وہاں بہت بری بری آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا کیا جبرائیل یہ کیسی آواز ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ جہنم کی آواز ہے یہ کہتی ہے میرے لوگوں کو میرے پاس لے آ جن کو میرا وعدہ دے رکھا ہے اور جن کا مجھے اپنے وعدہ دے رکھا ہے میری بیڑیاں، میری زنجیر زیادہ ہوگئے ہیں میرے طوق، میرا دھکنا، میرے تھوہر، میرا کھولتا پانی، گرم پتھر، میری گڑھ پیپ اور دھون بہت ہو چکا ہے میری گہرائی بہت زیادہ ہو چکی ہے میری گرمی بڑھ گئی ہے ان کو لے آئیے جن کا مجھ سے آپ نے وعدہ کیا ہے اللہ کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ ہر مشرک اور مشرکہ تیرے لئے ہے ہر کافر اور کافرہ تیرے لئے ہے ہر خبیث اور خبیثہ تیرے لئے ہے ہر سرکش تیرے لئے ہے جو یوم حساب کو نہیں مانتا یہ سن کر جہنم بھی خوش ہو جاتی ہے

.

قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَ فَرَبَطَ فَرَسَهُ إِلَى صَخْرَةٍ ثُمَّ دَخَلَ فَصَلَّى مَعَ الْمَلَائِكَةِ فَلَمَّا قُضِيَتْ قَالُوا: يَا جِبْرِيلُ! مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے بعد چلے یہاں تک کہ بیت المقدس میں آ گئے اترے اور گھوڑا باندھا صخرہ کے ساتھ پھر داخل ہوئے اور فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھیں جب نماز پوری ہو چکی تو سب نے پوچھا کہ اے جبرائیل یہ کون ہیں آپ کے ساتھ؟


قَالَ:مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ

جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں 


 قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟

انہوں نے پوچھا کہ انہیں اِدھر بیجھا گیا ہے


 قَالَ: نَعَمْ

جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا جی ہاں


قَالُوا:حَيَّاهُ اللّٰهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ

انہوں نے کہا کہ اللہ ان کو تحیہ دے بھائی سے آور خلیفہ سے یہ بہترین بھائی ہیں اور بہترین خلیفہ ہیں اور اچھی جگہ آیا ہے


قَالَ: ثُمَّ أَتَى أَرْوَاح الْأَنْبِيَاءِ فَأَثْنَوْا عَلَى رَبِّهِمْ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے بعد انبیاء کی ارواح آئیں انہوں نے اپنے رب کی ثناء بیان کی


 قَالَ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا


الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَأَعْطَانِي مُلْكًا عَظِيمًا، وَجَعَلَنِي أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ يُؤْتَمُّ بِي، وَأَنْقَذَنِي مِنَ النَّارِ، وَجَعَلَهَا عَلَيَّ بَرْدًا وَسَلَامًا.

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ جس نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور مجھے عظیم ملک عطا کیا اور مجھے فرمانبردار امت بنایا اور میری اقتداء کی جاتی ہے اور مجھے آگ سے بچایا اور اسے مجھ پر ٹھنڈی سلامتی والی بنایا


قَالَ: ثُمَّ إِنَّ مُوسَى أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد موسی علیہ السلام نے اپنے رب کی ثناء بیان کی


 فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَلَّمَنِي تَكْلِيمًا، وَاصْطَفَانِي بِرِسَالَتِهِ وَكَلِمَاتِهِ، وَقَرَّبَنِي إِلَيْهِ نَجِيًّا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ التَّوْرَاةَ، وَجَعَلَ هَلَاكَ آلِ فِرْعَوْنَ عَلَى يَدَيَّ وَنَجَّى بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى يَدَيَّ.

پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے ہمکلامی کی اور مجھے اپنی رسالت اور کلمات کے ساتھ برگزیدہ کیا سمجھے منتخب فرما کر اپنی طرف قریب کیا اور مجھ پر تورات اتاری اور آل فرعون کی ہلاکت میرے ہاتھوں فرمائی


قَالَ: ثُمَّ إِنَّ دَاوُدَ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے رب کی ثناء بیان کی


فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَوَّلَنِي مُلْكًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الزَّبُورَ، وَأَلَانَ لِيَ الْحَدِيدَ، وَسَخَّرَ لِيَ الطَّيْرَ وَالْجِبَالَ، وَآتَانِيَ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخَطَّابِ

پس حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ملک اور اقتدار عطا کیا اور مجھ پر زبور اتاری اور میرے لیے لوہے کو نرم کیا اور میرے لیے پرندوں اور پہاڑوں کو مسخر کیا اور مجھے حکمت اور فیصلہ کن خطاب دیا 


 ثُمَّ إِنَّ سُلَيْمَانَ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ

پھر اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب کی ثناء بیان کی


 فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَخَّرَ لِيَ: الرِّيَاحَ، وَالْجِنَّ، وَالْإِنْسَ، وَسَخَّرَ لِي الشَّيَاطِينَ: يَعْمَلُونَ مَا شِئْتُ مِنْ مَحَارِيبَ، وَتَمَاثِيلَ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَعَلَّمَنِي مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَكُلَّ شَيْءٍ، وَأَسَالَ لِي عَيْنَ الْقِطْرِ، وَأَعْطَانِي مُلْكًا عَظِيمًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي

پس حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہوا کو میرے لیے مسخر کر دیا اور جنوں اور انسانوں کو مسخر کیا اور میرے لیے شیطانوں کو مسخر کیا میں جو چاہتا تھا وہ تیار کرتے تھے محاریب ہوں یا تماثیل ایک سے آخر تک اور مجھے پرندوں اور ہر شے  کی بولیاں سکھا دیں اور میرے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور مجھے عظیم اقتدار عطا کیا جو میرے بعد کسی کے شایانِ شان نہیں ہے


ثُمَّ إِنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ

پھر اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی ثناء بیان کی


، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَّمَنِي التَّوْرَاةَ، وَالْإِنْجِيلَ، وَجَعَلَنِي أُبْرِئُ الْأَكْمَهَ، وَالْأَبْرَصَ، وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِهِ، وَرَفَعَنِي، وَطَهَّرَنِي مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا، وَأَعَاذَنِي وَأُمِّي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَلَمْ يَكُنْ لِلشَّيْطَانِ عَلَيْهَا سَبِيلٌ

پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے توارۃ اور انجیل سکھائی اور مجھے ایسا بنیا کہ میں مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو درست کر سکتا ہوں اور اس کے حکم کے ساتھ مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جس نے مجھے بلند کیا مجھے رفعت عطا کی اور کافروں سے مجھے پاک کیا اور مجھے اور میری ماں کو شیطان مردود سے پناہ دی کہ اس شیطان کو کوئی چارہ کار نہیں دیا


ثُمَّ إِنَّ مُحَمَّدًا أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ

پھر اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب ثناء بیان کی


 فَقَالَ: كُلُّكُمْ قَدْ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ وَإِنِّي مُثْنٍ عَلَى رَبِّي، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَكَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الْفُرْقَانَ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَجَعَلَ أُمَّتِي خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، وَجَعَلَ أُمَّتِي أُمَّةً وَسَطًا، وَجَعَلَ أُمَّتِي هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ، وَشَرَحَ صَدْرِي، وَوَضَعَ عَنِّي وِزْرِي، وَرَفَعَ لِي ذِكْرِي وَجَعَلَنِي فَاتِحًا وَخَاتَمًا

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں ہر ایک نے اللہ تعالی کی ثناء بیان کی ہے اب میں بھی اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کرتا ہوں پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے رحمۃ للعالمین بنایا اور تمام لوگوں کے لیے خوشخبری اور ڈر سنانے والا بنایا اور مجھ پر فرقان اتاری جس میں ہر چیز کا بیان ہے اور میری امت کو خیر امت بنایا جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے اور میری امت کو اعتدال یا بہترین امت بنایا اور میری امت کو ایسا بنایا کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے اور اس نے میرا سینہ کھولا مجھ سے میرا بوجھ اتارا میرے لیے میرا ذکر بلند کیا مجھے فاتح بنایا اور مجھے خاتم بنایا 


فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: بِهَذَا فَضَلَكُمْ مُحَمَّدٌ

یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ انہیں صفات کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر فضیلت پا گئے 


قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِآنِيَةٍ ثَلَاثَةٍ مُغَطَّاةٍ أَفْوَاهُهَا: فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْهَا فِيهِ مَاءٌ، فَقِيلَ لَهُ: اشْرَبْ فَشَرِبَ مِنْهُ يَسِيرًا، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ آخَرُ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى رَوِيَ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ آخَرُ فِيهِ خَمْرٌ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر اس کے بعد تین برتن لائے گئے جن کے منہ اوپر سے ڈھکے ہوئے تھے تھے ایک برتن لایا گیا اس میں پانی تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ پی لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تھوڑا سا پیا اس کے بعد ان کے پاس دوسرا برتن لایا گیا اس میں دودھ تھا اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب شکم سیر ہو کر پیا اس کے بعد تیسرا برتن ان کے پاس شراب کا لایا گیا 


فَقَالَ: قَدْ رَوِيتُ لَا أُرِيدُهُ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَصَبْتَ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب سیر ہو چکا ہوں میں اس کو نہیں چاہتا ان سے کہا گیا کہ آپ نے درست کیا ہے


، أَمَا إِنَّهَا سَتُحَرَّمُ عَلَى أُمَّتِكَ، وَلَوْ شَرِبْتَ مِنْهَا لَمْ يَتَّبِعْكَ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا قَلِيلًا

خبردار یہ عنقریب آپ کی امت پر حرام ہونے والا ہے اگر آپ اسے پی جاتے تو آپ کی امت آپ کی اتباع نہیں کرتی مگر بہت تھوڑے لوگ


 قَالَ: «ثُمَّ صُعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ» 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر ان کو آسمان پر  چڑھایا گیا 


فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِمَّا رَوَيْنَاهُ فِي الْأَحَادِيثِ السَّابِقَةِ إِلَى أَنْ قَالَ:

پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس کی مثل جیسے ہم نے حدیث سابقہ میں ذکر کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 


«ثُمَّ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ

اس کے بعد مجھے ساتویں آسمان پر چڑھایا گیا پس حضرت جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے دروازہ کھلوایا 


 فَقِيلَ: مَنْ هَذَا

پوچھا گیا کہ یہ کون ہے؟


قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

فرمایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں 


قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟

فرشتوں نے پوچھا کہ کیا یہ یہاں بھیجے گئے ہیں؟


 قَالَ: نَعَمْ

تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں 


قَالُوا: حَيَّاهُ اللهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ، وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَدَخَلَ فَإِذَا بِرَجُلٍ أَشْمَطَ جَالِسٍ عَلَى كُرْسِيٍّ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ بِيضُ الْوجُوهِ وَقَوْمٌ سُودُ الْوجُوهِ، وَفِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ

فرشتوں نے کہا کہ اللہ رب العزت ان کو تحیہ دے بھائی اور خلیفہ سے بہتر بھائی ہے اور بہتر خلیفہ اور اچھی جگہ آیا ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو دیکھا ایک آدمی کنگھی کئے ہوئے کرسی پر بیٹھا ہے جنت کے دروازے کے پاس اس کے پاس سفید چہروں والے کچھ لوگ ہیں اور سیاہ چہرے والے بھی ان کے رنگوں میں کوئی چیز ہے 


 فَأَتَوْا نَهْرًا فَاغْتَسَلُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وَقَدْ خَلَصَ مِنْ أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ، 

بس وہ نہر پر آتے ہیں اور انہوں نے اس میں غسل کیا ہے وہ نکلے ہیں تو ان کے رنگ صاف ہو گئے ہیں 


ثُمَّ إِنَّهُمْ أَتَوْا نَهْرًا آخَرَ فَاغْتَسَلُوا فِيهِ فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَ مِنْ أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ

اس کے بعد وہ ایک اور نہر پر گئے انہوں نے اس نے غسل کیا ہے اس میں سے نکلے ہیں تو ان کے رنگ مزید صاف ہو گئے ہیں 


ثُمَّ دَخَلُوا النَّهْرَ الثَّالِثَ فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَتْ مِنْ أَلْوَانِهِمْ مِثْلُ أَلْوَانِ أَصْحَابِهِمْ، فَجَلَسُوا إِلَى أَصْحَابِهِمْ 

پھر اس کے بعد وہ تیسری نہر میں داخل ہوئے ہیں اور غسل کیا ہے جب نکلے ہیں تو ان کے رنگ صاف رنگ اصحاب کی طرح ہو چکے ہیں لہذا وہ انہیں اصحاب کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں 


فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ! مَنْ هَؤُلَاءِ بِيضُ الْوَجْهِ وَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ  شَيْءٌ فَدَخَلُوا النَّهْرَ [فَخَرَجُوا] وَقَدْ خَلَصَتْ أَلْوَانُهُمْ

پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کون ہیں اے جبرائیل؟  جن کے چہرے سفید ہیں اور یہ جن کے رنگ ٹھیک نہیں ہیں اور وہ نہروں میں داخل ہوتے ہیں پھر نکلتے ہیں تو ان کے رنگ صاف ہو چکے ہوتے ہیں

 

فَقَالَ:هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ هُوَ أَوَّلُ رَجُلٍ شَمِطَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَهَؤُلَاءِ بِيضُ الْوجُوهِ قَوْمٌ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ، قَالَ: وَأَمَّا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شيء: خلطوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا فَتَابُوا فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ

تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ بیٹھے ہوئے آپ کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے یہ پہلے شخص ہیں دھرتی پر جنہوں نے کنگھی کی اور یہ سفید چہروں والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ ادا نہیں کیا تھا بہرحال یہ لوگ جن کے رنگ میں کچھ خرابی ہے وہ جنہوں نے عمل صالح اور برے میں خلط کیا تھا انہوں نے توبہ کی ہے اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی ہے 


فَأَمَّا النَّهْرُ الْأَوَّلُ فَرَحْمَةُ اللهِ

بہر حال رہی یہ نہرِاول تو یہ اللہ کی رحمت کی نہر ہے


وَأَمَّا النَّهْرُ الثَّانِي فَنِعْمَةُ اللهِ

اور دوسری اللہ کی نعمت کی نہر ہے 


وَأَمَّا النَّهْرُ الثَّالِثُ فَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا

اور جو تیسری نہر  وہ نہر ہے جہاں اللہ نے انکو شراب طہور پلایا ہے 


ثُمَّ انْتَهَى إِلَى السِّدْرَةِ [منتھی]

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس کے بعد ہم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے


فَقِيلَ لِي هَذِهِ السِّدْرَةُ إِلَيْهَا مُنْتَهَى كُلِّ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِكَ، وَيَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، وأنهار [من لبن] لم يتغير طعمه، وأنهار من خمر لذة للشاربين، وأنهار مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى

اور مجھے بتایا گیا کہ یہ وہی مخصوص سدرہ ہے ہے اسی طرح ہر ایک کا معاملہ تیری امت میں سے پہنچ کر رک جاتا ہے اس کی جڑ سے پانی کی نہریں نکلتی ہیں جن کا پانی تازہ (غیر متغیر غیربدبودار ) ہے اور دودھ کی نہریں نکلتی ہیں جن کا مزہ نہیں بھرتا اور مزے دار شراب کی نہریں پینے والوں کے لیے اور صاف شدہ شہد کی نہریں نکلتی ہیں


قَالَ: وَهِيَ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي أَصْلِهَا عَامًا لَا يَقْطَعُهَا، وَإِنَّ الْوَرَقَةَ مِنْهَا مُغَطِّيَةُ الْخَلْقِ

فرمایا کہ یہ ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی اس کے سائے میں سال بھر چلتا رہے تو بھی اس کی مسافت کو طے نہیں کر سکتا اور اس کا ایک پتہ ایک مخلوق کو ڈھک سکتا ہے


قَالَ: فَغَشِيَهَا نُورُ الْخَالِقِ، وَغَشِيَهَا الْمَلَائِكَة

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو خالق کا نور چھپا لیتا ہے اور اس کو فرشتے چھپا لیتے ہیں 


فَكَلَّمَهُ رَبُّهُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَهُ: سَلْ

پس ان سے ان کے رب نے اس وقت ہم کلامی کی اللہ تعالی نے ان سے فرمایا کہ کچھ مانگیے


قَالَ: إِنَّكَ اتَّخَذْتَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَأَعْطَيْتَهُ مُلْكًا عَظِيمًا، وَكَلَّمْتَ مُوسَى تَكْلِيمًا، وَأَعْطَيْتَ دَاوُدَ مُلْكًا عَظِيمًا، وَأَلَنْتَ لَهُ الْحَدِيدَ وَسَخَّرْتَ لَهُ الْجِبَالَ، وَأَعْطَيْتَ سُلَيْمَانَ مُلْكًا عَظِيمًا وَسَخَّرْتَ لَهُ الْجِبَالَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَسَخَّرْتَ لَهُ الشَّيَاطِينَ وَالرِّيَاحَ وَأَعْطَيْتَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَعَلَّمْتَ عِيسَى التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَجَعَلْتَهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِكَ وَأَعَذْتَهُ وَأُمَّهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے التجا کی گئی اے میرے رب آپ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور ان کو ملک عظیم عطا کیا اور آپ نے موسی علیہ السلام کے ساتھ ہم کلامی کی کی اور آپ نے داؤد علیہ السلام کو عظیم حکومت عطا کی اور آپ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کے لیے آپ نے پہاڑوں کو مسخر کر دیا اور آپ نے سلیمان علیہ السلام کو ملک عظیم عطا کیا اور ان کے لیے پہاڑوں کو اور جن و انس کو مسخر کر دیا دیا اور ان کے لیے اپنے شیاطین کو اور ہواؤں کو مسخر فرمایا اور ان کو ایسا اقتدار عطا فرمایا جو ان کے بعد کسی کے شایان شان ہی نہیں ہے اور آپ نے عیسی علیہ السلام کو تورات اور انجیل سکھائیں اور ان کو ایسا بنایا کہ مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھی کے مریض کو تندرست کر دیتے تھے تھے اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے آپ کے حکم کے ساتھ اور آپ نے اس کو پناہ دی اور اس کی ماں کو بھی شیاطین سے شیاطین کو ان دونوں پر کوئی چارہ کار نہیں تھا 


فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: قَدِ اتَّخَذْتُكَ خَلِيلًا قَالَ: وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، وَأَرْسَلْتُكَ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وَشَرَحْتُ لَكَ صَدْرَكَ، وَوَضَعْتُ عَنْكَ وِزْرَكَ، وَرَفَعْتُ لَكَ ذِكْرَكَ، فَلَا أُذْكَرُ إِلَّا ذُكِرْتَ مَعِي يَعْنِي بِذَلِكَ الْأَذَانَ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ أُمَّةً وَسَطًا، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ، وَجَعَلْتُ مِنْ أُمَّتِكَ أَقْوَامًا قُلُوبُهُمْ أَنَاجِيلُهُمْ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ لَا تَجُوزُ، عَلَيْهِمْ خُطْبَةٌ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنَّكَ عَبْدِي ورسولي وَجَعَلْتُكَ أَوَّلَ النَّبِيِّينَ خَلْقًا وَآخِرَهُمْ مَبْعَثًا، وَآتَيْتُكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي لَمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ، وَأَعْطَيْتُكَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ وَجَعَلْتُكَ فَاتِحًا وَخَاتَمًا» 

پس ان کے رب نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کو خلیل بنالیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ الرحمن لکھے ہوئے ہیں اور اللہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور میں نے تیرا سینہ کھول دیا ہے اور تیرا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور تیرا ذکر بلند کردیا ہے میرا ذکر اکیلا نہیں ہوتا بلکہ آپ کا ذکر بھی میرے ذکر کے ساتھ ہوتا ہے اس سے آپ کی مراد اذان میں ذکر ہے اور میں نے آپ کی امت کو بہترین امت بنایا جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی اور آپ کی امت کو امت وسط بنایا اور آپ کی امت کو ایسا بنایا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی ہے اور میں نے آپ کی امت کو ایسے لوگ بنایا ہے کہ ان کے دل ان کی اناجیل ہیں اور میں نے آپ کی امت کو ایسا بنایا ہے کہ ان پر کوئی پیغام اثر نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ گواہی دی کہ آپ میرے بندے ہیں اور میرے رسول ہیں اور میں نے آپ کو نبیوں میں سے تخلیق میں اول اور بیست میں آخری بنایا ہے اور میں نے آپ کو سات آیات بار بار پڑھی جانے والی عطا کی ہیں جو کہ میں نے آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیں اور میں نے آپ کو سورہ بقرہ کی آخری آیات عطا کیں ہیں اس خزانے میں سے جو عرش کے نیچے ہیں اور وہ میں نے آپ سے قبل کسی نبی کو عطا نہیں کی ہیں میں نے آپ کو فاتح اور خاتم بنایا ہے


قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عليه وآله وَسَلَّمَ: «فَضَّلَنِي رَبِّي أَرْسَلَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وَكَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وَأَلْقَى فِي قَلْبِ عَدُوِّي الرُّعْبَ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ فَوَاتِيحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي فَلَمْ يَخْفَ عَلَيَّ التَّابِعُ وَالْمَتْبُوعُ 

راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے فضیلت بخشی اس نے مجھے رحمۃاللعالمین بنایا ہے ہے اور سارے لوگوں کے لئے بشیر اور نذیر بنایا ہے ہے اور میرے دشمن کے دل میں مہینے بھر کی مسافت دور سے میرا رعب ڈال دیا ہے اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا ہے جو کہ مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں تھا اور پوری روئے زمین کو میرے لئے مسجد بنا دیا ہے اور پاک بنا دیا ہے اور مجھے کلام کے آغاز دیے گئے ہیں ہیں اور اس کے عمدہ اختتام دیے گئے ہیں ہیں اور جامع کلام دیا گیا ہے ہے اور میری امت مجھ پر پیش کی گئی اس کیفیت کے ساتھ ہاتھ کے مجھ پر کوئی بھی مخفی نہیں رہا نہ تابع (تابعداری کرنے والا) اور نہ متبوع ( وہ جس کی تابعداری کی گئی )


وَرَأَيْتُهُمْ أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ، وَرَأَيْتُهُمْ أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ عِرَاضِ الْوجُوهِ صِغَارِ الْأَعْيُنِ كَأَنَّمَا خُرِمَتْ أَعْيُنُهُمْ بِالْمِخْيَطِ فَلَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَا هُمْ لَاقُونَ مِنْ بَعْدِي، وَأُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى

اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ ایسی قوم پر آئے جو بالوں کی جوتیاں بناتے ہیں ہیں اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ ایسی قوم پر آئے ہیں جن کے چہرے چوڑے ہیں اور آنکھیں چھوٹی ہیں گویا ان کی آنکھیں سوئی کے ساتھ سی دی گئی ہیں مجھ پر مخفی نہیں رہی یہ بات کہ وہ میرے بعد کس چیز سے دوچار ہوں گے اور مجھے پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا اور میں موسی علیہ السلام کے پاس لوٹا 


فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى مَا رُوِّينَا فِي الْأَسَانِيدِ الثَّابِتَةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ: «قَالَ فَقِيلَ لَهُ اصبر على خمس فإنهم يُجْزِينَ عَنْكَ بِخَمْسٍ كُلُّ خَمْسٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، قَالَ: فَكَانَ مُوسَى أَشَدَّ عَلَيْهِمْ حِينَ مَرَّ بِهِ وَخَيْرَهُمْ حين رجع إليه

راوی نے حدیث ذکر کی اس حدیث کے مفہوم کے ساتھ جس کو ہم نے جو آیت کیا ہے ہے آپ کی اسناد و کے ساتھ ہاتھ اس کے علاوہ انہوں نے اس کے آخر میں ذکر کیا ہے کہ ان سے کہا گیا آپ پانچ نمازوں پر صبر کریں بے شک ان کو بدلہ ملے گا تجھ سے پانچ کے بدلے میں میں آپ نے فرمایا کہ موسی علیہ السلام ان پر سخت تھے جب حضور علیہ السلام ان کے پاس سے گزرے اور بہتر بھی تھے سب سے یہاں تک کہ آپ ان کے پاس لوٹے

دلائل النبوۃ للبیہقی جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:397----403 

(مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )


واقعہ معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم









کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

مینیو